🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

449. إِنْشَادُ الْعَبَّاسِ فِي مَدْحِ النَّبِيِّ بِحَضْرَتِهِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا نبی کی مدح میں اشعار پڑھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5504
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَخْتَري عبد الله بن محمد ابن شاكر، حدثنا زكريا بن يحيى الخَزّاز، حدثنا عمُّ أبي زَحْرُ بن حِصن، عن جده حُميد بن مُنهب، قال: سمعت جَدّي خُرَيم بن أوس بن حارثة بن لأم يقول: هاجرتُ إلى رسول الله ﷺ مُنصَرَفَه من تَبُوك، فأسلمتُ، فسمعتُ العباسَ بن عبد المطلب يقول: يا رسول الله، إني أريد أن أمتَدِحَك، فقال رسول الله ﷺ:"قُلْ، لا يَفْضُضِ اللَّهُ فَاكَ"، قال: فقال العباس: من قَبلِها طِيبتَ في الظِّلالِ وفي … مستودع حين يُخصَفُ الوَرَقُ ثم هبطت البلاد لا بَشَرٌ … أنت ولا مُضغةٌ ولا عَلَقُ بَل نُطْفةٌ تَركَبُ السَّفِينَ وقد … أَلْجَمَ نَسْرًا وأهلَه الغَرَقُ تُنقَلُ مِن صالبٍ إلى رَحِمٍ … إذا مَضَى عالمٌ بدا طَبَقُ حتّى احتوى بيتُك المُهَيمِنُ مِن … خِنْدِفَ عَلْياءَ تحتَها النُّطُقُ وأنت لما وُلِدتَ أشرقَتِ ال … أرضُ وضاءَتْ بِنُورِكَ الأُفُقُ فنحنُ في ذلك الضياءِ وفي الن … نُورِ وَسُبْلِ الرَّشادِ نَحْتَرِقُ (1)
هذا حديث تَفرَّد به رواتُه الأعرابُ عن آبائهم، وأمثالُهم من الرواة لا يُضعَّفُون.
سیدنا خریم بن اوس بن حارثہ بن لام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں غزوہ تبوک سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی پر ہجرت کر کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کر لیا، پھر میں نے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کی مدح و ثنا بیان کرنا چاہتا ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو، اللہ تمہارا منہ سلامت رکھے۔ اس پر عباس رضی اللہ عنہ نے (اشعار میں) عرض کیا: آپ اس (دنیا میں آنے) سے پہلے سایوں میں اور اس جائے امان میں پاکیزہ رہے جب (جنت میں آدم و حوا پر) پتے جوڑے جا رہے تھے۔ پھر آپ زمین پر اترے، اس وقت آپ نہ بشر تھے، نہ گوشت کا لوتھڑا اور نہ جما ہوا خون۔ بلکہ آپ ایک نطفہ تھے جو کشتی میں سوار ہوا، جبکہ غرقابی نے نسر (بت) اور اس کے پجاریوں کو لگام ڈال دی تھی۔ آپ ایک پشت سے دوسرے رحم کی طرف منتقل ہوتے رہے، جب ایک عالم (نسل) گزر جاتا تو دوسرا طبقہ ظاہر ہوتا۔ یہاں تک کہ آپ کے باعظمت گھرانے نے خندف (قبیلے) کی اس بلندی کو پا لیا جس کے نیچے کئی طبقات تھے۔ اور جب آپ کی ولادت ہوئی تو زمین جگمگا اٹھی اور آپ کے نور سے افق روشن ہو گیا۔ پس ہم اسی روشنی، نور اور ہدایت کے راستوں پر گامزن ہیں۔
اس حدیث کو ان اعرابی (دیہاتی) راویوں نے اپنے آباء سے روایت کرنے میں تفرد اختیار کیا ہے، اور اس طرح کے راویوں کو ضعیف قرار نہیں دیا جاتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5504]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين إن شاء الله، كما مضي بيانه برقم (5382).» [ترقيم الرساله 5504] [ترقيم الشركة 5458]

الحكم على الحديث: إسناده محتمل للتحسين إن شاء الله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں