🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

476. ذِكْرُ مَنَاقِبِ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5559
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله، حَدَّثَنَا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا علي بن عبد الله المَديني، حَدَّثَنَا يحيى بن سُلَيم الطائفي، حَدَّثَنَا عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن مُجاهِد، عن إبراهيمَ بن الأشْتَر، عن أبيه، عن أمِّ ذرٍّ، قالت: لما حَضَرت أبا ذرٍّ الوفاةُ بَكيتُ، فقال لي: ما يُبكيكِ؟ فقلت: وما لي لا أبكي وأنت تموتُ بفَلاةٍ من الأرض، وليس عِندي ثوبٌ يَسَعُك كَفَنًا لي، ولا لكَ، ولا يَدَينِ لي بتغييبِك، قال: فأبشِري ولا تبكي، فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"لا يموتُ بين امرأَينِ مُسلِمَين ولدان أو ثلاثةٌ فيحتَسِبانِ فيَرَيانِ النارَ أبدًا". وإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول لنَفَرٍ أنا فيهم:"لَيمُوتَنَّ رجل منكم بفَلاةٍ من الأرض تَشْهَدُه عِصابةٌ من المؤمنين"، وليس من أولئك النفرِ أحدٌ إلا وقد مات في قريةٍ وجماعةٍ، فأنا ذلك الرجلُ، واللهِ ما كَذَبتُ ولا كُذِبتُ، فأَبصِري الطريقَ، فقلت: أنَّى وقد ذهب الحاجُ وتَقطَّعَتِ الطَّرِيقُ؟ فقال: اذهبي فتبصَّري قالت: فكنتُ أَشتدُّ إلى الكَثِيب، ثم أرجِعُ فأُمرِّضُه، فبينما أنا وهو كذلك إذا أنا برجالٍ على رِحالِهم، كأنهم الرَّخَمُ تَخِدُ (1) بهم رواحِلُهم - قال عليٌّ: قلت ليحيى بن سُلَيم: تَخِدُ أَو تَخُبُّ؟ قال: بالدال - قالت: فألَحْتُ بثَوبي، فأسرَعُوا إِليَّ حتَّى وَقَفُوا عَلَيَّ، فقالوا: ومَن هو؟ قلتُ: أبو ذرٍّ، قالوا: صاحبُ رسولِ الله ﷺ؟! قلتُ: نعم، ففَدَّوهُ بآبائهم وأمّهاتهم، وأسرَعُوا إليه حتَّى دخَلُوا عليه، فقال لهم: أبشِروا، فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول لنَفَرٍ أنا فيهم:"ليموتَنَّ رجلٌ منكم بِفَلاةٍ من الأرض تَشْهَدُه عِصابةٌ من المؤمنين"، ما مِن أولئك النفَرِ رجلٌ إِلَّا وقد هَلَك في قريةٍ وجماعةٍ، والله ما كَذَبتُ ولا كُذِبتُ، أنتم تَسمَعون أنه لو كان عندي ثوبٌ يَسَعُني كَفَنًا أو لامرأتي لم أُكفَّن إلَّا في ثوبٍ لي أو لها، إني أَنشُدُكُم الله، ثم إني أَنشُدُكم الله، أن لا (2) يُكفِّنَني رجلٌ منكم كان أميرًا أو عَريفًا أو بَريدًا أو نَقيبًا، وليس من أولئك النفَر إلّا وقد قارَفَ (3) ما قال، إلَّا فتًى من الأنصار، فقال: أنا أُكفِّنُك يا عمِّ، أكفِّنُك في ردائي هذا، أو في ثَوبَين في عَيْبتي من غَزْل أُمّي، قال: أنتَ فكَفِّنّي، فَكَفَّنَه الأنصاريُّ في النَّفَر الذين حَضَرُوه، وقامُوا عليه ودَفَنُوه في نَفَرٍ كلُّهم يَمانٍ (4) . ذكرُ مناقب حَبِيب بن مَسلَمة الفِهْري ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5470 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ام ذر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں رو پڑی، انہوں نے مجھ سے رونے کی وجہ دریافت کی، میں نے کہا: میں کیوں نہ روؤں، تم ایک جنگ بیابان میں فوت ہو رہے ہو، ان حالات میں آپ کے اور میرے پاس اتنا کپڑا بھی نہیں ہے جس سے میں تمہیں کفن دے سکوں، اور تمہاری میت کے لئے کفن تو ضروری ہے۔ انہوں نے کہا: تم خوش ہو جاؤ، اور رونا دھونا بند کرو، کیوںکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جن مسلمان ماں باپ کے دو یا تین بچے فوت ہو جائیں وہ کبھی دوزخ میں نہیں جائیں گے۔ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لوگوں کے بارے میں (ان لوگوں میں، میں بھی موجود تھا) یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے ایک آدمی جنگل بیابان میں فوت ہو گا اور اس کے پاس مسلمانوں کی ایک جماعت پہنچے گی۔ وہ تمام لوگ آبادیوں میں اور فوت ہوئے ہیں، اب صرف میں ہی باقی بچا ہوں، اس لئے وہ شخص میں ہی ہوں، خدا کی قسم! نہ تو میں نے یہ بات جھوٹ کہی ہے اور نہ ہی یہ جھوٹ ہو گا، اس لئے تم راستہ کو تکتی رہو، میں نے کہا: اب قافلہ کہاں سے آئے گا؟ حاجی جا چکے ہیں۔ راستے بند ہو چکے ہیں۔ انہوں نے پھر یہی کہا کہ جاؤ اور دیکھو، میں ایک ٹیلے پر جا کر دور دور تک نظر دوڑاتی، پھر واپس آ کر ان کو دیکھتی، میں اسی کشمکش میں تھی کہ اچانک کچھ لوگ سواریوں پر سوار اپنے زادراہ سمیت وہاں پر آ گئے۔ علی کہتے ہیں: میں نے یحیی بن معین سے پوچھا کہ اس روایت میں لفظ تجد دال کے ساتھ ہے یا تخب خ اور ب کے ساتھ ہے؟ انہوں نے کہا: تجد دال کے ساتھ ہے۔ میں نے اپنے کپڑے کے ساتھ اشارہ کیا تو وہ لوگ جلدی سے میرے پاس آ گئے، اور پوچھنے لگے کہ یہ کون ہے؟ میں نے کہا: ابوذر رضی اللہ عنہ۔ انہوں نے کہا: صحابی رسول؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ وہ یہ کہتے ہوئے کہ ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں ان کے پاس آنا شروع ہو گئے۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے ان کو کہا: تمہیں خوشخبری ہو کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جماعت (جس میں، میں بھی موجود تھا) کے بارے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے ایک شخص جنگل بیابان میں فوت ہو گا اور ایک مسلمان جماعت اس کے پاس آئے گی، اس جماعت کے تمام لوگ آبادیوں میں فوت ہو چکے ہیں (اب صرف میں ہی باقی بچا ہوں) خدا کی قسم نہ میں جھوٹ بول رہا ہوں اور نہ ہی میں جھٹلایا جاؤں گا۔ تم سن رہے ہو، اگر میرے پاس کوئی اتنا کپڑا ہوتا جو میرے پاس یا میری بیوی کے پاس کفن کا کپڑا ہوتا تو مجھے اس میں کفن دے دیا جاتا، میں تمہیں بار بار اللہ کی قسم دے کر کہہ رہا ہوں کہ مجھے کوئی چوہدری یا نمبردار، ایلچی یا کوئی صاحب منصب کفن نہ دے، جبکہ اس جماعت میں تمام لوگ اسی طرح کے تھے سوائے ایک انصاری نوجوان کے۔ وہ کہنے لگا: اے چچا! اگر میں آپ کو کفن دوں گا تو اپنی اس چادر میں اور دو کپڑے میرے صندوق میں رکھے ہوئے ہیں جو کہ میری والدہ نے میرے احرام کے لئے خود اپنے ہاتھوں سے کات کر بنائی ہیں ان میں ہی دوں گا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ٹھیک ہے تم ہی مجھے کفن دو، چنانچہ اس انصاری نے ان کو کفن دیا، یہ انصاری اسی جماعت سے ہی تعلق رکھتا تھا انہی لوگوں نے آپ کی تدفین کی، یہ تمام لوگ یمن سے تعلق رکھنے والے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5559]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5560
حَدَّثَنَا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثني مصعب بن عبد الله الزُّبيري، قال: حبيبُ بن مَسْلَمة بن مالك الأكبر ابن وَهْب بن ثعلبة بن وائلة (1) بن عمرو بن شَيبان بن مُحارِب بن فِهْر، كان شريفًا قد سَمِعَ من النَّبِيِّ ﷺ، وكان يقال له: حَبيبُ الرُّوم، من كثرةِ دُخُوله عليهم، قال: وفيه يقول شُرَيح بن الحارث: ألَا كلُّ مَن يُدعَى حَبيبًا ولو بَدَتْ … مُروءَتُه يَفْدي حبيبَ بني فِهْرِ هُمَامٌ يَقُودُ الخيلَ حتَّى كأَنَّما … يَطأْنَ برَضْراضِ الحصى جاحِمَ (1) الجَمْرِ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5471 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
مصعب بن عبداللہ زبیری نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے حبیب بن مسلمہ بن مالک الاکبر بن وہب بن ثعلبہ بن وائلہ بن عمرو بن شیبان بن محارب بن فہر یہ شریف آدمی تھے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سنی ہیں۔ یہ اکثر روم جایا کرتے تھے جس کی وجہ سے ان کو حبیب الروم کہا جاتا تھا۔ ان کے بارے میں شریح بن حارث نے کہا: خبردار! ہر وہ شخص جس کو حبیب کے نام سے پکارا جاتا ہے اگرچہ اس کی مروت ظاہر ہو چکی ہے پھر بھی وہ حبیب بن فہر پر فدا ہوتا ہے۔ وہ ایسا راہنما ہے کہ جماعت کو چلاتا ہے گویا کہ وہ کنکریوں کو کوئلوں کی طرح لتاڑتی ہیں جس سے وہ پوری طرح ٹوٹتی بھی نہیں ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5560]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5561
أخبرنا الشيخ الإمام أبو بكر، أخبرنا محمد بن أحمد بن النضر، حَدَّثَنَا معاوية بن عمرو، عن أبي إسحاق الفَزَاري، حَدَّثَنَا أبو بكر الغَسّاني، عن عَطيّة بن قيس وراشد بن سعد، قالا: سارتِ الرومُ إلى حَبيب بن مَسْلَمة وهو بإرمينِيَةَ، فكتب إلى معاويةَ يَستمِدُّه، فكتب معاويةُ إلى عثمانَ بذلك، فكتب عثمانُ إلى أميرِ العراق: يأمرُه أن يُمِدَّ حَبيبًا، فأمَدّه بأهلِ العراق، وأمَّر عليهم سَلْمَانَ بن ربيعة الباهِلي، فسارُوا يريدون غِيَاثَ حَبيبٍ، فلم يبلُغُوهم حتَّى لقي هو وأصحابُه العدوَّ ففَتَحَ اللهُ لهم، فلما قدم سَلْمانُ وأصحابُه على حَبيبٍ سألُوهُم أَن يُشْرِكُوهم في الغَنِيمة، وقالوا: قد أمْدَدْناكم، وقال أهلُ الشام: لم تَشهَدوا القتالَ، ليسَ لكم معنا شيءٌ، فأَبى حَبيبٌ أن يُشْرِكَهم، وحَوَى هو وأصحابُه على غَنِيمتهم، فتنازعَ أهلُ الشام وأهلُ العراق في ذلك، حتَّى كاد أن يكون بينهم في ذلك كَونٌ، فقال بعض أهل العراق شعرًا: إن تَقْتُلُوا سلمانَ نَقتُلْ حَبيبَكمْ … وإِن تَرحَلُوا نحوَ ابن عَفَّانَ نَرَحَلِ قال أبو بكر الغَسّاني: وسمعت أنها أولُ عداوةٍ وقعت بين أهل الشام والعراق (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5472 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عطیہ بن قیس اور راشد بن سعد فرماتے ہیں: روم حبیب بن مسلمہ کی جانب روانہ ہوا، وہ اس وقت آرمینیہ میں تھے اس نے سیدنا معاویہ کی جانب خط لکھ کر ان سے امداد طلب کی، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ذمہ لگا دیا، انہوں نے عراق کے گورنر کو خط لکھ دیا کہ حبیب کی مدد کی جائے۔ چنانچہ اہل عراق کے ساتھ ان کی مدد کر دی گئی اور سلمان بن ربیعہ کو ان کا سپہ سالار بنا دیا گیا، یہ لشکر حبیب کی مدد کے لیے روانہ ہو گیا۔ یہ لوگ ان تک تو نہیں پہنچ پائے تھے بلکہ راستہ میں ہی دشمن کے ساتھ ان کی مڈبھیڑ ہو گئی، اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح سے ہمکنار کیا۔ جب سلمان اور اس کے ساتھی حبیب کے پاس آئے تو انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کو بھی مال غنیمت سے حصہ دیا جائے۔ ان کا موقف یہ تھا کہ ہم نے تمہاری مدد کی ہے۔ جبکہ اہل شام کا کہنا تھا کہ تم لوگ جنگ میں شریک ہی نہیں ہوئے ہو، اس لئے ہمارے اموال میں تمہارا کوئی حق نہیں ہے۔ حبیب نے ان کو مال غنیمت میں شریک کرنے سے انکار کر دیا۔ اور انہوں نے اپنے ہی ساتھیوں میں مال تقسیم کر لیا۔ اس پر اہل شام اور اہل عراق میں اختلافات پیدا ہو گئے اختلافات اس قدر شدت اختیار کر گئے کہ قریب تھا کہ ان میں باہم جنگ شروع ہو جاتی، ایک عراقی نے کہا: اگر تم نے سلمان کو قتل کیا تو ہم تمہارے حبیب کو قتل کر دیں گے اور اگر تم ابن عفان کی طرف روانہ ہو گے تو ہم بھی ادھر روانہ ہو جائیں گے۔ ابوبکر غسانی کہتے ہیں: میں نے سنا ہے کہ اہل عراق اور اہل شام کے مابین یہ سب سے پہلی دشمنی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5561]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5562
أخبرني محمد بن يوسف بن إبراهيم العَدْل، حَدَّثَنَا محمد بن عِمران النَّسَوي، حَدَّثَنَا أحمد بن زهير بن حَرْب، قال: سمعت أبي يقول: حبيبُ بنُ مَسلَمة أبو عبد الرحمن (1) .
احمد بن زہیر بن حرب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوعبدالرحمن تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5562]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5563
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الرَّبيع بن سُليمان، حَدَّثَنَا بِشْر بن بَكر، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن ثابت بن ثَوْبان، عن أبيه، عن مَكحُول، عن زياد (2) ابن جارية (3) عن حبيب بن مَسلَمة، قال: شهدتُ النَّبِيّ ﷺ نَفَّلَ الثُلثَ (4) .
سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی للہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوات میں شرکت کی، (کئی مرتبہ) آپ نے تیسرا حصہ غنیمت کے طو پر عطا فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5563]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں