🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

474. وَفَاةُ أَبِي ذَرٍّ سَنَةَ اثْنَتَيْنِ وَثَلَاثِينَ
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کی وفات سن 32 ہجری میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5557
حَدَّثَنَا أبو بكر أحمد بن كامل بن خَلَف القاضي، حَدَّثَنَا أبو قِلابة بنُ الرَّقَاشِي، حَدَّثَنَا سعيد بن عامر، حَدَّثَنَا أبو عامر - وهو صالح بن رُستُم الخَزّاز - عن حُميد بن هلال، عن عبد الله بن الصامِت، قال: قالت أمُّ ذرّ: والله ما سيَّرَ عثمانُ أبا ذرٍّ، ولكنَّ رسولَ الله ﷺ قال:"إذا بَلَغَ البِناءُ سَلْعًا فاخرُجْ منها". قال أبو ذرٍّ: فلما بلغ البِناءُ سَلْعًا وجاوزَ، خرجَ أبو ذرٍّ إلى الشامِ؛ وذكر باقيَ الحديثِ بطُوله (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. والحديث المفسَّر في هذا الباب حديثُ الأعمش عن أبي وائل عن حَلّام بن جَزْلٍ (1) الغِفاري، تَركتُه لألفاظٍ فيه، ولِطُوله أيضًا، واقتصرتُ على الإسنادَين الصحيحَين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5468 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن صامت فرماتے ہیں: ام ذر نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو جلاوطن نہیں کیا تھا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا تھا کہ جب عمارت پہاڑ کی دراڑ تک پہنچ جائے تو تم یہاں سے نکل جانا۔ ام ذر فرماتی ہیں: جب عمارت پہاڑ کی دراڑ تک پہنچ گئی اور اس سے آگے تجاوز کر گئی تو وہ یہاں سے شام کی جانب چلے گئے۔ اس کے بعد پوری مفصل حدیث بیان کی۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس باب میں مفسر حدیث وہ ہے جو اعمش نے ابووائل کے حوالے سے حرام بن جندل غفاری سے روایت کی ہے، میں نے اس کو طوالت اور بعض (غیر مستند) الفاظ کی وجہ سے چھوڑ دیا ہے اور صرف صحیحین کی اسنادوں پر ہی اکتفا کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5557]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں