🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

434. تَسْمِيَةُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرَةِ
دس جنت کی بشارت پانے والے صحابہ کے ناموں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5468
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدَّثنا السَّرِيّ بن خُزيمة وأحمد بن نَصْر، قالا: حدَّثنا أبو غَسّان مالك بن إسماعيل، حدَّثنا إسرائيل، عن المُغيرة، عن إبراهيمَ، عن علقمةَ، قال: قدمتُ الشام فصليتُ ركعتين، ثم قلتُ: اللهم يَسِّر لي جليسًا صالحًا، فلقيتُ قومًا فجلستُ، فإذا بواحدٍ جاء حتى جلس إلى جَنْبي، فقلتُ: مَن ذا؟ قال أبو الدَّرْداء، فقلت: إني دعوتُ الله أن يُيسِّرَ لي جليسًا صالحًا، فيسَّرَ لي، فقال: ممَّن أنتَ؟ قلت: من أهل الكوفة، قال: أو ليس عندكم ابن أم عبدٍ صاحبُ النعلين والوِسادةِ والمِطْهَرة، وفيكم الذي أجارهُ الله من الشيطانِ على لسان نبيِّه ﷺ، وفيكم صاحبُ سرِّ رسولِ الله ﷺ الذي لا يَعلمُه غيرُه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! والأسانيد التي قبلَه كلُّها صحيحةٌ ولم يُخرجاها، وإنما تركتُ الكلام عليها لأنها غير مُسنَدَةٍ وهذا مُسنَدٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5383 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا علقمہ فرماتے ہیں: میں ملک شام گیا، وہاں دو رکعتیں پڑھیں، پھر میں نے یہ دعا مانگی یاالله! مجھے کسی نیک آدمی کی صحبت میسر فرما، پھر میری ملاقات کچھ لوگوں سے ہوئی، میں ان کے پاس بیٹھ گیا، ایک آدمی آ کر میرے پہلو میں بیٹھ گیا، میں نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: ابوالدرداء: میں نے کہا: میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی ہے کہ مجھے کسی نیک آدمی کی صحبت میسر فرما، تو اس نے مجھے عطا فرما دی ہے۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہارا تعلق کن لوگوں سے ہے؟ میں نے کہا: اہل کوفہ سے۔ انہوں نے کہا: کیا تم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کفش بردار، تکیہ اور پانی اٹھانے والے ابن ام معبد موجود نہیں ہیں؟ اور تمہارے اندر وہ شخصیت موجود ہے جن کے بارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شیطان سے بچا لیا ہے، تمہارے اندر وہ شخصیت موجود ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے رازوں کو جاننے والے ہیں جن کو ان کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں جانتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا، اور اس سے پہلے جتنی اسانید ذکر کی گئی ہیں وہ تمام صحیح ہیں، لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے ان کو نقل نہیں کیا۔ ان کے بارے میں میں نے کسی قسم کا کلام اس لئے نہیں کیا کیونکہ وہ مسند نہیں ہیں اور یہ مسند ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5468]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5469
حدَّثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز ومحمد بن غالب قالا: حدَّثنا أبو حُذيفة. وحدثنا دَعْلَج بن أحمد السِّجْزي ببغداد، حدَّثنا عبد العزيز بن معاوية البصري، حدَّثنا أبو حُذيفة، حدَّثنا سفيان الثَّوري، عن منصور، عن هِلال بن يَسَافٍ، عن عبد الله بن ظالم، عن سعيد بن زيد، قال: قال رسول الله ﷺ:"عشرةٌ في الجنة"، فذكر أبا بكر وعمرَ وعثمانَ وعليًّا وطلحةَ والزبيرَ وعبد الرحمن بنَ عوف وسعد بنَ أبي وقاص وسعيدَ بنَ زيد وعبدَ الله بنَ مسعود (1)
هذا حديث تفرَّد بذكر ابن مسعود فيه أبو حُذيفة، وقد احتجَّ البخاريُّ بأبي حذيفة، إلا أنهما لم يحتجا بعبد الله بن ظالم.
سیدنا سعید بن زید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دس (صحابی) جنتی ہیں۔ پھر درج ذیل صحابہ کرام کا نام لیا۔ (1) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ (2) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ (3) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ (4) سیدنا علی رضی اللہ عنہ (5) سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ (6) سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ (7) سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ (8) سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ (9) سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ (10) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ ٭٭ اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا نام صرف سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایات نقل کی ہیں البتہ عبداللہ بن ظالم کی روایات نقل نہیں کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5469]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں