🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

442. ذِكْرُ إِسْلَامِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَاخْتِلَافُ الرِّوَايَاتِ فِي وَقْتِ إِسْلَامِهِ
سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا بیان اور اس کے وقت کے بارے میں اختلافِ روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5489
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ، حدثنا عبد الله أحمد بن حنبل، حدثنا أحمد بن إبراهيم الدَّورقي، حدثني أبو نُعيم الفَضل بن دُكين، حدثنا زُهير، عن ليث، عن مُجاهد، عن علي بن عبد الله بن عباس، قال: أعتَقَ العباسُ عند موتِه سبعين مملوكًا (3) . ذكرُ إسلام العبّاس ﵁، واختلاف الروايات في وقتِ إسلامه
سیدنا علی بن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت 70 غلام آزاد کئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5489]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5490
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيِه من أصل كتابه، حدثنا أبو عمران موسى بن هارون الحافظ، حدثنا إسحاق بن راهَوَيهِ. وحدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو سعيد محمد بن شاذانَ وإبراهيم بن أبي طالب ومحمد بن نُعَيم، قالوا: حدثنا إسحاق بن إبراهيم، قال: أخبرنا وهب بن جرير، قال: حدثني أبي، قال: سمعت محمد بن إسحاق يقول: حدثني حُسين بن عبد الله، عن عِكرمة عن ابن عباس، عن أبي رافع مولى رسول الله ﷺ، قال: كنتُ غلامًا للعباس بن عبد المُطلب، وكنتُ قد أسلمتُ وأسلمت أمُّ الفضل وأسلمَ العبّاس، وكان يَكتُم إسلامه مَخافة قومِه، وكان أبو لَهَبٍ قد تَخلَّف عن بدرٍ، وبعثَ مكانه العاص بن هشام، وكان له عليه دين، فقال له: اكفِني هذا الغزو وأتركُ لك ما عليك، ففعل، فلما جاء الخبرُ وكَبَتَ اللهُ أبا لَهَب، وكنتُ رجلًا ضعيفًا أَنحِتُ هذه الأقداح في حُجْرةٍ، فوالله إني جالسٌ في الحُجْرة أنحِتُ أقداحي وعندي أمُّ الفضل إذ الفاسقُ أبو لَهَب يجُرُّ رجليه - أراه قال عند طُنُب الحُجْرة، وكان ظَهْرُه إلى ظهري، فقال الناس: هذا أبو سفيان بن الحارث، فقال أبو لهب: هلُمَّ إلي يا ابن أخي، فجاء أبو سفيان حتى جلس عندَه، فجاء الناسُ فقامُوا عليهما، فقال: يا ابن أخي، كيف كان أمرُ الناس؟ فقال: لا شيء، والله ما هو إلّا أن لَقِينَاهُم، فَمَنَحْنَاهُم أكتافنا يقتُلوننا كيف شاؤوا ويأسِروننا كيف شاؤوا، وايمُ اللهِ ما لُمتُ الناسَ، قال: ولِمَ، قال: رأيتُ رجالًا بيضًا على خَيلِ بُلْقٍ، لا والله ما تُلِيقُ شيئًا، ولا يقومُ لها شيءٌ، قال: فرفعتُ طَرَفَ (1) الحُجَرة، فقلتُ: تلك والله الملائكةُ، فرفع أبو لَهَبٍ يده فلَطَمَ وجهي، وثاوَرْتُه فاحْتَمَلَني فضرب بي الأرض حتى بَرَك عَلَيَّ (2) ، فقامت أم الفضل فاحتَجَرَت (1) وأخذَتْ عمودًا من عَمَدِ الحُجْرة، فضربته به، فعَلِقَت (2) في رأسه شَجّةٌ مُنكَرةٌ، وقالت يا عدوّ الله، استضعفته أَن رأيت سيِّدَه غائبًا عنه، فقام ذليلًا، فوالله ما عاش إلَّا سبع ليالٍ، حتى ضربه الله بالعدسة فقَتَلَتْه، فلقد تركه ابناه لَيلتَين أو ثلاثةً ما يدفنانه حتى أنْتَنَ، فقال رجلٌ من قريش لابنيه: ألا تستحِيَان، إنَّ أباكُما قد أنْتَنَ في بيته، فقالا: إنا نخشى هذه القُرْحة، وكانت قريشٌ تتقي العدسة كما تتقي الطاعونَ، فقال رجلٌ: انطلقا فأنا معكما، قال: فوالله ما غَسلوه إلَّا قذفًا بالماء عليه من بعيد، ثم احتمَلوه فقَذَفُوه في أعلى مكةَ إلى جدارٍ، وقَذَفُوا عليه الحجارة" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5403 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا غلام تھا، میں اسلام قبول کر چکا تھا، ان کی زوجہ سیدنا ام الفضل بھی اسلام لا چکی تھیں اور سیدنا عباس بھی مسلمان ہو چکے تھے لیکن یہ لوگ اپنے قوم کے ڈر کی وجہ سے اپنے اسلام کو چھپائے ہوئے تھے۔ اور ابولہب جنگ بدر میں نہیں گیا تھا بلکہ اس نے اپنی جگہ عاص بن ہشام کو بھیجا تھا۔ عاص بن ہشام پر ابولہب کا قرضہ تھا۔ ابولہب نے کہا تھا کہ تو میری طرف سے اس جنگ میں شرکت کر لے، میں تیرا تمام قرضہ معاف کر دوں گا۔ اس نے ایسے ہی کیا۔ لیکن جب جنگ بدر کی رسوا کن خبر آئی اور اللہ تعالیٰ نے ابولہب کو ذلیل کر دیا۔ میں کمزور آدمی تھا، میں اپنے کمرے میں بیٹھ کر ان تیروں کو چھیلا کرتا تھا۔ خدا کی قسم! میں اپنے کمرے بیٹھا تیر چھیل رہا تھا اور ام الفضل میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں۔ اسی دوران ہمارے خیمے کی پچھلی جانب ابولہب پاؤں گھسیٹتا ہوا آ کر بیٹھ گیا، اس کی پشت میری پشت کی جانب تھی، اچانک لوگوں کی آواز آئی یہ ابوسفیان بن حارث آ گیا ابولہب نے کہا: اے میرے بھتیجے میرے پاس آؤ، ابوسفیان آ کر ابولہب کے پاس بیٹھ گیا اور کچھ لوگ مزید آ گئے، اور ان کے پاس کھڑے ہو گئے، ابوسفیان نے جنگ کے حالات اور شکست کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا: شکست کی وجہ کچھ بھی نہیں ہے۔ خدا کی قسم! جب ان سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی تو ہم نے اپنے آپ کو ان کے سپرد کر دیا تاکہ وہ جیسے چاہیں ہمیں قتل کریں اور جیسے چاہیں گرفتار کر لیں اور اللہ کی قسم! اس سلسلے میں فوجیوں کو کوئی ملامت نہیں کرتا، اس نے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ ہم نے ابلق گھوڑوں پر سفید رنگ کے لوگوں کو دیکھا ہے وہ نہ تو کسی کو پناہ دیتے ہیں اور نہ ان کے آگے کوئی چیز ٹھہر سکتی ہے۔ (ابورافع) فرماتے ہیں: میں نے خیمے کا پردہ اٹھایا اور کہا: خدا کی قسم! وہ فرشتے تھے۔ ابولہب نے مجھے تھپڑ مار دیا، اور بدلے میں، میں نے بھی اس کو تھپڑ دے مارا، وہ مجھ سے لڑ پڑا اور مجھے زمین پر گرا کر میرے سینے پر سوار ہو گیا، ام الفضل اٹھیں اور خیمے کی ایک لکڑی کھینچ کر اس کے سر پر دے ماری جس کی وجہ سے اس کے سر میں بہت بڑا زخم ہو گیا۔ ام الفضل نے کہا: اے اللہ کے دشمن! تم نے اس کے آقا کو غیر موجود پا کر اس کو کمزور سمجھ لیا تھا، تو ابولہب ذلیل ہو کر وہاں سے اٹھا، خدا کی قسم! اس کے بعد وہ صرف 7 دن زندہ رہا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جسم میں پھنسیاں پیدا کر دیں، اور ان پھنسیوں کی وجہ سے وہ مر گیا، اس کے دونوں بیٹوں نے اس کو دو تین دن تک اسی طرح چھوڑے رکھا اور دفن نہیں کیا جس کی وجہ سے اس کے جسم سے بدبو پھوٹنے لگی، ایک قریشی آدمی نے ان کو کہا: تمہیں حیاء نہیں آتی، تمہارے باپ کی لاش گھر میں پڑی سڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا: ہم اس پیپ والے پھوڑوں سے ڈر رہے ہیں۔ قریش ان پھنسیوں سے اتنا گھبراتے تھے جتنا طاعون سے۔ بالآخر ایک شخص نے کہا: تم اس کو دفن کرنے لے چلو میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں خدا کی قسم! انہوں نے اپنے باپ کو غسل نہیں دیا بلکہ دور سے ہی اس پر پانی ڈال دیا، پھر اس کو اٹھا کر لے گئے مکہ کے بالائی علاقوں میں ایک دیوار کے ساتھ پھینک کر اس کے اوپر پتھر وغیرہ پھینک دیئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5490]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5491
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا أبو عُلَاثة، قال: حدثني أبي، حدثنا ابن لهيعة، عن أبي الأسود، عن عُروة بن الزُّبير، قال: كان العباس بن عبد المطلب قد أسلَم وأقام على سِقايتِه، ولم يُهاجر (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5404 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عروہ بن زبیر فرماتے ہیں: سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اسلام لائے اور اپنے وطن میں ٹھہرے رہے، اور ہجرت نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5491]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں