المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
443. حَدِيثُ إِسْلَامِ الْعَبَّاسِ قَبْلَ يَوْمِ بَدْرٍ
غزوۂ بدر سے پہلے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کی حدیث
حدیث نمبر: 5492
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أُبو أسامة عبد الله بن أسامة الحَلَبي (ح) وأخبرناه أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا عيسى بن عبد الله الطيالسي (ح) وحدثني أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ بالكوفة، حدثنا موسى بن هارون؛ قالوا: حدثنا محمد بن عمران بن محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، حدثنا معاوية بن عمّار الدُّهني، عن أبيه، عن أبي الزُّبير عن جابر، قال: حَمَلني خالي جَدُّ بن قيس وما أقدِرُ أن أرمي بحَجَر في السبعين راكبًا من الأنصار الذين وَفَدُوا على النبيِّ ﷺ، فخَرَج إلينا رسول الله ﷺ ومعه عمُّه العباسُ، فقال:"يا عمِّ، خُذْ لي على أخوالك" فقالوا: يا محمد، سَلْ لِربِّك ولنفسك ما شئتَ، فقال:"أما الذي أسألُكم لنفسي فتَمْنَعُوني مما تمنعُون منه أموالكُم وأنفسكُم" قالوا: فما لنا إذا فعلنا ذلك؟ قال:"الجنة" (1) . هذه الروايات كلُّها بلفظٍ واحدٍ، وفي حديث موسى بن هارون: حدثنا محمد بن عمران، ولم نسمعه إِلَّا منه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وليس للعباسيّة ﵃ في تَقدُّم إسلام العباس أصحُّ من هذا الحديث (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5405 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وليس للعباسيّة ﵃ في تَقدُّم إسلام العباس أصحُّ من هذا الحديث (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5405 - صحيح
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے ماموں جد بن قیس نے مجھے انصار کے ان ستر سواروں میں شامل ہونے پر ابھارا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تھے، حالانکہ میں ایک پتھر بھی پھینکنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ان کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے چچا! میرے لئے اپنے ماموؤں میں سے کچھ لوگوں کو چن لو، انہوں نے جواباً کہا: اے محمد! اپنے رب کے لئے اور اپنے لئے جو چاہیں آپ طلب فرما لیں۔ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو میں اپنے لئے طلب کروں گا اس کو تم روک لو گے جیسا کہ تم نے اس سے اپنے مال اور اپنی جانوں کو روک رکھا ہے۔ لوگوں نے کہا: اگر ہم یہ کام کر گزریں تو ہمیں اس کے بدلے میں کیا ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت۔ ٭٭ یہ تمام روایات ایک ہی عبارت کے ساتھ مروی ہیں۔ اور موسیٰ بن عمران کی حدیث کو ان سے صرف انہوں نے ہی سنا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا اور عباسیہ کے پاس سیدنا عباس کے قدیم الاسلام ہونے پر اس سے بڑھ کر کوئی صحیح حدیث موجود نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5492]
حدیث نمبر: 5493
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو عُمر أحمد بن الجبار بن عُمر العُطارِدِيّ، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، حدثني الحُسين ابن عُبد الله بن عُبيد الله بن عباس، عن عِكرمة، عن ابن عباس، حدثني أبو رافع كنا آل العباس قد دخَلْنا الإسلام، وكنا نَستَخْفي إسلامنا، وكنت غلامًا للعباس أنحِتُ الأقداحَ، فلما سارتْ قُريش إلى رسول الله ﷺ يوم بدرٍ جَعَلْنا نتوقَّع الأخبار، فقدِم علينا الحَيْسُمان (2) الخُزاعيُّ بالخبر، فوَجَدْنا في أنفُسِنا قوةً، وسَرَّنا ما جاءنا من الخَبَر من ظُهُور رسول الله ﷺ، فوالله إني لَجالسٌ في صُفَة زَمْزَمَ أَنحِتُ الأقداحَ، وعندي أمُّ الفَضْل جالسةٌ، وقد سَرَّنا ما جاءنا من الخبر من ظُهُور رسولِ الله، وبَلَغَنا عن رسول الله ﷺ، إذ أقبلَ الخَبيثُ أبو لَهَب يجُرُّ رجليه قد أكْبَتَه الله وأخزاهُ لما جاءه من الخبر، حتى جلس على طُنُب الحُجرة، وقال الناسُ: هذا أبو سفيان بن الحارث قد قَدِمَ واجتمع عليه الناسُ، فقال له أبو لَهَب: هلُمَّ إليَّ يا ابن أخي، فجاء حتى جلس بين يديه، فقال: أخبرني عن الناس، قال: نعم، والله ما هو إلّا إن لَقِينا القومَ فَمَنَحْناهم أكتافنا يَضعُون السلاح منا حيث شاؤوا، والله مع ذلك ما لُمتُ الناسَ لقينا رجالًا بيضًا على خَيل بُلْقٍ، والله ما تُبقى شيئًا، قال فرفعتُ طُنُبَ الحُجْرة، فقلت: تلك والله الملائكةُ، قال: فرفع أبو لَهَبٍ يده فضرب وجهي ضربةً مُنكَرةٌ، وثاوَرْته، وكنتُ رجلًا ضعيفًا، فاحتمَلَني فضرب بي الأرضَ، وبَرَك على صدري وضَرَبني، وتقومُ أمُّ الفضل إلى عَمُودٍ من عَمَد الحُجرة (1) ، فأخذته وهي تقولُ: استضعَفْتَه أن غابَ عنه سيِّدهُ؟! وتضرِبُه بالعمود على رأسه فتَفْلِقُه (2) شَجّةً مُنكرةٌ، وقام يَجُرٌ رِجليه ذليلًا، ورماه الله بالعَدَسة، فوالله ما مَكَث إلَّا سبعًا حتى مات، فلقد تركه ابناهُ في بيته ثلاثًا ما يَدفِنانه حتى أَنْتَنَ، وكانت قريشٌ تتقي هذه العدسة كما تتّقي الطاعون، حتى قال لهما رجلٌ من قريش: وَيحَكُما ألا تستحيانِ، إِنَّ أباكُما قد أَنْتَن في بيته لا تَدفِنانه، فقالا: إننا نخشى عدوى هذه القُرْحة، فقال: انطلقا فأنا أُعينُكُما عليه، فوالله ما غَسْلُوه إلَّا قَذفًا بالماء عليه من بعيد ما يَدْنُون منه، ثم احْتَمَلُوه إلى أعلى مكة، فأسنَدُوه إلى جدارٍ، ثم رَصَفُوا عليه الحجارة (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5406 - حسين بن عبد الله بن عبيد الله واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5406 - حسين بن عبد الله بن عبيد الله واه
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا غلام تھا، ہمارے دلوں میں اسلام داخل ہو چکا تھا لیکن ہم لوگ اپنے اسلام کو چھپائے ہوئے تھے۔ میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا غلام تھا میں تیر چھیلا کرتا تھا، پھر جب قریش جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب روانہ ہوئے، ہم وہاں کی خبروں کے منتظر رہا کرتے تھے۔ سیدنا ضمان خزاعی رضی اللہ عنہ جنگ بدر کی ایک خوش کن خبر لے کر ہمارے پاس آئے تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلبہ کی خبر سن کر بہت خوش ہوئے، خدا کی قسم! میں مکہ میں تھا اور تیر چھیل رہا تھا اور ام الفضل میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح کی خبر سن کر خوش ہو رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہمیں اطلاعات مل رہی تھیں۔ ادھر ابولہب خبیث اپنے پاؤں گھسیٹتا ہوا آ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو فتح مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر دے کر ذلیل و رسوا کر دیا ہوا تھا۔ وہ آ کر خیمے کی اس جانب بیٹھ گیا جدھر خیمے کی رسیاں باندھی جاتی ہیں۔ لوگوں نے آواز لگائی ” یہ ابوسفیان آ گیا آ گیا “ لوگ اس کے اردگرد جمع ہو گئے، ابولہب نے اس سے کہا: اے میرے بھتیجے میرے پاس آؤ، وہ آ کر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ ابولہب نے جنگ کے حالات اور شکست کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا: شکست کی وجہ کچھ بھی نہیں ہے۔ خدا کی قسم! جب ان سے ہماری مڈبھیڑ ہوئی تو ہم نے اپنے کاندھے ان کے سپرد کر دیئے تاکہ وہ جہاں چاہیں اپنا اسلحہ رکھیں اور اللہ کی قسم! اس سلسلے میں فوجیوں کو کوئی ملامت نہیں کی، اس نے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ ہم نے ابلق گھوڑوں پر سفید رنگ کے لوگوں کو دیکھا ہے ان کے آگے کوئی شے نہیں ٹھہر سکتی ہے۔ (ابورافع) فرماتے ہیں: میں نے خیمے کا پردہ اٹھایا اور کہا: خدا کی قسم! وہ فرشتے تھے۔ ابولہب نے مجھے زور دار تھپڑ سے مارا، اور بدلے میں، میں نے بھی اس کو تھپڑ رسید کر دیا، وہ مجھ سے لڑ پڑا اور مجھے زمین پر گرا کر میرے سینے پر سوار ہو گیا، ام الفضل اٹھیں اور خیمے کی ایک لکڑی کھینچ کر اس کے سر پر دے ماری جس کی وجہ سے اس کے سر میں بہت بڑا زخم ہو گیا۔ ام الفضل نے کہا: اے اللہ کے دشمن! تم نے اس کے آقا کو غیر موجود پا کر اس کو کمزور سمجھ لیا تھا، تو ابولہب ذلیل ہو کر وہاں سے اٹھا، خدا کی قسم! اس کے بعد وہ صرف 7 دن زندہ رہا۔ الله تعالیٰ نے اس کے جسم میں پھنسیاں پیدا کر دیں، اور ان پھنسیوں کی وجہ سے وہ مر گیا، اس کے دونوں بیٹوں نے اس کو دو تین دن تک اسی طرح چھوڑے رکھا اور دفن نہیں کیا جس کی وجہ سے اس کے جسم سے بدبو پھوٹنے لگی۔ ایک قریشی آدمی نے ان کو کہا: تمہیں حیاء نہیں آتی، تمہارے باپ کی لاش گھر میں پڑی سڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا: ہم اس پیپ والے پھوڑوں سے ڈر رہے ہیں۔ قریش ان پھنسیوں سے اتنا گھبراتے تھے جتنا طاعون سے۔ بالآخر ایک شخص نے کہا: تم اس کو دفن کرنے لے چلو میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں خدا کی قسم! انہوں نے اپنے باپ کو غسل نہیں دیا بلکہ دور سے ہی اس پر پانی ڈال دیا، پھر اس کو اٹھا کر لے گئے مکہ کے بالائی علاقوں میں ایک دیوار کے ساتھ لٹا کر اس کے اوپر پتھر وغیرہ پھینک دیئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5493]
حدیث نمبر: 5494
وأخبرني أبو أحمد التَّمِيمي، حدثنا أبو العباس أحمد بن محمد بن الحُسين، حدثنا عمرو بن زُرارة، قال: أخبرنا زياد بن عبد الله، عن محمد بن إسحاق، حدثني حُسين بن عبد الله، عن عِكرمة، قال: قال أبو رافع: كنت غلامًا للعباس بن عبد المُطّلب، وكان الإسلامُ دَخَلَنا أهل البيت، فأسلم العباسُ، وأسلمت أمُّ الفَضل، وأسلمتُ، وكان العباسُ يَهابُ قومَه ويَكْرَه خِلافَهم، وكان يَكتُم إسلامه (1) . ولم يَزِدْ أبو أحمد في هذا الإسناد على هذا المتن، وأتى به مُرسَلًا، هذا الذي انتهى إلينا من الأخبار التي تدل على تقدُّم إسلامِ العباس بن عبد المُطّلب قبل بَدْرٍ، فاسمع الآنَ الأخبار التي تُضَادُّها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5407 - حسين بن عبد الله واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5407 - حسين بن عبد الله واه
عکرمہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابورافع کہتے ہیں: میں عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا غلام تھا ہمارے گھر میں اسلام داخل ہو چکا تھا۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بھی اسلام لے آئے، ام فضل رضی اللہ عنہا بھی اسلام لے آئیں، اور میں بھی مسلمان ہو چکا تھا۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اپنی قوم سے گھبرا رہے تھے، اور ان کی مخالفت سے ڈرتے تھے۔ اس لئے وہ اپنا اسلام چھپاتے تھے۔ ٭٭ ابواحمد نے اس اسناد میں اس متن پر کچھ اضافہ نہیں کیا اور اس کو مرسلاً روایت کیا ہے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے جنگ بدر سے پہلے قبول اسلام کے متعلق جو احادیث ہم تک پہنچی ہیں وہ یہی ہیں۔ ان کو تسلیم کر لو، اور غور سے سنو! اب ان کی متضاد روایات بیان کی جائیں گی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5494]