المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
433. كَانَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ صَاحِبَ النَّعْلَيْنِ وَالْوِسَادَةِ وَالْمِطْهَرَةِ
سیدنا ابنِ اُمِّ عبد رضی اللہ عنہ نعلین، تکیہ اور وضو کے برتن کے ذمہ دار تھے
حدیث نمبر: 5468
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدَّثنا السَّرِيّ بن خُزيمة وأحمد بن نَصْر، قالا: حدَّثنا أبو غَسّان مالك بن إسماعيل، حدَّثنا إسرائيل، عن المُغيرة، عن إبراهيمَ، عن علقمةَ، قال: قدمتُ الشام فصليتُ ركعتين، ثم قلتُ: اللهم يَسِّر لي جليسًا صالحًا، فلقيتُ قومًا فجلستُ، فإذا بواحدٍ جاء حتى جلس إلى جَنْبي، فقلتُ: مَن ذا؟ قال أبو الدَّرْداء، فقلت: إني دعوتُ الله أن يُيسِّرَ لي جليسًا صالحًا، فيسَّرَ لي، فقال: ممَّن أنتَ؟ قلت: من أهل الكوفة، قال: أو ليس عندكم ابن أم عبدٍ صاحبُ النعلين والوِسادةِ والمِطْهَرة، وفيكم الذي أجارهُ الله من الشيطانِ على لسان نبيِّه ﷺ، وفيكم صاحبُ سرِّ رسولِ الله ﷺ الذي لا يَعلمُه غيرُه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! والأسانيد التي قبلَه كلُّها صحيحةٌ ولم يُخرجاها، وإنما تركتُ الكلام عليها لأنها غير مُسنَدَةٍ وهذا مُسنَدٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5383 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! والأسانيد التي قبلَه كلُّها صحيحةٌ ولم يُخرجاها، وإنما تركتُ الكلام عليها لأنها غير مُسنَدَةٍ وهذا مُسنَدٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5383 - على شرط البخاري ومسلم
علقمہ سے روایت ہے کہ میں شام آیا تو دو رکعت نماز ادا کی، پھر دعا کی: ”اے اللہ! میرے لیے کوئی نیک ہم نشین میسر فرما“، میری ملاقات کچھ لوگوں سے ہوئی تو میں ان کے پاس بیٹھ گیا، اچانک ایک صاحب آئے اور میرے پہلو میں بیٹھ گئے، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ ہیں، میں نے ان سے کہا: میں نے اللہ سے دعا کی تھی کہ مجھے نیک ہم نشین عطا کرے تو اس نے آپ کو میسر فرما دیا، انہوں نے پوچھا: تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ میں نے کہا: اہل کوفہ سے، انہوں نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس ابنِ امِ عبد (سیدنا ابن مسعود) موجود نہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتوں، تکیے اور وضو کے برتن کے نگران تھے؟ اور کیا تم میں وہ شخص (سیدنا عمار) موجود نہیں جسے اللہ نے اپنے نبی کی زبانِ مبارک کے ذریعے شیطان سے پناہ دی تھی؟ اور کیا تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ رازدار (سیدنا حذیفہ) نہیں جن کا راز ان کے سوا کوئی نہیں جانتا؟“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس سے پہلے والی تمام سندیں بھی صحیح ہیں لیکن شیخین نے انہیں روایت نہیں کیا، میں نے ان پر اس لیے تبصرہ نہیں کیا کیونکہ وہ مسند نہیں تھیں جبکہ یہ روایت مسند ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5468]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس سے پہلے والی تمام سندیں بھی صحیح ہیں لیکن شیخین نے انہیں روایت نہیں کیا، میں نے ان پر اس لیے تبصرہ نہیں کیا کیونکہ وہ مسند نہیں تھیں جبکہ یہ روایت مسند ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5468]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أحمد بن نصر: هو أحمد بن محمد بن نصر النيسابُوري اللبَّاد، وإسرائيل: هو ابن يونس بن أبي إسحاق السَّبيعي، والمغيرة: هو ابن مِقسَم الضبي، وإبراهيم: هو ابن يزيد النَّخَعي، وعلقمة: هو ابن قيس النَّخَعي.» [ترقيم الرساله 5468] [ترقيم الشركة 5424] [ترقيم العلميه 5383]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح