المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
466. وَصِيَّةُ أَبِي ذَرٍّ عِنْدَ وَفَاتِهِ
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت کی وصیت
حدیث نمبر: 5542
أخبرنا الشيخ الإمام أبو بكر بن إسحاق، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضر الأزدي، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زائدةُ، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، حدثنا مُجاهد، قال: قال أبو ذَرٍّ لنَفَرٍ عنده: إنه قد حَضَرني ما تَرَون من الموت، ولو كان لي ثَوبٌ يَسَعُني كَفَنًا أو لصاحبتي لم أُكفَّن إلَّا في ذلك، وإني أَنشُدُكُم أن لا يُكفِّنَني منكم رجلٌ كان عَريفًا أو نقيبًا أو أميرًا أو بريدًا، وكان القومُ أشرافًا، كان حُجرٌ المَدَريُّ ومالكٌ الأشتَرُ في نَفَرٍ فيهم رجل من الأنصار، وكلُّ القومِ قد أصابَ لذلك منزلًا إِلَّا الأنصاريَّ، فقال: أنا أُكفِّنُك في رِدائي هذا، وفي ثَوبَين في عَيبَتي من غَزْلِ أُمّي حاكَتْهُما لي حتى أُحرِمَ فيهما، فقال أبو ذرٍّ: كَفَاني. (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5452 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5452 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
مجاہد سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس موجود چند لوگوں سے فرمایا: ”جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو میری موت کا وقت قریب آ پہنچا ہے، اگر میرے پاس کوئی ایسا کپڑا ہوتا جو مجھے یا میری بیوی کو کفن کے لیے کافی ہوتا تو مجھے اسی میں کفن دیا جاتا۔ میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم میں سے کوئی ایسا شخص مجھے کفن نہ دے جو کسی قوم کا سردار، نقیب، امیر یا قاصد (سرکاری اہلکار) رہا ہو۔“ وہ سب لوگ معززین میں سے تھے، ان میں حجر مدری اور مالک اشتر بھی تھے، اور ان کے ہمراہ ایک انصاری شخص بھی تھا۔ انصاری کے علاوہ ان سب لوگوں نے ان عہدوں میں سے کوئی نہ کوئی عہدہ سنبھالا ہوا تھا۔ پس اس انصاری نے کہا: ”میں آپ کو اپنی اس چادر میں اور ان دو کپڑوں میں کفن دوں گا جو میرے تھیلے میں موجود ہیں، یہ میری والدہ کے کاتے ہوئے سوت سے بنے ہیں اور انہوں نے یہ میرے لیے بُنے تھے تاکہ میں ان میں احرام باندھ سکوں۔“ یہ سن کر سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ میرے لیے کافی ہیں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5542]
تخریج الحدیث: «حديث حسنٌ، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم لكنه مرسل، لأنَّ مجاهدًا - وهو ابن جَبْر المكي - لم يُدرك أبا ذرٍّ الغفاري، لكن روي هذا الخبر متصلًا من طريق أخرى حَسَنة عن عبد الله بن عثمان بن خُثيم ستأتي عند المصنف برقم (5559). زائدة: هو ابن قُدامة.» [ترقيم الرساله 5542] [ترقيم الشركة 5495] [ترقيم العلميه 5452]
الحكم على الحديث:
حديث حسنٌ