المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
424. دعاء عائشة لابن عوف على صلته
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے لیے ان کی صلہ رحمی پر دعا
حدیث نمبر: 5438
وأخبرني أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة، حدَّثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمرَ، عن عبد الملك بن عُمير، عن قَبِيصة بن جابر الأسدي، قال: كنت مُحرِمًا فرأيتُ ظَبْيًا، فرميتُه فأصبتُ خُشَشَاءَهُ - يعني أصلَ قَرْنِه - فمات، فوَقَعَ في نفسي من ذلك، فأتيتُ عُمر بن الخطاب أسألُه، فوجدتُ إلى جَنْبِه رجلًا أبيضَ رقيقَ الوجه، فإذا هو عبد الرحمن بن عوف، فسألت عمرَ، فالتفَتَ إلى عبد الرحمن فقال: ترى شاةً تكفيه؟ قال: نعم، فأمرني أن أذبَحَ شاةً، فلما قُمْنا من عنده، قال صاحبٌ لي: إنَّ أمير المؤمنين لم يُحسِنُ أن يُفتِيَك حتى سأل الرجلَ، فسمع عمرُ بعضَ كلامِه، فعَلَاهُ عمرُ بالدِّرَّة ضربًا، ثم أقبل عليَّ لِيضْرِبَني، فقلتُ: يا أمير المؤمنين، إني لم أقُلْ شيئًا، إنما هو قالَه، قال: فتركَني، ثم قال: أردتَ أن تقتُلَ الحرامَ، وتتعدّى الفُتْيا؟! ثم قال أمير المؤمنين: إنَّ في الإنسان عشرةَ أخلاقٍ، تسعةٌ حسنةً، وواحدٌ سيِّئ، ويُفسِدُها ذلك السيِّئُ، ثم قال: إياكَ وعَثْرة (1) الشَّباب (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5355 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5355 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا قبیصہ بن جابر الاسدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں حالت احرام میں تھا، میں نے ایک ہرن دیکھا، اس پر تیر چلا دیا اور تیر ٹھیک نشانے پر جا لگا۔ جس کی وجہ سے ہرن ہلاک ہو گیا۔ میرے دل میں اس کی خلش پیدا ہوئی۔ میں یہ مسئلہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پوچھنے آیا۔ میں نے ان کے پہلو میں ایک سفید رنگ کے بزرگ بیٹھے ہوئے دیکھے جن کا چہرا دبلا پتلا تھا، وہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے ان کو ایک بکری کفایت کرے گی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم دیا کہ میں ایک بکری ذبح کر دوں۔ جب ہم ان کے پاس سے اٹھ کر آنے لگے تو میرے ساتھی نے کہا: امیرالمومنین نے اچھا نہیں کیا کہ پہلے ایک آدمی سے پوچھا پھر تمہیں فتویٰ دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی اس سرگوشی کو سن لیا، آپ نے اس کو ایک درہ لگایا۔ پھر مجھے بھی مارنے لگے تو میں نے کہا: اے امیرالمومنین! میں نے تو کچھ نہیں کہا۔ جو کچھ کہا ہے اسی نے کہا ہے۔ سیدنا قبیصہ کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے چھوڑ دیا۔ پھر میں نے سوچا کہ فتویٰ کی پرواہ کئے بغیر حرام چیزوں کو قتل کروں۔ پھر امیرالمومنین نے کہا: انسان میں دس خصلتیں ہوں، ان میں سے نو خصلتیں اچھی اور ایک بری ہو تو وہی ایک بری خصلت انسان کو برباد کر دیتی ہے۔ پھر فرمایا: جوانی کی لغزشوں سے بچ کر رہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5438]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5438 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ الخطية: وعشرة، والمثبت من "تلخيص المستدرك" وهو الموافق لرواية البيهقي في "سننه الكبرى" 5/ 181 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد، وهو في "مصنف عبد الرزاق" (8239).
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں لفظ "و عشرۃ" (اور دس) لکھا ہے، جبکہ درست لفظ وہ ہے جو ہم نے "تلخیص المستدرک" سے ثابت کیا ہے۔ یہی لفظ بیہقی کی "سنن کبریٰ" (5/ 181) میں ابوعبداللہ الحاکم کی روایت سے اور "مصنف عبدالرزاق" (8239) میں موافق ہے۔
(2) إسناده صحيح. وهو في "مصنف عبد الرزاق" (8239).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت "مصنف عبدالرزاق" (8239) میں موجود ہے۔
وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" 5/ 181، وفي "الصغرى" (1571)، ومن طريقه ابن عساكر 49/ 246 - 247 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "السنن الکبریٰ" (5/ 181) اور "السنن الصغریٰ" (1571) میں، اور ان کے واسطے سے ابن عساکر نے (49/ 246 - 247) ابوعبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (258)، وعنه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (458) عن إسحاق بن إبراهيم الدَّبَري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "المعجم الکبیر" (258) میں اور ان سے ابونعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (458) میں اسحاق بن ابراہیم الدبری کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه عبد الرزاق (8240)، وأبو عُبيد في "غريب الحديث" 3/ 362، والطبري في "تفسيره" 7/ 45 و 48، والطحاوي في "أحكام القرآن" (1716) و (1717)، وابن أبي حاتم الرازي في "تفسيره" 4/ 1206، والطبراني في "الكبير" (259)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (459)، والبيهقي في "الكبرى" 5/ 181، وابن عساكر 49/ 242 و 242 - 244 و 244 - 245 و 245 - 246 من طرق عن عبد الملك بن عُمير، به. وبعضهم لا يُصرّح باسم عبد الرحمن بن عوف في الخبر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی مفہوم کے ساتھ عبدالرزاق (8240)، ابوعبید نے "غریب الحدیث" (3/ 362)، طبری نے اپنی "تفسیر" (7/ 45 و 48)، طحاوی نے "احکام القرآن" (1716, 1717)، ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" (4/ 1206)، طبرانی نے "الکبیر" (259)، ابونعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (459)، بیہقی نے "الکبریٰ" (5/ 181) اور ابن عساکر (49/ 242 تا 246) نے عبدالملک بن عمیر کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ان میں سے بعض روایات میں عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے نام کی صراحت نہیں ہے۔
وأخرجه بنحوه الطبري 7/ 45 و 48 من طريق الشَّعبي، عن قبيصة بن جابر، به.
📖 حوالہ / مصدر: طبری (7/ 45 و 48) نے اسے امام شعبی کے واسطے سے قبیصہ بن جابر سے اسی طرح روایت کیا ہے۔