🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

424. دُعَاءُ عَائِشَةَ لِابْنِ عَوْفٍ عَلَى صِلَتِهِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے لیے ان کی صلہ رحمی پر دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5438
وأخبرني أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة، حدَّثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمرَ، عن عبد الملك بن عُمير، عن قَبِيصة بن جابر الأسدي، قال: كنت مُحرِمًا فرأيتُ ظَبْيًا، فرميتُه فأصبتُ خُشَشَاءَهُ - يعني أصلَ قَرْنِه - فمات، فوَقَعَ في نفسي من ذلك، فأتيتُ عُمر بن الخطاب أسألُه، فوجدتُ إلى جَنْبِه رجلًا أبيضَ رقيقَ الوجه، فإذا هو عبد الرحمن بن عوف، فسألت عمرَ، فالتفَتَ إلى عبد الرحمن فقال: ترى شاةً تكفيه؟ قال: نعم، فأمرني أن أذبَحَ شاةً، فلما قُمْنا من عنده، قال صاحبٌ لي: إنَّ أمير المؤمنين لم يُحسِنُ أن يُفتِيَك حتى سأل الرجلَ، فسمع عمرُ بعضَ كلامِه، فعَلَاهُ عمرُ بالدِّرَّة ضربًا، ثم أقبل عليَّ لِيضْرِبَني، فقلتُ: يا أمير المؤمنين، إني لم أقُلْ شيئًا، إنما هو قالَه، قال: فتركَني، ثم قال: أردتَ أن تقتُلَ الحرامَ، وتتعدّى الفُتْيا؟! ثم قال أمير المؤمنين: إنَّ في الإنسان عشرةَ أخلاقٍ، تسعةٌ حسنةً، وواحدٌ سيِّئ، ويُفسِدُها ذلك السيِّئُ، ثم قال: إياكَ وعَثْرة (1) الشَّباب (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5355 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا قبیصہ بن جابر الاسدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں حالت احرام میں تھا، میں نے ایک ہرن دیکھا، اس پر تیر چلا دیا اور تیر ٹھیک نشانے پر جا لگا۔ جس کی وجہ سے ہرن ہلاک ہو گیا۔ میرے دل میں اس کی خلش پیدا ہوئی۔ میں یہ مسئلہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پوچھنے آیا۔ میں نے ان کے پہلو میں ایک سفید رنگ کے بزرگ بیٹھے ہوئے دیکھے جن کا چہرا دبلا پتلا تھا، وہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے ان کو ایک بکری کفایت کرے گی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم دیا کہ میں ایک بکری ذبح کر دوں۔ جب ہم ان کے پاس سے اٹھ کر آنے لگے تو میرے ساتھی نے کہا: امیرالمومنین نے اچھا نہیں کیا کہ پہلے ایک آدمی سے پوچھا پھر تمہیں فتویٰ دیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی اس سرگوشی کو سن لیا، آپ نے اس کو ایک درہ لگایا۔ پھر مجھے بھی مارنے لگے تو میں نے کہا: اے امیرالمومنین! میں نے تو کچھ نہیں کہا۔ جو کچھ کہا ہے اسی نے کہا ہے۔ سیدنا قبیصہ کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے چھوڑ دیا۔ پھر میں نے سوچا کہ فتویٰ کی پرواہ کئے بغیر حرام چیزوں کو قتل کروں۔ پھر امیرالمومنین نے کہا: انسان میں دس خصلتیں ہوں، ان میں سے نو خصلتیں اچھی اور ایک بری ہو تو وہی ایک بری خصلت انسان کو برباد کر دیتی ہے۔ پھر فرمایا: جوانی کی لغزشوں سے بچ کر رہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5438]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5439
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدَّثنا أبو سلمة منصور بن سَلَمة الخُزاعي، حدَّثنا عبد الله بن جعفر المَخْرَمي، حدثتني أم بكر بنت المِسوَر: أنَّ عبد الرحمن بن عوف باع أرضًا له بأربعين ألفَ دِينار، فقَسَمها في بني زُهْرة وفقراء المسلمين والمهاجرين وأزواج النبي ﷺ، فبعث إلى عائشة بمالٍ من ذلك، فقالت: مَن بعث بهذا المالِ؟ قلت: عبدُ الرحمن بنُ عوف، قال: وقَصَّ القصةَ، قالت: قال رسول الله ﷺ:"لا يَحنُو علَيكُن من بعدي إلَّا الصابرون"، سَقَى الله ابنَ عَوفٍ من سَلسَبيل الجنة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5356 - ليس بمتصل
ام بکر بنت مسور فرماتی ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی زمین چالیس ہزار دینار کے بدلے بیچی اور وہ دینار بنی زہرہ، مسلمان فقراء، مہاجرین اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں تقسیم کر دیئے، ان میں سے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جانب بھی کچھ مال بھیجا، انہوں نے دریافت کیا کہ یہ مال کس نے بھیجا ہے؟ میں نے کہا: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے۔ اور (ان کے جائیداد بیچنے اور مال تقسیم کرنے کا پورا قصہ بھی) بیان کر دیا۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے بعد صرف صابر لوگ ہی تم پر مہربانی کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ابن عوف رضی اللہ عنہ کو جنت کی نہر سے سیراب کرے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5439]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں