🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

406. حَاطِبٌ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ
سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کا بدر اور حدیبیہ میں شریک ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5391
أخبرني أبو نصر محمد بن أحمد بن عمر الخَفّاف، حدَّثنا محمد بن المُنذر بن سعيد الهَرَوي، حدَّثنا أبو الزُّبير علي بن الحسن بن علي بن مُسلم المكِّي، قال: حدثني هارون بن يحيى بن هارون بن عبد الرحمن بن حاطِب بن أبي بَلْتَعة المدني، قال: حدثني أبو رَبيعة الحَرّاني، عن عبد الحميد بن أبي أنس، عن صفوان بن سُلَيم، عن أنس بن مالك، أنه سمع حاطِبَ بن أبي بَلْتَعة، يقول: إنه طَلَعَ على النبي ﷺ بأُحُدٍ وهو يَشتدُّ، وفي يد علي بن أبي طالب الترسُ فيه ماءٌ، ورسول الله ﷺ يَغسِلُ وجهَه من ذلك الماء، فقال له حاطِبٌ: مَن فعل بك هذا؟ قال:"عُتْبة بن أبي وقاص، هَشَمَ وجهي، ودَقَّ رَبَاعِيَتي بحَجَرِ رَمَاني" قلت: إني سمعتُ صائحًا يَصِيح على الجبل: قُتل محمدٌ، فأتيتُ إليك، وكأنْ قد ذهبَتْ رُوحي، قلت: أين تَوجَّه عتبةُ؟ فأشار إلى حيثُ تَوجَّه، فمضيتُ حتى ظَفِرتُ به، فضربتُه بالسيفِ فطرحتُ رأسَه، فهبطتُ فأخذتُ رأسَه وسَلَبَه وفرسَه، وجئتُ به إلى النبي ﷺ، فسَلَّم ذلك إليَّ ودعا لي، فقال:"رضيَ الله عنك، رضيَ الله عنك" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5307 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حاطب بن ابي بلتعہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ جنگ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہو چکے تھے، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ایک ڈھال تھی جس میں پانی بھرا ہوا تھا، رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اس پانی کے ساتھ اپنا چہرہ مبارک دھو رہے تھے، سیدنا حاطب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کے ساتھ یہ سلوک کس نے کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عتبہ بن ابی وقاص نے میرے چہرے کو زخمی کر دیا ہے اور اس نے جو پتھر مارا ہے اس کی وجہ سے میرے دو دانت ٹوٹ گئے ہیں۔ میں نے کہا: میں نے ایک آدمی کی آواز سنی ہے وہ پہاڑ کی جانب سے چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کر دیا گیا ہے۔ میں تو آپ کی جانب چلا آیا ہوں، لیکن وہ اعلان سن کر ایک مرتبہ تو میری جان نکل گئی تھی۔ میں نے پوچھا کہ عتبہ کس سمت میں گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے مجھے بتا دیا۔ میں نے اس کا پیچھا کیا اور میں اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا، میں نے اس پر تلوار کا وار کیا اور اس کا سر تن سے جدا کر کے پھینک دیا پھر میں اس کے ہتھیار اور سر وغیرہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہتھیار وغیرہ مجھے ہی عطا فرما دیئے اور میرے لئے دو مرتبہ یہ دعا فرمائی رضی اللہ عنک الله تعالیٰ تجھ پر راضی ہو جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5391]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں