المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
405. شَهَادَةُ رُبَاعِيَتِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ أُحُدٍ
غزوۂ اُحد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دندانِ مبارک کے شہید ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 5391
أخبرني أبو نصر محمد بن أحمد بن عمر الخَفّاف، حدَّثنا محمد بن المُنذر بن سعيد الهَرَوي، حدَّثنا أبو الزُّبير علي بن الحسن بن علي بن مُسلم المكِّي، قال: حدثني هارون بن يحيى بن هارون بن عبد الرحمن بن حاطِب بن أبي بَلْتَعة المدني، قال: حدثني أبو رَبيعة الحَرّاني، عن عبد الحميد بن أبي أنس، عن صفوان بن سُلَيم، عن أنس بن مالك، أنه سمع حاطِبَ بن أبي بَلْتَعة، يقول: إنه طَلَعَ على النبي ﷺ بأُحُدٍ وهو يَشتدُّ، وفي يد علي بن أبي طالب الترسُ فيه ماءٌ، ورسول الله ﷺ يَغسِلُ وجهَه من ذلك الماء، فقال له حاطِبٌ: مَن فعل بك هذا؟ قال:"عُتْبة بن أبي وقاص، هَشَمَ وجهي، ودَقَّ رَبَاعِيَتي بحَجَرِ رَمَاني" قلت: إني سمعتُ صائحًا يَصِيح على الجبل: قُتل محمدٌ، فأتيتُ إليك، وكأنْ قد ذهبَتْ رُوحي، قلت: أين تَوجَّه عتبةُ؟ فأشار إلى حيثُ تَوجَّه، فمضيتُ حتى ظَفِرتُ به، فضربتُه بالسيفِ فطرحتُ رأسَه، فهبطتُ فأخذتُ رأسَه وسَلَبَه وفرسَه، وجئتُ به إلى النبي ﷺ، فسَلَّم ذلك إليَّ ودعا لي، فقال:"رضيَ الله عنك، رضيَ الله عنك" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5307 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5307 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ غزوہ احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت پہنچے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (زخموں کی وجہ سے) شدید تکلیف میں تھے، اس وقت سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ایک ڈھال تھی جس میں پانی تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پانی سے اپنا چہرہ مبارک دھو رہے تھے، سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آپ کے ساتھ یہ (سلوک) کس نے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عتبہ بن ابی وقاص نے، اس نے مجھ پر پتھر مارا جس سے میرا چہرہ زخمی ہو گیا اور میرا سامنے والا دانت ٹوٹ گیا۔“ حاطب کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: میں نے پہاڑ پر ایک پکارنے والے کو یہ پکارتے ہوئے سنا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) شہید کر دیے گئے ہیں، تو میں (بے قراری میں) آپ کی طرف بھاگا اور (خوف کے مارے) ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میری روح نکل گئی ہو، پھر میں نے پوچھا: عتبہ کس طرف گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سمت اشارہ فرمایا جہاں وہ گیا تھا، چنانچہ میں اس کے پیچھے گیا یہاں تک کہ میں نے اسے پا لیا، پھر میں نے تلوار کے وار سے اس کا سر قلم کر دیا، پھر میں نیچے اترا اور اس کا سر، سامان اور گھوڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تمام سامان مجھے ہی عطا فرما دیا اور میرے لیے دعا کرتے ہوئے فرمایا: «رَضِيَ اللهُ عَنْكَ، رَضِيَ اللهُ عَنْكَ» ”اللہ تجھ سے راضی ہو، اللہ تجھ سے راضی ہو۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5391]
تخریج الحدیث: «إسناده مُظلم كما قال الذهبي في "سير أعلام النبلاء" 2/ 44، وذلك لجهالة مَن بين محمد بن المنذر الهروي وصفوان بن سُليم، وقال ابن حجر في "الإصابة" 5/ 259: إسنادٌ فيه مجاهيل.» [ترقيم الرساله 5391] [ترقيم الشركة 5345] [ترقيم العلميه 5307]
الحكم على الحديث: إسناده مُظلم كما قال الذهبي في "سير أعلام النبلاء" 2/ 44