🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

442. ذِكْرُ إِسْلَامِ الْعَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَاخْتِلَافُ الرِّوَايَاتِ فِي وَقْتِ إِسْلَامِهِ
سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا بیان اور اس کے وقت کے بارے میں اختلافِ روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5490
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيِه من أصل كتابه، حدثنا أبو عمران موسى بن هارون الحافظ، حدثنا إسحاق بن راهَوَيهِ. وحدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو سعيد محمد بن شاذانَ وإبراهيم بن أبي طالب ومحمد بن نُعَيم، قالوا: حدثنا إسحاق بن إبراهيم، قال: أخبرنا وهب بن جرير، قال: حدثني أبي، قال: سمعت محمد بن إسحاق يقول: حدثني حُسين بن عبد الله، عن عِكرمة عن ابن عباس، عن أبي رافع مولى رسول الله ﷺ، قال: كنتُ غلامًا للعباس بن عبد المُطلب، وكنتُ قد أسلمتُ وأسلمت أمُّ الفضل وأسلمَ العبّاس، وكان يَكتُم إسلامه مَخافة قومِه، وكان أبو لَهَبٍ قد تَخلَّف عن بدرٍ، وبعثَ مكانه العاص بن هشام، وكان له عليه دين، فقال له: اكفِني هذا الغزو وأتركُ لك ما عليك، ففعل، فلما جاء الخبرُ وكَبَتَ اللهُ أبا لَهَب، وكنتُ رجلًا ضعيفًا أَنحِتُ هذه الأقداح في حُجْرةٍ، فوالله إني جالسٌ في الحُجْرة أنحِتُ أقداحي وعندي أمُّ الفضل إذ الفاسقُ أبو لَهَب يجُرُّ رجليه - أراه قال عند طُنُب الحُجْرة، وكان ظَهْرُه إلى ظهري، فقال الناس: هذا أبو سفيان بن الحارث، فقال أبو لهب: هلُمَّ إلي يا ابن أخي، فجاء أبو سفيان حتى جلس عندَه، فجاء الناسُ فقامُوا عليهما، فقال: يا ابن أخي، كيف كان أمرُ الناس؟ فقال: لا شيء، والله ما هو إلّا أن لَقِينَاهُم، فَمَنَحْنَاهُم أكتافنا يقتُلوننا كيف شاؤوا ويأسِروننا كيف شاؤوا، وايمُ اللهِ ما لُمتُ الناسَ، قال: ولِمَ، قال: رأيتُ رجالًا بيضًا على خَيلِ بُلْقٍ، لا والله ما تُلِيقُ شيئًا، ولا يقومُ لها شيءٌ، قال: فرفعتُ طَرَفَ (1) الحُجَرة، فقلتُ: تلك والله الملائكةُ، فرفع أبو لَهَبٍ يده فلَطَمَ وجهي، وثاوَرْتُه فاحْتَمَلَني فضرب بي الأرض حتى بَرَك عَلَيَّ (2) ، فقامت أم الفضل فاحتَجَرَت (1) وأخذَتْ عمودًا من عَمَدِ الحُجْرة، فضربته به، فعَلِقَت (2) في رأسه شَجّةٌ مُنكَرةٌ، وقالت يا عدوّ الله، استضعفته أَن رأيت سيِّدَه غائبًا عنه، فقام ذليلًا، فوالله ما عاش إلَّا سبع ليالٍ، حتى ضربه الله بالعدسة فقَتَلَتْه، فلقد تركه ابناه لَيلتَين أو ثلاثةً ما يدفنانه حتى أنْتَنَ، فقال رجلٌ من قريش لابنيه: ألا تستحِيَان، إنَّ أباكُما قد أنْتَنَ في بيته، فقالا: إنا نخشى هذه القُرْحة، وكانت قريشٌ تتقي العدسة كما تتقي الطاعونَ، فقال رجلٌ: انطلقا فأنا معكما، قال: فوالله ما غَسلوه إلَّا قذفًا بالماء عليه من بعيد، ثم احتمَلوه فقَذَفُوه في أعلى مكةَ إلى جدارٍ، وقَذَفُوا عليه الحجارة" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5403 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں، سے روایت ہے کہ میں سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا غلام تھا، میں اسلام لا چکا تھا، ام الفضل رضی اللہ عنہا بھی اسلام لا چکی تھیں اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بھی مسلمان ہو چکے تھے، مگر وہ اپنی قوم کے خوف سے اپنا اسلام چھپاتے تھے، ابولہب غزوہ بدر میں شریک نہیں ہوا تھا بلکہ اس نے اپنی جگہ عاص بن ہشام کو بھیجا تھا جس پر اس کا قرض تھا، اس نے اس سے کہا تھا کہ میری جگہ تم اس لڑائی میں چلے جاؤ تو میں تمہارا قرض معاف کر دوں گا، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا، جب بدر کی شکست کی خبر پہنچی اور اللہ نے ابولہب کو ذلیل و رسوا کیا تو اس وقت میں ایک کمزور آدمی تھا اور ایک حجرے میں پیالے تراشنے کا کام کرتا تھا، اللہ کی قسم! میں حجرے میں بیٹھا اپنے پیالے تراش رہا تھا اور میرے پاس ام الفضل بھی موجود تھیں کہ اتنے میں وہ فاسق ابولہب اپنے پاؤں گھسیٹتا ہوا آیا اور حجرے کی طناب کے پاس میری پیٹھ کے پیچھے بیٹھ گیا، لوگ کہنے لگے کہ یہ ابو سفیان بن حارث آ رہا ہے، ابولہب نے کہا: اے میرے بھتیجے! میرے پاس آؤ، تو ابو سفیان اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا، لوگ بھی آ کر ان دونوں کے گرد کھڑے ہو گئے، ابولہب نے پوچھا: اے میرے بھتیجے! لوگوں کا جنگ میں کیا معاملہ رہا؟ اس نے کہا: کچھ بھی نہیں، اللہ کی قسم! بس ہم ان سے ملے اور ہم نے اپنے کندھے ان کے حوالے کر دیے، وہ جیسے چاہتے ہمیں قتل کرتے اور جیسے چاہتے ہمیں قیدی بنا لیتے، اور اللہ کی قسم! میں لوگوں کو ملامت نہیں کرتا، ابولہب نے پوچھا: کیوں؟ اس نے کہا: اس لیے کہ میں نے چتکبرے گھوڑوں پر سفید پوش سوار دیکھے تھے، اللہ کی قسم! وہ کسی چیز کو نہیں چھوڑ رہے تھے اور کوئی چیز ان کے سامنے ٹھہر نہیں پا رہی تھی، ابو رافع کہتے ہیں کہ میں نے حجرے کا پردہ اٹھایا اور کہا: اللہ کی قسم! وہ تو فرشتے تھے، تو ابولہب نے ہاتھ اٹھا کر میرے چہرے پر تھپڑ مارا، میں اس سے گتھم گتھا ہو گیا تو اس نے مجھے اٹھا کر زمین پر دے مارا اور مجھ پر چڑھ کر بیٹھ گیا، یہ دیکھ کر ام الفضل اٹھیں اور انہوں نے حجرے کا ایک ستون پکڑا اور اس کے سر پر ایسی زور سے ماری کہ اس کے سر پر انتہائی گہرا اور برا زخم ہو گیا، اور انہوں نے کہا: اے اللہ کے دشمن! کیا تو نے اسے اس لیے کمزور سمجھا ہے کہ اس کا آقا اس کے پاس موجود نہیں ہے؟ چنانچہ وہ ذلیل ہو کر اٹھ کھڑا ہوا، اللہ کی قسم! اس کے بعد وہ صرف سات راتیں ہی زندہ رہا یہاں تک کہ اللہ نے اسے عدسہ (طاعون جیسی گلٹی) کی بیماری میں مبتلا کر دیا جس نے اسے ہلاک کر دیا، اس کے بیٹوں نے اسے دو یا تین راتوں تک یونہی چھوڑے رکھا اور اسے دفن نہیں کیا یہاں تک کہ اس کی لاش سڑ گئی، قریش کے ایک شخص نے اس کے بیٹوں سے کہا: کیا تمہیں شرم نہیں آتی؟ تمہارا باپ گھر میں سڑ رہا ہے، انہوں نے کہا: ہمیں اس زخم کی چھوت کا ڈر ہے، اور قریش عدسہ سے ویسے ہی ڈرتے تھے جیسے طاعون سے ڈرا جاتا ہے، اس شخص نے کہا: چلو، میں تمہارے ساتھ ہوں، ابو رافع کہتے ہیں: اللہ کی قسم! انہوں نے اسے غسل نہیں دیا بلکہ دور سے ہی اس پر پانی پھینک دیا، پھر اسے اٹھا کر مکہ کے بالائی حصے میں ایک دیوار کے پاس ڈال دیا اور اس پر پتھر پھینک دیے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5490]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف حسين بن عبد الله - وهو ابن عُبيد الله بن عباس الهاشمي - وقد انفرد جرير - وهو ابن حازم - ويونس بن بُكير كما سيأتي برقم (5493) بذكر ابن عباس في إسناده، وخالفهما سائر أصحاب محمد بن إسحاق فلم يذكروا ابنَ عباس، كما سيأتي عند المصنف ...» [ترقيم الرساله 5490] [ترقيم الشركة 5444] [ترقيم العلميه 5403]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5491
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا أبو عُلَاثة، قال: حدثني أبي، حدثنا ابن لهيعة، عن أبي الأسود، عن عُروة بن الزُّبير، قال: كان العباس بن عبد المطلب قد أسلَم وأقام على سِقايتِه، ولم يُهاجر (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5404 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ اسلام قبول کر چکے تھے اور مکہ میں اپنی سقایت (حجاج کو پانی پلانے کی خدمت) پر مامور رہے اور انہوں نے (اس وقت) ہجرت نہیں کی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5491]
تخریج الحدیث: «رجاله لا بأس بهم كما تقدَّم بيانه برقم (4378)، لكنه مرسل. أبو عُلَاثة: هو محمد بن عمرو بن خالد الحَرَّاني، وابن لهيعة هو عبد الله، وأبو الأسود: هو محمد بن عبد الرحمن المعروف بيتيم عروة.» [ترقيم الرساله 5491] [ترقيم الشركة 5445] [ترقيم العلميه 5404]

الحكم على الحديث: رجاله لا بأس بهم كما تقدَّم بيانه برقم (4378)
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5492
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أُبو أسامة عبد الله بن أسامة الحَلَبي (ح) وأخبرناه أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا عيسى بن عبد الله الطيالسي (ح) وحدثني أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ بالكوفة، حدثنا موسى بن هارون؛ قالوا: حدثنا محمد بن عمران بن محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، حدثنا معاوية بن عمّار الدُّهني، عن أبيه، عن أبي الزُّبير عن جابر، قال: حَمَلني خالي جَدُّ بن قيس وما أقدِرُ أن أرمي بحَجَر في السبعين راكبًا من الأنصار الذين وَفَدُوا على النبيِّ ﷺ، فخَرَج إلينا رسول الله ﷺ ومعه عمُّه العباسُ، فقال:"يا عمِّ، خُذْ لي على أخوالك" فقالوا: يا محمد، سَلْ لِربِّك ولنفسك ما شئتَ، فقال:"أما الذي أسألُكم لنفسي فتَمْنَعُوني مما تمنعُون منه أموالكُم وأنفسكُم" قالوا: فما لنا إذا فعلنا ذلك؟ قال:"الجنة" (1) . هذه الروايات كلُّها بلفظٍ واحدٍ، وفي حديث موسى بن هارون: حدثنا محمد بن عمران، ولم نسمعه إِلَّا منه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وليس للعباسيّة ﵃ في تَقدُّم إسلام العباس أصحُّ من هذا الحديث (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5405 - صحيح
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے ماموں جد بن قیس مجھے ان ستر انصاری سواروں کے ہمراہ (مکہ) لے گئے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وفد بن کر حاضر ہوئے تھے، اس وقت میں اتنا چھوٹا تھا کہ پتھر پھینکنے کی بھی سکت نہ رکھتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ کے ساتھ آپ کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بھی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے چچا! میرے لیے میرے ان ماموں زادوں (انصار) سے بیعت لیجیے، تو انصار نے عرض کی: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اپنے رب اور اپنی ذات کے لیے جو چاہیں شرط رکھ لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنی ذات کے لیے تم سے یہ عہد لیتا ہوں کہ تم میری ویسی ہی حفاظت کرو گے جیسی تم اپنے مال اور اپنی جانوں کی کرتے ہو، انہوں نے پوچھا: اگر ہم ایسا کریں تو ہمیں کیا صلہ ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے قدیم الاسلام ہونے کے بارے میں اس حدیث سے زیادہ مستند کوئی روایت موجود نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5492]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قويٌّ كما قال الحافظ ابن حجر في "الإصابة" 1/ 468، وذلك من أجل معاوية بن عمار الدهني، فهو صدوق لا بأس به.» [ترقيم الرساله 5492] [ترقيم الشركة 5446] [ترقيم العلميه 5405]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں