🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

453. صِفَةُ الْعَبَّاسِ عَلَى لِسَانِ ابْنِ عَبَّاسٍ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی زبان سے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی صفات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5509
حدثني محمد بن صالح بن هانئ حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت، عن عُقبة بن عبد الغافر، قال: دخل عبدُ الله بن العباس على معاوية بن أبي سفيان، وقد تحلَّقَت عندَه بُطُونُ قُريش، فسأله معاويةُ عن آبائهم إلى أن قال: فما تقولُ في أبيك العباس بن عبد المُطّلب؟ فقال: رَحِم الله أبا الفضل، كان والله عمَّ نَبي الله، وقُرَّةَ عَينِ رسولِ الله، سيد الأعمام والأخدان، جَدَّ الأجداد، وآباؤه الأجوادُ، وأجدادُه الأنجادُ، له عِلمٌ بالأمور، قد زانَه حِلْمٌ، وقد عَلَاهُ فَهُمٌ، كان يَكسِبُ حِيالَهُ كلَّ مُهذَبٍ (1) [صِنديد] ، ويجتنب برأيه (2) كلَّ مُخالفٍ رِعْدِيد تَلاشَتِ الأخدانُ عند ذِكْرِ فَضِيلتِه، وتَباعَدَت الأنسابُ عند ذكر عَشيرته، صاحب البيتِ والسِّقاية والنَّسبِ والقرابة، ولِمَ لا يكون كذلك، وكيف لا يكون كذلك ومُدبِّرُ سِياستِه أكرمُ مَن دَبَّ (3) ، وأفهَمُ مَن مَشَى من قريشٍ وركب (4) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5422 - على شرط مسلم
عقبہ بن عبدالغافر سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما امیر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے پاس گئے، اس وقت ان کے پاس قریش کے مختلف قبائل کے لوگ حلقہ بنائے بیٹھے تھے۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے ان کے آباء و اجداد کے متعلق سوالات کیے، یہاں تک کہ انہوں نے پوچھا: آپ اپنے والد عباس بن عبدالمطلب کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ابو الفضل (عباس رضی اللہ عنہ) پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم! وہ اللہ کے نبی کے چچا، رسول اللہ کی آنکھوں کی ٹھنڈک، چچاؤں اور دوستوں کے سردار اور بزرگوں کی شان تھے۔ ان کے آباء سخی اور اجداد بہادر تھے۔ انہیں معاملات کا گہرا علم تھا، بردباری نے انہیں زینت بخشی تھی اور سمجھ بوجھ ان پر غالب تھی۔ وہ اپنی حکمتِ عملی سے ہر مہذب اور باوقار شخص کو اپنا گرویدہ بنا لیتے تھے، اور اپنی بہترین رائے کے ذریعے ہر ڈرپوک اور بزدل مخالف سے کنارہ کشی اختیار کرتے تھے۔ ان کی فضیلت کے تذکرے کے سامنے دوستوں کی حیثیت ماند پڑ جاتی تھی، اور ان کے خاندان کے ذکر پر دوسرے نسب پیچھے رہ جاتے تھے۔ وہ بیت اللہ کے متولی، حاجیوں کو پانی پلانے والے اور اعلیٰ نسب و قرابت والے تھے۔ اور وہ ایسے کیوں نہ ہوتے، اور بھلا ایسے کیسے نہ ہوتے جبکہ ان کی تربیت اور رہنمائی کرنے والی وہ ہستی (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) تھی جو قریش میں زمین پر چلنے اور سواری کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر معزز اور سب سے زیادہ سمجھدار تھی۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5509]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عبد الأعلى» [ترقيم الرساله 5509] [ترقيم الشركة 5463] [ترقيم العلميه 5422]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں