المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
450. مُعْجِزَةُ رَمْيِ النَّبِيِّ الْحَصَاةَ وَانْهِزَامُ الْكُفَّارِ يَوْمَ حُنَيْنٍ
غزوۂ حنین کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کنکری پھینکنا اور کفار کا شکست کھا جانا (معجزہ)
حدیث نمبر: 5504
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَخْتَري عبد الله بن محمد ابن شاكر، حدثنا زكريا بن يحيى الخَزّاز، حدثنا عمُّ أبي زَحْرُ بن حِصن، عن جده حُميد بن مُنهب، قال: سمعت جَدّي خُرَيم بن أوس بن حارثة بن لأم يقول: هاجرتُ إلى رسول الله ﷺ مُنصَرَفَه من تَبُوك، فأسلمتُ، فسمعتُ العباسَ بن عبد المطلب يقول: يا رسول الله، إني أريد أن أمتَدِحَك، فقال رسول الله ﷺ:"قُلْ، لا يَفْضُضِ اللَّهُ فَاكَ"، قال: فقال العباس: من قَبلِها طِيبتَ في الظِّلالِ وفي … مستودع حين يُخصَفُ الوَرَقُ ثم هبطت البلاد لا بَشَرٌ … أنت ولا مُضغةٌ ولا عَلَقُ بَل نُطْفةٌ تَركَبُ السَّفِينَ وقد … أَلْجَمَ نَسْرًا وأهلَه الغَرَقُ تُنقَلُ مِن صالبٍ إلى رَحِمٍ … إذا مَضَى عالمٌ بدا طَبَقُ حتّى احتوى بيتُك المُهَيمِنُ مِن … خِنْدِفَ عَلْياءَ تحتَها النُّطُقُ وأنت لما وُلِدتَ أشرقَتِ ال … أرضُ وضاءَتْ بِنُورِكَ الأُفُقُ فنحنُ في ذلك الضياءِ وفي الن … نُورِ وَسُبْلِ الرَّشادِ نَحْتَرِقُ (1)
هذا حديث تَفرَّد به رواتُه الأعرابُ عن آبائهم، وأمثالُهم من الرواة لا يُضعَّفُون.
هذا حديث تَفرَّد به رواتُه الأعرابُ عن آبائهم، وأمثالُهم من الرواة لا يُضعَّفُون.
خریم بن اوس بن حارثہ بن لام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم تبوک سے واپس لوٹے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، اور اسلام لے آیا، میں نے سنا کہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کی تعریف و ثناء کرنا چاہتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) کہو، اللہ تعالیٰ تمہارے منہ کو کبھی خالی نہ کرے۔ انہوں نے درج ذیل اشعار پڑھے۔ * آپ اس سے پہلے جنت میں تھے اور سیدنا حواء رضی اللہ عنہا کے بطن مبارک میں جہاں پر جسم پر درختوں کے پتے لپیٹے جا رہے تھے۔ * پھر آپ اس وطن میں آئے جہاں آپ نہ بشر تھے، نہ مضغہ (گوشت کی بوٹی) تھے اور نہ علق (خون کی پھٹک) تھے۔ * بلکہ ایک نطفہ تھے، اور آپ کشتی نوح میں سوار ہوئے اور قوم نوح کے ”نسر“ نامی بت کے گلے میں رسی ڈالی، اور اس کے ماننے والوں کو ڈبویا۔ * آپ پاک پشتوں سے پاک رحموں میں منتقل ہوتے رہے زمانہ گزرتا رہا اور صدیاں بیت گئیں۔ * آپ کی شرافت جو کہ آپ کے فضل و کمال پر شاہد ہے غالب آ گئی بڑے بڑے خاندانوں پر، کہ باقی تمام خاندان اس بلند مرتبے کے نیچے ہیں۔ * جب آپ کی ولادت ہوئی تو زمین روشن ہو گئی اور آسمان چمک اٹھا۔ * ہم اسی نور اور اسی روشنی میں، اور نیکی کے راستوں میں چلتے ہیں۔ اس حدیث کے عرب راوی اپنے آباء سے یہ حدیث روایت کرنے میں منفرد ہیں اور اس قسم کے راویوں کو چھوڑا نہیں جا سکتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5504]