🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

357. ذِكْرُ مَنَاقِبِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ الْمَخْزُومِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا حارث بن ہشام مخزومی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — آپ طاعونِ عمواس میں وفات پا گئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5290
فقد حدّثَناه أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحَسن، حدثنا الحُسين، حدثنا محمد بن عمر، قال: أبو جَنْدل بن سُهيل بن عَمرو أسلَمَ قديمًا بمكة، فحَبَسه أبوهُ سهيلُ بن عمرو، وأوثَقَه في الحديدِ ومَنَعَه الهجرةَ، فلما نزلَ رسولُ الله ﷺ الحُدَيبِيَة وأتاه سُهيل بن عمرو، فقَاضَاهُ على ما قَاضاه عليه أقبلَ أبو جَنْدل يَرسُفُ في قُيودِه إلى رسول الله ﷺ، فردَّه رسولُ الله ﷺ إلى أبيه؛ لأنَّ الصُّلْح كان بينَهم، ثم أفْلَتَ بعد ذلك فلَحِق بأبي بَصِير، وهو بالعِيْص، وقد تجَمَّع إليه جماعةٌ من المسلمين، وكانوا كلما مَرّت بهم عِيرٌ لقريش اعترَضُوها، فقَتَلُوا مَن قَدَرُوا عليه منهم، وأخَذُوا ما قَدَرُوا عليه من مَتاعِهم، فلم يَزَلْ أبو جَنْدل مع أبي بَصِير، حتى مات أبو بَصير، فقَدِمَ أبو جَنْدل ومن كان معه من المسلمين المدينة على عهدِ رسول الله ﷺ، فلم يَزَلْ يَعْزُو معه ويجاهد بعدَه في سبيل الله، حتى مات بالشام في طاعون عَمَواسَ سنة ثمانَ عشرةَ، في خلافة عُمر بن الخطاب (2) . ذكرُ مناقب الحارث بن هشام المَخزُومي ﵁ -
محمد بن عمرو کہتے ہیں: ابوجندل بن سہیل بن عمرو بہت پہلے پہل مکہ میں اسلام لے آئے تھے، ان کے والد سہیل بن عمرو نے ان کو لوہے کی زنجیروں میں جکڑ کر رکھا ہوا تھا اور ہجرت سے بھی روک دیا تھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے مقام پر آئے تو سہیل بن عمرو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے ساتھ مذاکرات کئے۔ ابوجندل رضی اللہ عنہ اپنی زنجیروں کو کھینچتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ان کے والد کے ہمراہ واپس بھیج دیا کیونکہ ان کے درمیان صلح کا معاہدہ تھا۔ پھر وہ اپنے والد سے چھوٹ کر مقام عیص میں ابوبصیر کے پاس چلے گئے، اور ابوبصیر کے پاس مسلمانوں کی ایک جماعت جمع ہو چکی تھی اور وہاں سے جب بھی قریش کا کوئی قافلہ گزرتا تو یہ ان کے جتنے لوگوں کو قتل کر سکتے، ان کو قتل کرتے اور ان کا جو کچھ مال و متاع لوٹ سکتے، وہ لوٹ لیتے۔ ابوبصیر کی وفات تک سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ انہی کے پاس رہے، ان کی وفات کے بعد سیدنا ابوجندل اور ان کے ساتھ جتنے بھی مسلمان تھے سب مدینہ میں آ گئے، اس کے بعد یہ مسلسل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد میں شریک ہوتے رہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی جہاد کرتے رہے حتی کہ 18 ہجری کو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں عمواس کے طاعون میں ملک شام میں فوت ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5290]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5291
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، قال: الحارث بن هشام بن المُغيرة بن عبد الله بن عُمر بن مَخزوم.
محمد بن عمر (الواقدی) بیان کرتے ہیں کہ: (یہ تذکرہ ہے) حارث بن ہشام بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم کا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5291]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5292
فحدثني (1) سَلِيط بن مُسلم، عن عبد الله بن عِكرمة، قال: لما كان يومُ الفَتحِ دخَل الحارثُ بن هشام وعبدُ الله بن أبي رَبيعة على أم هانئ بنت أبي طالب، فاستَجَارا بها، فقالا: نحن في جِوارِكِ، فأجارتْهما، فدخل عليهما عليُّ بن أبي طالب، فنظر إليهما، فشَهَرَ عليهما السيفَ، فتفَلَّتَ عليهما، واعتَنقَتْه، وقالت: تصنعُ بي هذا من بين الناس لَتبدَأنّ بي قَبلَهما، فقال: تُجِيرين المشركين؟! فخرج، قالت أم هانئ: فأتيتُ رسولَ الله ﷺ فقلتُ: يا رسول الله، ما لقيتُ من ابن أُمِّي عليَّ، ما كِدتُ أُفلِتُ منه؛ أجَرْتُ حَمَوينِ لي من المشركين، فتفلَّتَ عليهما ليقتُلَهما، فقال رسول الله ﷺ:"ما كان ذلك له، قد أَجَرْنا مَن أجرتِ، وأَمَّنا مَن أُمَّنْتِ" فرجعتْ إليهما فأخبرتْهُما، فانصرفا إلى منازِلهما، فقيل لرسول الله ﷺ: الحارثُ بنُ هشام وعبد الله بنُ أبي رَبيعة جالسان في نادِيهِما مُفتَضِلَين (1) في المُلاء المزَعْفَر، فقال رسول الله ﷺ:"لا سبيلَ إليهما، قد أمَّناهما". قال الحارث بن هشام: وجعلتُ استَحْيي أن يَراني رسولُ الله ﷺ وأُنكِرُ رؤيتَه إيّاي في كل مَوطِن مع المشركين، ثم أذكر بِرَّه ورحمته، فألقاهُ وهو داخلٌ المسجدَ فتلَقَّاني بالبِشْر، ووقف حتى جئتُه، فسلَّمتُ عليه وشَهِدتُ شهادةَ الحقِّ، فقال:"الحمدُ لله الذي هداك، ما كان مِثلُك يَجهَلُ الإسلامَ". قال الحارث: فوالله ما رأيتُ مثلَ الإسلامِ جُهِلَ (2) .
عبداللہ بن عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن حارث بن ہشام اور عبداللہ بن ابی ربیعہ، سیدہ امِ ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے پناہ مانگی۔ انہوں نے کہا: ہم آپ کی پناہ میں ہیں، تو انہوں نے انہیں پناہ دے دی۔ اتنے میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ان کے پاس داخل ہوئے، انہیں دیکھا تو اپنی تلوار میان سے نکال لی اور ان پر حملہ کرنے لگے، مگر امِ ہانی ان کے سامنے آ گئیں اور انہیں لپٹ کر روک لیا۔ انہوں نے کہا: آپ سب لوگوں کے سامنے میرے ساتھ ایسا کر رہے ہیں؟ (اگر آپ نے انہیں قتل کرنا ہے) تو پہلے مجھ سے آغاز کرنا ہوگا۔ سیدنا علی نے فرمایا: کیا تم مشرکوں کو پناہ دیتی ہو؟ پھر وہ وہاں سے نکل گئے۔ امِ ہانی کہتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اپنے بھائی علی سے سخت شکایت ہے، میں ان سے بچ کر مشکل سے نکل پائی ہوں؛ میں نے اپنے دو سسرالی رشتہ دار مشرکوں کو پناہ دی تھی، مگر وہ انہیں قتل کرنے کے لیے ان پر ٹوٹ پڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی کو ایسا کرنے کا حق نہیں تھا، جسے تم نے پناہ دی ہم نے بھی اسے پناہ دی، اور جسے تم نے امان دی ہم نے بھی اسے امان دی۔ چنانچہ میں ان کے پاس واپس آئی اور انہیں خوشخبری دی، تو وہ اپنے گھروں کو چلے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ حارث بن ہشام اور عبداللہ بن ابی ربیعہ اپنی مجلس میں زعفرانی رنگ کے لباس پہنے اطمینان سے بیٹھے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے خلاف کوئی راستہ نہیں، ہم انہیں امان دے چکے ہیں۔ حارث بن ہشام کہتے ہیں کہ: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرم محسوس کرنے لگا تھا، کیونکہ مجھے وہ تمام مقامات یاد آ رہے تھے جہاں میں مشرکین کے ساتھ تھا اور آپ نے مجھے دیکھا تھا، پھر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت اور رحمت یاد آئی۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہو رہے تھے تو میں آپ سے ملا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراہٹ کے ساتھ میرا استقبال کیا اور جب تک میں آپ کے پاس آ نہ گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں رک گئے، میں نے سلام کیا اور حق کی گواہی (کلمہ) پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے تمہیں ہدایت دی، تم جیسا شخص اسلام (کی سچائی) سے ناواقف نہیں رہ سکتا تھا۔ حارث کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے اسلام جیسی کسی شے کو نہیں دیکھا جس سے لوگ ناواقف رہ سکیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5292]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5292M1
قال ابن عمر: وحدثني الضّحّاك بن عثمان، أخبرني عبد الله بن عُبيد بن عُمير، سمعت عبد الرحمن بن الحارث بن هشام يحدِّث عن أبيه، قال: رأيتُ رسول الله ﷺ في حَجَّته وهو واقفٌ على راحلتِه، وهو يقول:"والله إنك لخَيرُ الأرض، وأحبُّ الأرض إلى الله، ولولا أني أُخرِجتُ منكِ ما خَرَجتُ"، قال: فقلتُ: يَا لَيتَنا لم نَفعَلْ، فارجِع إليها، فإنها مُنْيتُك ومَولدُك، فقال رسول الله ﷺ:"إني سألتُ ربّي ﷿، فقلتُ: اللهمّ إنك أخرجْتَني من أحبِّ أرضِك إليَّ، فأنزِلْني أحبَّ أرضِك إليكَ، فأنزَلَني المدينةَ" (1) .
حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حج (حجۃ الوداع) کے موقع پر دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار فرما رہے تھے: خدا کی قسم! (اے مکہ) تو زمین کا بہترین اور اللہ کے نزدیک سب سے محبوب ٹکڑا ہے، اگر مجھے تجھ سے نکالا نہ جاتا تو میں کبھی نہ نکلتا۔ میں نے (دل میں) کہا: کاش ہم ایسا کر سکیں، آپ اس کی طرف واپس لوٹ آئیں، یہ آپ کی جائے پیدائش اور مقامِ نشوونما ہے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک میں نے اپنے رب عزوجل سے عرض کی تھی: اے اللہ! تو نے مجھے اپنی زمین کے اس حصے سے نکالا ہے جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، اب مجھے اپنی زمین کے اس حصے میں بسا دے جو تجھے سب سے زیادہ محبوب ہے، تو اللہ نے مجھے مدینہ میں بسا دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5292M1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5292M2
قال ابن عُمر: ولم يزل الحارث مقيمًا بمكة بعد أن أسلم، حتى تُوفِّي رسولُ الله ﷺ، فلما جاء كتابُ أبي بكر الصديق يَستنفِرُ المسلمين إلى غَزْوِ الروم قَدِم الحارثُ بن هشام وعِكْرمةُ بن أبي جهل وسهيلُ بن عمرو على أبي بكر المدينة، فأتاهم في مَنازلِهم فرحَّب بهم، وسلَّم عليهم، وسُرَّ بمَكانِهم، ثم خَرجُوا مع المسلمين غُزاةً إلى الشام، فشهد الحارثُ بن هشام فِحْلَ وأجْنادِينَ، ومات بالشام في طاعون عَمَواس سنة ثمانَ عشرةَ، فَخَلَفَ عمرُ بنُ الخطاب على امرأتِه فاطمة بنت الوليد بن المغيرة، وهي أم عبد الله بن الحارث، وكان عبد الرحمن يقول: ما رأيتُ ربيبًا خيرًا من عمر بن الخطاب، وكان عبد الرحمن بن الحارث بن هشام من أشرافِ قُريش (2) .
ابن عمر (الواقدی) بیان کرتے ہیں کہ: حارث بن ہشام اسلام لانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک مکہ ہی میں مقیم رہے۔ جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا خط پہنچا جس میں مسلمانوں کو رومیوں سے جنگ کے لیے بلایا گیا تھا، تو حارث بن ہشام، عکرمہ بن ابی جہل اور سہیل بن ابی عمرو مدینہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ آپ رضی اللہ عنہ ان کی قیام گاہوں پر تشریف لائے، انہیں خوش آمدید کہا، سلام کیا اور ان کی آمد پر خوشی کا اظہار کیا۔ پھر وہ مسلمانوں کے ساتھ شام کی فتوحات کے لیے نکلے۔ حارث بن ہشام جنگِ فحل اور اجنادین میں شریک ہوئے اور سن 18 ہجری میں شام میں طاعونِ عمواس میں وفات پائی۔ ان کے بعد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی اہلیہ فاطمہ بنت ولید بن مغیرہ سے نکاح کیا، جو عبداللہ بن حارث کی والدہ تھیں۔ (ان کے بیٹے) عبدالرحمن کہا کرتے تھے کہ: میں نے عمر بن خطاب سے بہتر کوئی سوتیلا باپ (ربیب) نہیں دیکھا۔ اور عبدالرحمن بن حارث قریش کے اشراف میں سے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5292M2]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5293
أخبرني الحسن بن حَلِيم الدهقان بمَرُو، حدثنا محمد بن عمرو الفَزَاري، أخبرنا عَبْدان بن عُثمان، أخبرنا عبد الله بن المبارك، أخبرنا الأسود بن شَيبان، عن أبي نَوفَل بن أبي عَقْربٍ، قال: خرج الحارثُ بن هشام من مكة، فجَزعَ أهلُ مكة جزعًا شديدًا، ولم يَبْقَ أحدٌ إِلَّا خرج يُشيِّعه، حتى إذا كان بأعلى صُوَى (1) البطحاء، أو حيثُ شاء الله من ذلك، وقف ووقف الناسُ حولَه يبكون، فلما رأى جزعَ الناسِ، قال: يا أيُّها الناسُ، ما خرجتُ رغبةً بنفسي عن أنفُسِكم، ولا اختيارَ بلدٍ على بلدِكم، ولكن هذا الأمرَ قد كان خرج فيه رجالٌ من قريش، والله ما كانوا من ذوي أنسابِها، ولكن من بُيوتاتِها (2) ، فأصبحتُ واللهِ لو أنَّ جِبالَ مكةَ ذهبًا فأَنفقْنا (3) في سبيل الله، ما أدرَكْنا من أيامِهم، وايْمُ اللهِ لئن بايَنُونا في الدنيا، لَنلْتمِسُ أن تُشارِكَهم في الأَجْر، فاتقى الله امرؤٌ خَرَج غازيًا (4) إلى الشام، فأُصيبَ شهيدًا (5) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5211 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابونوفل بن ابوعقرب فرماتے ہیں: سیدنا حارث بن ہشام مکہ سے جب نکلے تو اہل مکہ بہت زیادہ رونے دھونے لگ گئے، اور ہر شخص ان کو الوداع کرنے کے لئے مکہ سے باہر آیا اور جب بطحاء کی بلندی پر پہنچے یا جہاں انہوں نے چاہا تو وہ رک گئے اور تمام لوگ آپ کے اردگرد جمع ہو کر رونے لگ گئے۔ جب انہوں نے لوگوں کی یہ گریہ زاری دیکھی تو فرمایا: اے لوگو! تمہیں چھوڑ کر جانے میں میرے دل کی خوشی شامل نہیں ہے اور نہ ہی یہ بات ہے کہ میں نے تمہارے شہر سے بڑھ کر کسی اور شہر کو سمجھ لیا ہے۔ لیکن (یہ حکم ہے) اور یہ ہو کر ہی رہے گا، ان میں بہت سارے قریشی لوگ بھی موجود تھے جو کہ نہ تو ان کے نسبی رشتہ دار تھے اور نہ پڑوسی تھے (وہ کہنے لگے) خدا کی قسم! اگر مکہ کے تمام پہاڑ سونا بن جائیں اور ہم وہ تمام راہ خدا میں خرچ کر ڈالیں تب بھی ہم ان کے دنوں جیسا ایک دن بھی نہیں پا سکتے۔ خدا کی قسم اگر یہ لوگ دنیا میں ہم سے جدا ہو رہے ہیں تو ہم آخرت میں ان کے ساتھ شریک ہوں گے۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتا ہوں کہ وہ مجھے مرتبہ شہادت سے سرفراز فرمائے۔ چنانچہ وہ شام کی جانب مجاہد بن کر گئے اور مقام شہادت پایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5293]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5294
حدثنا أبو عمر محمد بن عبد الواحد الزاهد صاحب ثَعلَب، حدثنا الحسن بن عُلَيل (6) العَنَزي، حدثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري، عن أبيه، قال: كان الحارثُ بنُ هشامٍ ممَّن شهد بدرًا مع المشركين، فانهزم فيمن انْهزَم، فعيَّره حسانُ بن ثابت، فقال: إن كنتِ كاذبةَ الذي حدَّثْتِني … فنَجَوتِ مَنْجَى الحارثِ بن هشامِ تَرَكَ الأحِبّةَ أن يُقاتلَ دُونَهمْ … ونَجَا برأسِ طِمِرَّةٍ ولِجَامِ فقال الحارث بن هشام يَعتذِر من فِرارِه يومَئِذٍ: اللهُ يَعلَمُ ما تركتُ قتالَهمْ … حتى رَمَوْا فَرَسي بأشقرَ مُزبِدِ فعلمتُ أني إنْ أُقاتِلْ واحدًا … أُقتَل، ولا يَنْكَأْ عَدُوِّيَ مَشْهَدي فصَدَرتُ عنهم والأحِبَّةُ بينَهُمْ … طَمَعًا لهم بعِقابِ يومٍ مُفسدِ ثم غزا أُحُدًا مع المشركين، ولم يزَلْ مُتمسّكًا بالشَّرك حتى أسلمَ يوم فتح مكة (1) . قد روت عائشةُ عن الحارث:
مصعب بن عبداللہ زبیری اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ جنگ بدر میں مشرکوں کی جانب سے شریک ہوئے تھے اور شکست خوردہ لوگوں میں شریک تھے۔ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ان کو شرم دلاتے ہوئے فرمایا: إِنْ كُنْتِ كَاذِبَةَ الَّذِي حَدَّثْتِنِي ... فَنَجَوْتُ مَنْجَى الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ تَرَكَ الْأَحِبَّةَ أَنْ يُقَاتِلَ دُونَهُمْ ... وَنَجَا بِرَأْسِ طَمْرَةَ وَلِجَامِ * اگر میں اپنی کہی ہوئی بات میں جھوٹا ہوں تو میں حارث بن ہشام کی طرح نجات پانے والا ہوں۔ * کہ اس نے دوستوں کے ہمراہ جنگ نہ کی اور اس نے نادانی اور بدشگونی کی بنیاد پر نجات پائی۔ * اس دن کے فرار سے معذرت کرتے ہوئے حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَرَكْتُ قِتَالَهُمْ ... حَتَّى رَمَوْا فَرَسِي بِأَشْقَرَ مُزْبَدِ فَعَلِمْتُ أَنِّي إِنْ أُقَاتِلْ وَاحِدًا ... أُقْتَلْ وَلَا يَنْكَأُ عَدُوِّي مَشْهَدِ فَصَدَفْتُ عَنْهُمْ وَالْأَحِبَّةُ بَيْنَهُمْ ... طَمَعًا لَهُمْ بِعِقَابٍ يَوْمَ مَرْصَدِ * اللہ جانتا ہے کہ میں نے ان کے ہمراہ قتال چھوڑا نہیں حتی کہ میرا گھوڑا شدید زخمی ہو گیا۔ * مجھے یقین ہو گیا تھا کہ اگر میں اکیلا لڑوں گا تو مارا جاؤں گا لیکن میں دشمن کا بال بھی بیکا نہیں کر سکوں گا۔ * تو میں نے ان سے منہ موڑ لیا حالانکہ میرے تمام یار دوست انہیں میں تھے۔ جنگ کے دن ان کی سزا کی طمع کرتے ہوئے۔ اس کے بعد غزوہ احد بھی انہوں نے مشرکوں کی جانب سے لڑا اور مسلسل مشرک ہی رہے حتی کہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے۔ ٭٭ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حارث رضی اللہ عنہ سے احادیث روایت کی ہیں۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5294]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں