🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

443. حَدِيثُ إِسْلَامِ الْعَبَّاسِ قَبْلَ يَوْمِ بَدْرٍ
غزوۂ بدر سے پہلے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کی حدیث
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5493
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو عُمر أحمد بن الجبار بن عُمر العُطارِدِيّ، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، حدثني الحُسين ابن عُبد الله بن عُبيد الله بن عباس، عن عِكرمة، عن ابن عباس، حدثني أبو رافع كنا آل العباس قد دخَلْنا الإسلام، وكنا نَستَخْفي إسلامنا، وكنت غلامًا للعباس أنحِتُ الأقداحَ، فلما سارتْ قُريش إلى رسول الله ﷺ يوم بدرٍ جَعَلْنا نتوقَّع الأخبار، فقدِم علينا الحَيْسُمان (2) الخُزاعيُّ بالخبر، فوَجَدْنا في أنفُسِنا قوةً، وسَرَّنا ما جاءنا من الخَبَر من ظُهُور رسول الله ﷺ، فوالله إني لَجالسٌ في صُفَة زَمْزَمَ أَنحِتُ الأقداحَ، وعندي أمُّ الفَضْل جالسةٌ، وقد سَرَّنا ما جاءنا من الخبر من ظُهُور رسولِ الله، وبَلَغَنا عن رسول الله ﷺ، إذ أقبلَ الخَبيثُ أبو لَهَب يجُرُّ رجليه قد أكْبَتَه الله وأخزاهُ لما جاءه من الخبر، حتى جلس على طُنُب الحُجرة، وقال الناسُ: هذا أبو سفيان بن الحارث قد قَدِمَ واجتمع عليه الناسُ، فقال له أبو لَهَب: هلُمَّ إليَّ يا ابن أخي، فجاء حتى جلس بين يديه، فقال: أخبرني عن الناس، قال: نعم، والله ما هو إلّا إن لَقِينا القومَ فَمَنَحْناهم أكتافنا يَضعُون السلاح منا حيث شاؤوا، والله مع ذلك ما لُمتُ الناسَ لقينا رجالًا بيضًا على خَيل بُلْقٍ، والله ما تُبقى شيئًا، قال فرفعتُ طُنُبَ الحُجْرة، فقلت: تلك والله الملائكةُ، قال: فرفع أبو لَهَبٍ يده فضرب وجهي ضربةً مُنكَرةٌ، وثاوَرْته، وكنتُ رجلًا ضعيفًا، فاحتمَلَني فضرب بي الأرضَ، وبَرَك على صدري وضَرَبني، وتقومُ أمُّ الفضل إلى عَمُودٍ من عَمَد الحُجرة (1) ، فأخذته وهي تقولُ: استضعَفْتَه أن غابَ عنه سيِّدهُ؟! وتضرِبُه بالعمود على رأسه فتَفْلِقُه (2) شَجّةً مُنكرةٌ، وقام يَجُرٌ رِجليه ذليلًا، ورماه الله بالعَدَسة، فوالله ما مَكَث إلَّا سبعًا حتى مات، فلقد تركه ابناهُ في بيته ثلاثًا ما يَدفِنانه حتى أَنْتَنَ، وكانت قريشٌ تتقي هذه العدسة كما تتّقي الطاعون، حتى قال لهما رجلٌ من قريش: وَيحَكُما ألا تستحيانِ، إِنَّ أباكُما قد أَنْتَن في بيته لا تَدفِنانه، فقالا: إننا نخشى عدوى هذه القُرْحة، فقال: انطلقا فأنا أُعينُكُما عليه، فوالله ما غَسْلُوه إلَّا قَذفًا بالماء عليه من بعيد ما يَدْنُون منه، ثم احْتَمَلُوه إلى أعلى مكة، فأسنَدُوه إلى جدارٍ، ثم رَصَفُوا عليه الحجارة (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5406 - حسين بن عبد الله بن عبيد الله واه
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم آلِ عباس (سیدنا عباس کا خاندان) اسلام قبول کر چکے تھے مگر ہم نے اپنے اسلام کو چھپا رکھا تھا، میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا غلام تھا اور پیالے تراشا کرتا تھا، جب قریش غزوہ بدر کے لیے روانہ ہوئے تو ہم خبروں کا انتظار کرنے لگے، پھر حیسمان خزاعی خبر لے کر آیا، اس خبر سے ہمیں اپنے اندر ایک قوت محسوس ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلبے کی اطلاع سے ہمیں بہت خوشی ہوئی، اللہ کی قسم! میں زمزم کے چبوترے پر بیٹھا پیالے تراش رہا تھا اور میرے پاس ام الفضل رضی اللہ عنہا بیٹھی تھیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح کی خبر سے نہال تھے کہ اتنے میں وہ خبیث ابولہب اپنے پاؤں گھسیٹتا ہوا آیا، اللہ نے اسے اس خبر کے ذریعے ذلیل و رسوا کر دیا تھا، وہ حجرے کی طناب کے پاس آ کر بیٹھ گیا، لوگوں نے کہا: یہ ابو سفیان بن حارث آ گیا ہے، اور لوگ اس کے گرد جمع ہو گئے، ابولہب نے اسے کہا: اے میرے بھتیجے! میرے پاس آؤ، وہ آیا اور اس کے سامنے بیٹھ گیا، ابولہب نے پوچھا: لوگوں کا حال سناؤ؟ اس نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! جیسے ہی ہمارا اس قوم سے سامنا ہوا، ہم نے اپنے کندھے ان کے حوالے کر دیے، وہ جہاں چاہتے ہمیں اپنی تلواروں کا نشانہ بناتے، لیکن اللہ کی قسم! میں لوگوں کو ملامت نہیں کرتا کیونکہ ہمارا مقابلہ ایسے سفید پوش سواروں سے تھا جو چتکبرے گھوڑوں پر سوار تھے، اللہ کی قسم! وہ کسی چیز کو نہیں چھوڑ رہے تھے، ابو رافع کہتے ہیں کہ میں نے حجرے کی طناب اٹھائی اور کہا: اللہ کی قسم! وہ تو فرشتے تھے، یہ سن کر ابولہب نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور میرے چہرے پر ایک زوردار تھپڑ مارا، میں اس سے گتھم گتھا ہو گیا لیکن میں ایک کمزور آدمی تھا، اس نے مجھے اٹھا کر زمین پر دے مارا اور میرے سینے پر چڑھ کر مجھے مارنے لگا، یہ دیکھ کر ام الفضل رضی اللہ عنہا حجرے کے ایک ستون کی طرف لپکیں اور اسے پکڑ کر کہنے لگیں: کیا تو نے اسے اس لیے کمزور سمجھا ہے کہ اس کا آقا موجود نہیں ہے؟ اور انہوں نے وہ ستون اس کے سر پر دے مارا جس سے اسے انتہائی برا زخم آیا، وہ ذلیل ہو کر اپنے پاؤں گھسیٹتا ہوا وہاں سے چلا گیا، پھر اللہ نے اسے عدسہ یعنی طاعون جیسی وبائی گلٹی کی بیماری میں مبتلا کر دیا، اللہ کی قسم! اس واقعے کے سات دن بعد ہی وہ مر گیا، اس کے بیٹوں نے اسے تین دن تک گھر میں پڑا رہنے دیا اور اسے دفن نہیں کیا یہاں تک کہ اس کی لاش سڑ گئی، قریش کے لوگ اس بیماری سے ویسے ہی ڈرتے تھے جیسے طاعون سے ڈرا جاتا ہے، یہاں تک کہ قریش کے ایک شخص نے اس کے بیٹوں سے کہا: افسوس ہے تم پر! کیا تمہیں شرم نہیں آتی کہ تمہارا باپ گھر میں سڑ رہا ہے اور تم اسے دفن نہیں کر رہے؟ انہوں نے کہا: ہمیں اس زخم کی چھوت لگنے کا ڈر ہے، اس نے کہا: تم چلو میں تمہاری مدد کرتا ہوں، اللہ کی قسم! انہوں نے اسے غسل نہیں دیا بلکہ دور سے اس پر پانی پھینکا کیونکہ وہ اس کے قریب نہیں جانا چاہتے تھے، پھر اسے اٹھا کر مکہ کے بالائی حصے میں لے گئے، وہاں اسے ایک دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر رکھا اور اس پر پتھروں کا ڈھیر لگا دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5493]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف كما تقدَّم بيانه برقم (5490) حيث تقدم الخبر هناك من طريق جرير بن حازم عن محمد بن إسحاق.» [ترقيم الرساله 5493] [ترقيم الشركة 5447] [ترقيم العلميه 5406]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5494
وأخبرني أبو أحمد التَّمِيمي، حدثنا أبو العباس أحمد بن محمد بن الحُسين، حدثنا عمرو بن زُرارة، قال: أخبرنا زياد بن عبد الله، عن محمد بن إسحاق، حدثني حُسين بن عبد الله، عن عِكرمة، قال: قال أبو رافع: كنت غلامًا للعباس بن عبد المُطّلب، وكان الإسلامُ دَخَلَنا أهل البيت، فأسلم العباسُ، وأسلمت أمُّ الفَضل، وأسلمتُ، وكان العباسُ يَهابُ قومَه ويَكْرَه خِلافَهم، وكان يَكتُم إسلامه (1) . ولم يَزِدْ أبو أحمد في هذا الإسناد على هذا المتن، وأتى به مُرسَلًا، هذا الذي انتهى إلينا من الأخبار التي تدل على تقدُّم إسلامِ العباس بن عبد المُطّلب قبل بَدْرٍ، فاسمع الآنَ الأخبار التي تُضَادُّها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5407 - حسين بن عبد الله واه
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا غلام تھا، ہم اہلِ بیت (عباس کے گھرانے) میں اسلام داخل ہو چکا تھا، چنانچہ سیدنا عباس، ام الفضل اور میں اسلام لا چکے تھے، مگر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اپنی قوم سے ڈرتے تھے اور ان کی مخالفت کو ناپسند کرتے تھے، اس لیے وہ اپنا اسلام چھپاتے تھے۔
ابو احمد نے اس سند میں صرف یہی متن ذکر کیا ہے اور اسے مرسل روایت کیا ہے، یہ وہ تمام خبریں ہیں جو ہمیں پہنچیں اور اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ غزوہ بدر سے پہلے ہی اسلام لا چکے تھے، اب وہ خبریں سماعت فرمائیں جو اس کے برعکس ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5494]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف كسابقه،» [ترقيم الرساله 5494] [ترقيم الشركة 5448] [ترقيم العلميه 5407]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5495
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا الحُسين بن محمد بن زياد القَبّاني والحسن بن علي بن زياد السُّرِّي وصالح بن محمد الرازي، قالوا: حدثنا إبراهيم بن المُنذِر الحِزامي، حدثنا محمد بن فُلَيح، عن موسى بن عُقبة، قال: وقال ابن شِهابٍ: حدَّثه أنس بن مالك: أنَّ رجالًا من الأنصار استأذَنُوا رسول الله ﷺ، فقالوا: ائذَن لنا فنَترُكَ لابنِ أُختِنا العباس فِداءه، فقال:"واللهِ لا تَذَرُون درهما" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5408 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی اور عرض کی: ہمیں اجازت عطا فرمائیے کہ ہم اپنے بھانجے عباس کا فدیہ چھوڑ دیں (یعنی معاف کر دیں)، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم! تم ان کا ایک درہم بھی نہیں چھوڑو گے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5495]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل محمد بن فُليح» [ترقيم الرساله 5495] [ترقيم الشركة 5449] [ترقيم العلميه 5408]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں