🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

454. مَجِيءُ مَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ وَإِعْطَاءُ النَّبِيِّ مِنَ الْعَبَّاسِ
بحرین سے مال آنے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو عطا فرمانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5509
حدثني محمد بن صالح بن هانئ حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت، عن عُقبة بن عبد الغافر، قال: دخل عبدُ الله بن العباس على معاوية بن أبي سفيان، وقد تحلَّقَت عندَه بُطُونُ قُريش، فسأله معاويةُ عن آبائهم إلى أن قال: فما تقولُ في أبيك العباس بن عبد المُطّلب؟ فقال: رَحِم الله أبا الفضل، كان والله عمَّ نَبي الله، وقُرَّةَ عَينِ رسولِ الله، سيد الأعمام والأخدان، جَدَّ الأجداد، وآباؤه الأجوادُ، وأجدادُه الأنجادُ، له عِلمٌ بالأمور، قد زانَه حِلْمٌ، وقد عَلَاهُ فَهُمٌ، كان يَكسِبُ حِيالَهُ كلَّ مُهذَبٍ (1) [صِنديد] ، ويجتنب برأيه (2) كلَّ مُخالفٍ رِعْدِيد تَلاشَتِ الأخدانُ عند ذِكْرِ فَضِيلتِه، وتَباعَدَت الأنسابُ عند ذكر عَشيرته، صاحب البيتِ والسِّقاية والنَّسبِ والقرابة، ولِمَ لا يكون كذلك، وكيف لا يكون كذلك ومُدبِّرُ سِياستِه أكرمُ مَن دَبَّ (3) ، وأفهَمُ مَن مَشَى من قريشٍ وركب (4) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5422 - على شرط مسلم
سیدنا عقبہ بن عبدالغافر فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، اس وقت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس قریش کے کچھ خاندان حلقہ لگائے بیٹھے تھے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے آباء و اجداد کے بارے میں سوالات کئے، پھر یہ پوچھا کہ تمہاری اپنے والد عباس بن عبدالمطلب کے بارے میں کیا رائے ہے؟انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے، وہ ابوالفضل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک تھے۔ آپ کے سب سے بڑے چچا تھے، اور آپ کے بہت اچھے دوست تھے، بہت بزرگی والے تھے، ان کے آباء و اجداد سخی اور اچھے راہنما تھے، ان کو بہت سے امور کا علم تھا، حوصلہ اور بردباری ان کا زیور تھا، ان کی فہم و فراست بہت بلند تھی، ہر گالی دینے والے کے سامنے حوصلہ رکھتے تھے، اور ہر سخت مخالف کو اپنے رائے کے موافق کر لیتے تھے، جب ان کی فضیلتوں کا تذکرہ ہوتا ہے تو ان کے دوست ان کی کمی محسوس کرتے ہیں، ان کے خاندان کا تذکرہ چلے تو لوگ ان کے گھرانے، ان کے خاندان، ان کے نسب اور قرابت کی دور دراز کے تعلقات جوڑ کر ان سے نسبت قائم کرتے ہیں۔ ایسا کیوں نہ ہو؟ یہ کیسے نہ ہو؟ ان کی سیاست کی تدبیریں کرنے والا ان کے پچھلے تمام لوگوں سے زیادہ باعزت ہے اور پورے قریش خاندان سے زیادہ سمجھدار ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5509]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5510
أخبرنا أبو أحمد بكر بن محمد بن حمدان الصَّيرفي بمَرُو، حدثنا موسى بن سهل بن كثير، حدثنا هاشم بن القاسم، حدثنا سليمان بن المُغيرة، عن حُمَيد بن هلال، عن أبي موسى الأشعري: أنَّ العلاء بن الحَضْرمي بَعَثَ إلى رسول الله ﷺ من البحرين بثمانين ألفًا، فما أتى رسول الله ﷺ مالٌ أكثر منه لا قبلها ولا بعدها، فأَمر بها، فنُثرَت على حَصِير، ونُودي بالصلاة، فجاء رسولُ الله ﷺ يَميلُ على المال قائمًا، فجاء الناسُ وجعل يُعطيهم، وما كان يومئذٍ عددٌ ولا وزنٌ، ما كان إِلَّا قَبضًا، فجاء العباسُ فقال: يا رسول الله، إني أعطَيتُ فِدائي وفداء عَقِيل يوم بدر، ولم يكن لعَقِيل مالٌ، أعطني من هذا المال، فقال رسولُ الله ﷺ:"خُذْ" فَحَثَى فِي خَمِيصةٍ كانت عليه، ثم ذهب ينصرفُ فلم يَستطِع، فرفع رأسه إلى رسول الله ﷺ، فقال: يا رسول الله، ارفع عليَّ، فتبسَّم رسولُ الله ﷺ وهو يقول (1) : أما أحدُ ما وَعَدَ الله فقد أنجز، ولا أدري الأخرى، ﴿قُلْ لِمَنْ فِي أَيْدِيكُمْ مِنَ الْأَسْرَى إِنْ يَعْلَمِ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمْ خَيْرًا يُؤْتِكُمْ خَيْرًا مِمَّا أُخِذَ مِنْكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ﴾، هذا خيرٌ مما أُخِذ مني، ولا أدري ما يُصنع في المغفرة (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5423 - على شرط مسلم
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: علاء بن حضرمی نے بحرین سے اسی ہزار مال بھیجا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد اتنا مال کبھی کسی نے نہیں بھیجا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور وہ مال چٹائی پر بکھیر دیا گیا، پھر جب اذان ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور مال کی جانب جھک کر کھڑے ہو گئے، لوگ آنا شروع ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مال دینا شروع کیا۔ اس دن مال نہ تو گن کر دیا گیا اور نہ ہی تولا گیا بلکہ آپ لپ بھر بھر کر دیتے رہے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے جنگ بدر کے موقع پر اپنا بھی فدیہ دیا تھا اور عقیل ابن ابی طالب کا بھی دیا تھا لیکن عقیل کے پاس اس وقت تک اتنا مال نہیں ہے کہ وہ میرا قرضہ ادا کر سکے۔ اس لئے آپ مجھے اس مال میں سے حصہ عطا فرما دیجئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لے لیجئے، انہوں نے اپنے جبہ میں بہت سارا مال بھر لیا، اور چلنے لگے تو وہ جبہ اٹھا نہ سکے، انہوں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ گٹھڑی اٹھووا دیجئے، یہ منظر دیکھ کر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے اور فرمایا: میں تو یہ جانتا ہوں کہ میں نے جس جس سے جو وعدہ کیا تھا آج اللہ تعالیٰ نے وہ پورا کر دیا۔ وہ وعدہ یہ تھا قُلْ لِمَنْ فِي أَيْدِيكُمْ مِنَ الْأُسَارَى، إِنْ يَعْلَمِ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمْ خَيْرًا يُؤْتِكُمْ خَيْرًا مِمَّا أُخِذَ مِنْكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ (الانفال: 70) اے غیب کی خبریں بتانے والے جو قیدی تمہارے ہاتھ ہیں ان سے فرماؤ اگر اللہ نے تمہارے دل میں بھلائی جانی تو جو تم سے لیا گیا اس سے بہتر تمہیں عطا فرمائے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ترجہ کنزالایمان، امام احمد رضا) (سیدنا عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) یہ مال تو واقعی اس سے بہتر ہے جو اس نے مجھ سے لیا تھا لیکن اب یہ پتا نہیں ہے کہ مغفرت کے حوالے سے ہمارے ساتھ کیا بنے گا؟ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5510]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں