🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

356. إِسْلَامُ أَبِي جَنْدَلٍ وَوَفَاتُهُ
سیدنا ابو جندل رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے اور وفات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5290
فقد حدّثَناه أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحَسن، حدثنا الحُسين، حدثنا محمد بن عمر، قال: أبو جَنْدل بن سُهيل بن عَمرو أسلَمَ قديمًا بمكة، فحَبَسه أبوهُ سهيلُ بن عمرو، وأوثَقَه في الحديدِ ومَنَعَه الهجرةَ، فلما نزلَ رسولُ الله ﷺ الحُدَيبِيَة وأتاه سُهيل بن عمرو، فقَاضَاهُ على ما قَاضاه عليه أقبلَ أبو جَنْدل يَرسُفُ في قُيودِه إلى رسول الله ﷺ، فردَّه رسولُ الله ﷺ إلى أبيه؛ لأنَّ الصُّلْح كان بينَهم، ثم أفْلَتَ بعد ذلك فلَحِق بأبي بَصِير، وهو بالعِيْص، وقد تجَمَّع إليه جماعةٌ من المسلمين، وكانوا كلما مَرّت بهم عِيرٌ لقريش اعترَضُوها، فقَتَلُوا مَن قَدَرُوا عليه منهم، وأخَذُوا ما قَدَرُوا عليه من مَتاعِهم، فلم يَزَلْ أبو جَنْدل مع أبي بَصِير، حتى مات أبو بَصير، فقَدِمَ أبو جَنْدل ومن كان معه من المسلمين المدينة على عهدِ رسول الله ﷺ، فلم يَزَلْ يَعْزُو معه ويجاهد بعدَه في سبيل الله، حتى مات بالشام في طاعون عَمَواسَ سنة ثمانَ عشرةَ، في خلافة عُمر بن الخطاب (2) . ذكرُ مناقب الحارث بن هشام المَخزُومي ﵁ -
ابو جندل بن سہیل بن عمرو نے مکہ میں قدیم زمانے میں اسلام قبول کیا تھا، تو ان کے والد سہیل بن عمرو نے انہیں قید کر لیا، بیڑیوں میں جکڑ دیا اور ہجرت سے روک دیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ حدیبیہ پر ٹھہرے اور سہیل بن عمرو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور صلح کے شرائط طے کر لیں تو اسی دوران ابو جندل اپنی بیڑیاں گھسیٹتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے والد کے سپرد کر دیا کیونکہ ان کے درمیان صلح کا معاہدہ ہو چکا تھا، پھر اس کے بعد وہ کسی طرح بچ نکلے اور ابو بصیر سے جا ملے جو اس وقت مقامِ عیص پر تھے، وہاں مسلمانوں کی ایک جماعت ان کے پاس جمع ہو گئی تھی، وہ جب بھی قریش کا کوئی تجارتی قافلہ وہاں سے گزرتا تو اسے روک لیتے، ان میں سے جن پر قابو پاتے انہیں قتل کر دیتے اور ان کا سامانِ تجارت چھین لیتے، ابو جندل مسلسل ابو بصیر کے ساتھ رہے یہاں تک کہ ابو بصیر کی وفات ہو گئی، پھر ابو جندل اور ان کے ساتھ موجود تمام مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مدینہ آ گئے، اس کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوات میں شریک رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی راہِ خدا میں جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں سنہ 18 ہجری میں شام کے طاعونِ عمواس میں ان کی وفات۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5290]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5290] [ترقيم الشركة 5245]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں