🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

450. مُعْجِزَةُ رَمْيِ النَّبِيِّ الْحَصَاةَ وَانْهِزَامُ الْكُفَّارِ يَوْمَ حُنَيْنٍ
غزوۂ حنین کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کنکری پھینکنا اور کفار کا شکست کھا جانا (معجزہ)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5505
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، قال: أخبرنا ابن وهب، أخبرني يونس، عن الزُّهْري، حدثني كَثِير بن العباس بن عبد المُطّلب قال: قال العباسُ: شهدتُ مع رسول الله ﷺ يومَ حُنين، فلَزِمتُ أنا وأبو سفيان بن الحارث بن عبد المُطّلب رسول الله ﷺ، فلم نُفارقه، ورسولُ الله ﷺ على بغلةٍ له بيضاءَ أهداها له فَرُوةُ بن نُفَاثَة (1) الجُذَامِي، فلما التَقَى المسلمون والكفارُ وَلَّى المسلمون مُديرين، فطَفِقَ رسولُ الله ﷺ يَركُضُ بَعْلتَه قِبَلَ الكفار، قال العباس: وأنا آخذٌ بِلِجَام بغلةِ رسولِ الله ﷺ أكُفُّها إرادة أن لا تُسرع، وأبو سفيان آخِذٌ بركاب رسول الله ﷺ فقال رسول الله ﷺ:"أَيْ عباسُ، نادِ أصحابَ السَّمُرةِ"، قال: فواللهِ لَكَأنّما عَطْفتُهم حين ما سَمِعُوا صوتي عطفة البقَرِ على أولادها، فقالوا: يا لَبَّيْكَاهُ يا لَبَّيْكَاهُ. قال: فاقتَتَلُوا هم والكفارُ، والدعوةُ في الأنصار يقولون: يا معشرَ الأنصار، ثم قُصرت الدَّعوةُ على بني الحارث بن الخَزرج، فقالوا: يا بني الحارث بن الخزرج، يا بني الحارث بن الخزرج، فنظر رسولُ الله ﷺ وهو على بَغْلَتِه كالمُتطاول عليها إلى قتالهم، فقال رسول الله ﷺ:: هذا حينَ حَمِيَ الوَطِيسُ"، قال: ثم أخَذَ رسولُ الله ﷺ حَصَيَاتٍ فرمى بهنَّ في وجوه الكُفّار، ثم قال:"انهَزَمُوا وربِّ محمّدٍ"، فذهبتُ أنظُرُ، فإذا القتالُ على هَيْئَتِه فيما أَرَى، فما هو إلَّا أن رَمَاهم رسولُ الله ﷺ بحَصَياتِه، فما زِلتُ أَرى حَدَّهم كَلِيلًا، وأمرهم مُدبرًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5418 - على أخرجه مسلم
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں غزوہ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھا۔ میں اور ابو سفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چمٹے رہے اور ہم نے آپ کو تنہا نہیں چھوڑا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفید خچر پر سوار تھے جو آپ کو فروہ بن نفاثہ جذامی نے ہدیہ کیا تھا۔ جب مسلمانوں اور کفار کا ٹکراؤ ہوا تو مسلمان پیٹھ پھیر کر واپس ہونے لگے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر کو کفار کی طرف دوڑانے لگے۔ عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر کی لگام پکڑے اسے روک رہا تھا تاکہ وہ زیادہ تیز نہ دوڑے، اور ابو سفیان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رکاب پکڑے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عباس! اصحابِ سمرہ (درخت کے نیچے بیعتِ رضوان کرنے والوں) کو آواز دو۔“ عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! جب انہوں نے میری آواز سنی تو وہ اس طرح پلٹ کر آئے جیسے گائے اپنے بچھڑوں کی طرف بے تاب ہو کر پلٹتی ہے، اور انہوں نے کہا: ”ہم حاضر ہیں، ہم حاضر ہیں۔“ پھر وہ اور کفار آپس میں لڑنے لگے، اور انصار میں پکار لگائی جانے لگی، وہ کہہ رہے تھے: ”اے گروہِ انصار!“ پھر یہ پکار بنو حارث بن خزرج تک محدود ہو گئی، اور وہ کہنے لگے: ”اے بنو حارث بن خزرج! اے بنو حارث بن خزرج!“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار گردن اٹھا کر ان کی لڑائی کو دیکھنے لگے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب جنگ کے تنور نے جوش مارا ہے (یعنی جنگ خوب بھڑک اٹھی ہے)۔“ عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کنکریاں لیں اور انہیں کفار کے چہروں کی طرف پھینکا، پھر فرمایا: ”محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رب کی قسم! یہ شکست کھا گئے۔“ میں دیکھنے لگا تو جنگ کی کیفیت ابھی ویسی ہی تھی جیسی میں دیکھ رہا تھا، لیکن جونہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کنکریاں ماریں، تو اس کے بعد میں مسلسل ان کی طاقت کو کند پڑتا اور انہیں پسپا ہوتے ہوئے دیکھتا رہا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5505]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،ابن وهب: هو عبد الله، ويونس: هو ابن يزيد الأيلي.» [ترقيم الرساله 5505] [ترقيم الشركة 5459] [ترقيم العلميه 5418]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں