🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

448. دُعَاءُ النَّبِيِّ فِي حَقِّ الْعَبَّاسِ وَوَلَدِهِ
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5501
حدثنا الشيخ الإمام أبو بكر بن إسحاق وأبو بكر محمد بن أحمد بن بالوَيهِ في آخَرِين، قالوا: حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني يحيى بن مَعِين، حدثنا عُبيد بن أبي قُرَّة، حدثنا الليث بن سعد، عن أبي قَبِيل، عن أبي مَيسرة مولى العباس، قال: سمعتُ العباس يقول: كنتُ عند النبيِّ ﷺ ذاتَ ليلةٍ، فقال لي:"انظُرْ هل تَرى في السماءِ من شيءٍ؟"، قلتُ: نعم، قال:"ما تَرى؟" قلت: الثُّريّا، فقال:"أما إنه يَملِكُ هذه الأمَّةَ بِعَدَدِها من صُلْبِك" (1) .
هذا حديث تَفَرَّد به عُبيد بن أبي قُرَّة عن الليث، وإمامنا أبو زكريا ﵀ (1) لو لم يَرْضَه لما حدَّث عنه بمِثل هذا الحديث.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5414 - لم يصح هذا
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا: آسمان کی جانب دیکھو، میں نے آسمان کی جانب دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں آسمان میں کوئی چیز نظر آ رہی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا چیز نظر آ رہی ہے؟ میں نے کہا: ثریا۔ (یعنی ستارے نظر آ رہے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری نسل میں اس کے برابر تعداد ہو گی۔ ٭٭ عبید بن ابی قرہ یہ حدیث لیث سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔ اور ہمارے امام ابوزکریا رحمۃ اللہ علیہ اگر اس حدیث پر راضی نہ ہوتے تو ایسی حدیث ہرگز بیان نہ کرتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5501]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5502
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا إبراهيم بن حمزة الزُّبيري، حدثنا إسماعيل بن قيس بن سعد بن زيد بن ثابت، عن أبي حازم، عن سهل بن سعد، قال: خَرجَ رسول الله ﷺ في زمان القَيْظِ فَنَزَل منزلًا، فقام رسولُ الله ﷺ يَعْتسِلُ، فقام العباسُ بن عبد المطلب فستره بكِساءٍ من صُوف، قال سهل: فنظرتُ إلى رسول الله ﷺ من جانب الكساء، وهو رافعٌ رأسه إلى السماء، وهو يقول:"اللهمَّ استُر العباسَ وولدَه من النار" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5415 - إسماعيل بن قيس بن سعد ضعفوه
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت گرمی کے موسم میں (سفر پر) نکلے، ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرنے کے لئے کھڑے ہوئے، سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے ایک اونی چادر کے ساتھ آپ کے لئے پردہ کر دیا۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے چادر کی جانب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اپنا چہرا آسمان کی جانب اٹھا کر یہ دعا مانگ رہے تھے اے اللہ! عباس اور اس کی اولاد کو دوزخ سے بچا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5502]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں