المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
475. وَفَاةُ أَبِي ذَرٍّ فِي فَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ وَمَجِيءُ جَمَاعَةٍ
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کی ایک ویران جگہ میں وفات اور ایک جماعت کا وہاں پہنچنا
حدیث نمبر: 5559
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا علي بن عبد الله المَديني، حَدَّثَنَا يحيى بن سُلَيم الطائفي، حَدَّثَنَا عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن مُجاهِد، عن إبراهيمَ بن الأشْتَر، عن أبيه، عن أمِّ ذرٍّ، قالت: لما حَضَرت أبا ذرٍّ الوفاةُ بَكيتُ، فقال لي: ما يُبكيكِ؟ فقلت: وما لي لا أبكي وأنت تموتُ بفَلاةٍ من الأرض، وليس عِندي ثوبٌ يَسَعُك كَفَنًا لي، ولا لكَ، ولا يَدَينِ لي بتغييبِك، قال: فأبشِري ولا تبكي، فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"لا يموتُ بين امرأَينِ مُسلِمَين ولدان أو ثلاثةٌ فيحتَسِبانِ فيَرَيانِ النارَ أبدًا". وإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول لنَفَرٍ أنا فيهم:"لَيمُوتَنَّ رجل منكم بفَلاةٍ من الأرض تَشْهَدُه عِصابةٌ من المؤمنين"، وليس من أولئك النفرِ أحدٌ إلا وقد مات في قريةٍ وجماعةٍ، فأنا ذلك الرجلُ، واللهِ ما كَذَبتُ ولا كُذِبتُ، فأَبصِري الطريقَ، فقلت: أنَّى وقد ذهب الحاجُ وتَقطَّعَتِ الطَّرِيقُ؟ فقال: اذهبي فتبصَّري قالت: فكنتُ أَشتدُّ إلى الكَثِيب، ثم أرجِعُ فأُمرِّضُه، فبينما أنا وهو كذلك إذا أنا برجالٍ على رِحالِهم، كأنهم الرَّخَمُ تَخِدُ (1) بهم رواحِلُهم - قال عليٌّ: قلت ليحيى بن سُلَيم: تَخِدُ أَو تَخُبُّ؟ قال: بالدال - قالت: فألَحْتُ بثَوبي، فأسرَعُوا إِليَّ حتَّى وَقَفُوا عَلَيَّ، فقالوا: ومَن هو؟ قلتُ: أبو ذرٍّ، قالوا: صاحبُ رسولِ الله ﷺ؟! قلتُ: نعم، ففَدَّوهُ بآبائهم وأمّهاتهم، وأسرَعُوا إليه حتَّى دخَلُوا عليه، فقال لهم: أبشِروا، فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول لنَفَرٍ أنا فيهم:"ليموتَنَّ رجلٌ منكم بِفَلاةٍ من الأرض تَشْهَدُه عِصابةٌ من المؤمنين"، ما مِن أولئك النفَرِ رجلٌ إِلَّا وقد هَلَك في قريةٍ وجماعةٍ، والله ما كَذَبتُ ولا كُذِبتُ، أنتم تَسمَعون أنه لو كان عندي ثوبٌ يَسَعُني كَفَنًا أو لامرأتي لم أُكفَّن إلَّا في ثوبٍ لي أو لها، إني أَنشُدُكُم الله، ثم إني أَنشُدُكم الله، أن لا (2) يُكفِّنَني رجلٌ منكم كان أميرًا أو عَريفًا أو بَريدًا أو نَقيبًا، وليس من أولئك النفَر إلّا وقد قارَفَ (3) ما قال، إلَّا فتًى من الأنصار، فقال: أنا أُكفِّنُك يا عمِّ، أكفِّنُك في ردائي هذا، أو في ثَوبَين في عَيْبتي من غَزْل أُمّي، قال: أنتَ فكَفِّنّي، فَكَفَّنَه الأنصاريُّ في النَّفَر الذين حَضَرُوه، وقامُوا عليه ودَفَنُوه في نَفَرٍ كلُّهم يَمانٍ (4) . ذكرُ مناقب حَبِيب بن مَسلَمة الفِهْري ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5470 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5470 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابراہیم بن اشتر اپنے والد سے اور وہ ام ذر رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: جب سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں رونے لگی۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا: ”تمہیں کس چیز نے رلایا؟“ میں نے کہا: میں کیسے نہ روؤں جبکہ آپ اس چٹیل میدان میں وفات پا رہے ہیں، میرے پاس کوئی ایسا کپڑا نہیں جو آپ کے یا میرے کفن کے لیے پورا آ سکے، اور نہ ہی میرے اندر آپ کو اکیلے دفنانے کی طاقت ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ اور مت رو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس مسلمان میاں بیوی کے دو یا تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ ان پر ثواب کی نیت سے صبر کریں، تو وہ کبھی آگ (جہنم) نہیں دیکھیں گے۔“ اور یقیناً میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان چند لوگوں سے فرماتے ہوئے سنا تھا جن میں میں بھی شامل تھا: ”تم میں سے ایک شخص ضرور ایک چٹیل میدان (بیابان) میں وفات پائے گا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کے پاس حاضر ہوگی۔“ ان لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں بچا جس نے کسی بستی یا جماعت میں وفات نہ پائی ہو، پس میں ہی وہ (باقی بچ جانے والا) شخص ہوں، اللہ کی قسم! نہ میں نے جھوٹ بولا ہے اور نہ مجھ سے جھوٹ بولا گیا ہے، لہٰذا تم راستے کی طرف دیکھتی رہو۔“ میں نے کہا: یہ کیسے ممکن ہے جبکہ حاجی جا چکے ہیں اور راستہ کٹ چکا ہے (یعنی مسافروں کی آمد و رفت ختم ہو گئی ہے)؟ انہوں نے فرمایا: ”جاؤ اور جا کر دیکھو۔“ ام ذر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں دوڑ کر ریت کے ٹیلے کی طرف جاتی، پھر واپس آ کر ان کی تیمارداری کرتی۔ اسی دوران میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا جو اپنی سواریوں پر سوار تھے، وہ ایسے لگ رہے تھے جیسے گدھ ہوں، ان کی سواریاں انہیں تیزی سے لا رہی تھیں۔ (راوی علی کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن سلیم سے پوچھا کہ لفظ «تَخِدُ» (دال کے ساتھ) ہے یا «تَخُبُّ» (با کے ساتھ)؟ انہوں نے کہا: دال کے ساتھ۔) ام ذر فرماتی ہیں: میں نے اپنے کپڑے سے انہیں اشارہ کیا تو وہ تیزی سے میری طرف آئے یہاں تک کہ میرے پاس آ کر رک گئے اور پوچھنے لگے: ”یہ کون ہیں؟“ میں نے کہا: ابوذر۔ انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی؟!“ میں نے کہا: جی ہاں۔ یہ سن کر وہ اپنے ماں باپ ان پر فدا کرنے لگے اور جلدی سے ان کے پاس اندر چلے گئے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ! کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان چند لوگوں سے فرماتے ہوئے سنا تھا جن میں میں بھی موجود تھا: ”تم میں سے ایک شخص ضرور بیابان میں وفات پائے گا، جس کے پاس مسلمانوں کی ایک جماعت حاضر ہوگی۔“ ان میں سے کوئی شخص ایسا نہیں بچا مگر وہ کسی بستی اور جماعت میں فوت ہو چکا ہے، اللہ کی قسم! نہ میں نے جھوٹ بولا ہے اور نہ مجھے جھوٹا کہا گیا ہے۔ تم سن رہے ہو کہ اگر میرے پاس کوئی ایسا کپڑا ہوتا جو مجھے یا میری بیوی کو کفن کے لیے پورا آ جاتا تو مجھے میرے یا اس کے کپڑے کے سوا کسی اور میں کفن نہ دیا جاتا۔ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، پھر اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم میں سے کوئی ایسا شخص مجھے کفن نہ دے جو امیر، نقیب، قاصد یا کسی قوم کا سردار رہا ہو۔“ ان لوگوں میں کوئی ایسا نہ تھا جس نے ان عہدوں میں سے کوئی عہدہ نہ سنبھالا ہو، سوائے ایک انصاری نوجوان کے، اس نے کہا: ”اے چچا! میں آپ کو کفن دوں گا، میں آپ کو اپنی اس چادر میں یا ان دو کپڑوں میں کفن دوں گا جو میرے تھیلے میں ہیں اور میری والدہ کے کاتے ہوئے سوت سے بنے ہیں۔“ ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں، تم ہی مجھے کفن دینا۔“ چنانچہ حاضرین میں سے اس انصاری نے ہی انہیں کفن دیا۔ انہوں نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھی اور انہیں دفن کیا، اور یہ تمام کے تمام یمنی تھے۔
سیدنا حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5559]
سیدنا حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5559]
تخریج الحدیث: «إسناده حسنٌ من أجل يحيى بن سُليم الطائفي، فهو صدوق حسن الحديث، وقد تلقَّى عنه هذا الخبر جمعٌ من الأئمة الحفّاظ، ولا يُحفَظ عن غيره موصولًا وقد حسَّن هذه الرواية في وفاة أبي ذرٍّ ابن القيم في "زاد المعاد" 3/ 534، ورجَّحها على رواية ابن مسعود المتقدمة عند المصنّف برقم ...» [ترقيم الرساله 5559] [ترقيم الشركة 5513] [ترقيم العلميه 5470]
الحكم على الحديث: إسناده حسنٌ من أجل يحيى بن سُليم الطائفي