المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
423. مُشَاوَرَةُ عُمَرَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي الْفُتْيَا وَإِيَّاكَ وَعَثْرَةَ الشَّبَابِ
فتویٰ کے معاملے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مشورہ کرنا، اور نوجوانی کی لغزش سے بچنے کی نصیحت
حدیث نمبر: 5437M
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا إبراهيم بن سليمان البُرُلُّسِي، حدَّثنا عبد العزيز بن عبد الله الأُوَيسي، حدثني إبراهيم بن سعد، عن صالح بن كَيسان، عن ابن شِهاب، عن سالم، قال: قلتُ لعبد الله بن عمر (2) .
سالم بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5437M]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5437M] [ترقيم الشركة 5393]
حدیث نمبر: 5438
وأخبرني أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة، حدَّثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمرَ، عن عبد الملك بن عُمير، عن قَبِيصة بن جابر الأسدي، قال: كنت مُحرِمًا فرأيتُ ظَبْيًا، فرميتُه فأصبتُ خُشَشَاءَهُ - يعني أصلَ قَرْنِه - فمات، فوَقَعَ في نفسي من ذلك، فأتيتُ عُمر بن الخطاب أسألُه، فوجدتُ إلى جَنْبِه رجلًا أبيضَ رقيقَ الوجه، فإذا هو عبد الرحمن بن عوف، فسألت عمرَ، فالتفَتَ إلى عبد الرحمن فقال: ترى شاةً تكفيه؟ قال: نعم، فأمرني أن أذبَحَ شاةً، فلما قُمْنا من عنده، قال صاحبٌ لي: إنَّ أمير المؤمنين لم يُحسِنُ أن يُفتِيَك حتى سأل الرجلَ، فسمع عمرُ بعضَ كلامِه، فعَلَاهُ عمرُ بالدِّرَّة ضربًا، ثم أقبل عليَّ لِيضْرِبَني، فقلتُ: يا أمير المؤمنين، إني لم أقُلْ شيئًا، إنما هو قالَه، قال: فتركَني، ثم قال: أردتَ أن تقتُلَ الحرامَ، وتتعدّى الفُتْيا؟! ثم قال أمير المؤمنين: إنَّ في الإنسان عشرةَ أخلاقٍ، تسعةٌ حسنةً، وواحدٌ سيِّئ، ويُفسِدُها ذلك السيِّئُ، ثم قال: إياكَ وعَثْرة (1) الشَّباب (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5355 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5355 - على شرط البخاري ومسلم
قبیصہ بن جابر اسدی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں (حالتِ احرام میں) مُحرم تھا کہ میں نے ایک ہرن دیکھا، میں نے اسے (پتھر یا تیر) مارا جو اس کے سینگ کی جڑ میں لگا اور وہ مر گیا، میرے دل میں اس بارے میں کھٹک پیدا ہوئی تو میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس مسئلہ پوچھنے کے لیے آیا، میں نے ان کے پہلو میں ایک سفید رنگت اور نرم چہرے والے شخص کو بیٹھے ہوئے پایا اور وہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے، میں نے سیدنا عمر سے سوال کیا تو وہ عبد الرحمن کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: ”کیا آپ کے خیال میں اس کے لیے ایک بکری (کفارہ) کافی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں“، تو انہوں نے مجھے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیا، جب ہم ان کے پاس سے اٹھے تو میرے ایک ساتھی نے کہا: ”امیر المؤمنین تمہیں خود فتویٰ نہ دے سکے یہاں تک کہ اس شخص سے پوچھا“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی بات کا کچھ حصہ سن لیا تو انہوں نے درے سے اس کی خوب پٹائی کی، پھر وہ میری طرف مجھے مارنے کے لیے بڑھے تو میں نے عرض کی: ”اے امیر المؤمنین! میں نے کچھ نہیں کہا، یہ بات اس نے کہی ہے“، تو انہوں نے مجھے چھوڑ دیا، پھر فرمایا: ”تم نے حرم میں شکار کیا اور اب فتوے پر اعتراض کرتے ہو؟!“ پھر امیر المؤمنین نے فرمایا: ”انسان میں دس خصلتیں ہوتی ہیں جن میں سے نو اچھی اور ایک بری ہوتی ہے اور وہ ایک بری خصلت باقی سب کو برباد کر دیتی ہے“، پھر فرمایا: ”تم نوجوانوں کی لغزشوں سے بچو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5438]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5438]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وهو في "مصنف عبد الرزاق" (8239).» [ترقيم الرساله 5438] [ترقيم الشركة 5394] [ترقيم العلميه 5355]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح