🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

487. لَصَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ فِي الْجَيْشِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ رَجُلٍ
لشکر میں سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی آواز ایک ہزار آدمیوں سے بہتر تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5599
سمعت أبا إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى يقول: سمعتُ أبا العباس الدَّغُولي يقول: سمعتُ صالح الحافظ جَزَرة يقول: قال لي فَضْلَكُ الرازيّ: إذا دخلتَ نَيسابُورَ يستقبِلُك شيخٌ حَسَنُ الوجهِ، حَسَنُ الثيابِ، حَسَنُ الرَّكُوبِ، حَسَنُ الكَلامِ، فاعلَمْ أنه محمد بن يحيى الذُّهْلي، فليكن أولَ ما تسألُه عنه حديثُ شعبة عن يحيى بن صَبيح، وذكر هذا الحديث قال: فقُضيَ أني أولَ ما دخلتُ نَيسابُورَ استقبلَني رجلٌ (2) بهذا الوَصْفِ، فسألتُ عنه، فقالوا: محمدُ بنُ يحيى، فسلَّمتُ عليه، فردَّ الجَوابَ، فتَبِعتُه إلى أن نَزَل، فقلتُ: يُخرِجُ الشيخُ إِليَّ كُتُبَه؟ فأخرَجَ أجزاءً، وقال: انتَظِرْنِي لِخُروجي لصلاةِ الظُّهر، فلما خَرَجَ أَذَّن وأقامَ وصَلَّى وجَلَسَ في مِحْرابِه، فقرأتُ عليه ما كتَبتُه، ثم قلتُ له: حديثٌ أفادَني فَضْلَكُ الرازيُّ عن الشيخُ، فقال: هاتِ، فقلتُ: حدّثكُم سعيدُ بن عامر، حَدَّثَنَا شعبةُ، وذكرتُ الحديثَ، فتبسَّم، ثم قال لي: يا فتى، من يَنتخِب مثلَ هذا الانتِخابِ الذي انتخَبْتَه، ويقرأُ مثلَ ما قرأتَ، يَعلمُ أنَّ سعيدَ بنَ عامر لا يُحدِّث بمثلِ هذا، فقلت: نعم، حدَّثكُم سعيدُ بنُ واصِلٍ؟ فقال: نعم، حدَّثَناهُ سعيدُ بنُ واصلٍ (1) .
صالح حافظ جزرہ بیان کرتے ہیں کہ فضلک رازی نے مجھ سے کہا: ”جب تم نیشاپور جاؤ گے تو تمہارا استقبال ایک ایسے بزرگ کریں گے جن کا چہرہ خوبصورت، لباس عمدہ، سواری شاندار اور گفتگو بہترین ہوگی، تو جان لینا کہ وہ محمد بن یحییٰ ذہلی ہیں۔ اور تم سب سے پہلے ان سے جو سوال کرنا، وہ شعبہ کی یحییٰ بن صبیح سے مروی حدیث کے بارے میں ہو،“ اور انہوں نے یہ حدیث ذکر کی۔ صالح کہتے ہیں: اتفاق سے جب میں پہلی بار نیشاپور میں داخل ہوا تو اسی حلیے والے ایک شخص نے میرا استقبال کیا۔ میں نے ان کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ یہ محمد بن یحییٰ ہیں۔ میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا، میں ان کے پیچھے چل پڑا یہاں تک کہ وہ اپنی قیام گاہ پر اترے۔ میں نے عرض کیا: ”کیا شیخ مجھے اپنی کتابیں دکھائیں گے؟“ انہوں نے کچھ اجزاء نکالے اور فرمایا: ”میرے نمازِ ظہر کے لیے نکلنے تک انتظار کرو۔“ پھر جب وہ نکلے، اذان و اقامت کہی اور نماز پڑھائی، پھر اپنے محراب میں بیٹھ گئے۔ میں نے ان کے سامنے وہ پڑھا جو میں نے لکھا تھا، پھر میں نے ان سے کہا: ”ایک حدیث فضلک رازی نے شیخ کی سند سے مجھے بتائی ہے۔“ انہوں نے فرمایا: ”پیش کرو۔“ میں نے کہا: ”سعید بن عامر نے آپ سے بیان کیا، انہیں شعبہ نے،“ اور میں نے پوری حدیث بیان کر دی۔ وہ مسکرائے اور مجھ سے فرمایا: ”اے نوجوان! جو شخص تمہاری طرح احادیث کا ایسا (عمدہ) انتخاب کرتا ہو اور تمہاری طرح پڑھتا ہو، وہ جانتا ہے کہ سعید بن عامر اس طرح کی حدیث بیان نہیں کرتے۔“ میں نے عرض کیا: ”جی ہاں، (دراصل) آپ سے سعید بن واصل نے بیان کیا ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں، ہم سے سعید بن واصل نے بیان کیا ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5599]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5599] [ترقيم الشركة 5548/1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5600
أخبرني أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ بالكُوفة، حَدَّثَنَا مُطَيَّن، حَدَّثَنَا محمد بن العلاء أبو كُريب، حَدَّثَنَا قَبِيصةُ، حَدَّثَنَا سفيان، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابر أو أنس، قال: قال رسول الله ﷺ:"لَصَوتُ أبي طَلْحَةَ في الجَيش خَيرٌ من ألفِ رَجُلٍ" (2) . لم نكتبه إلّا (3) بهذا الإسناد، ورواتُه عن آخرِهم ثقاتٌ، وإنما يُعرَفُ هذا المتنُ من حديث علي بن زيد بن جُدْعان عن أنس:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5503 - رواته ثقات على شرط مسلم
عبداللہ بن محمد بن عقیل سیدنا جابر یا انس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لشکر میں ابو طلحہ کی آواز ایک ہزار آدمیوں سے بہتر ہے۔“
ہم نے اسے صرف اسی سند کے ساتھ لکھا ہے، اور اس کے تمام راوی اول تا آخر ثقہ ہیں۔ البتہ یہ متن علی بن زید بن جدعان کی انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث سے معروف ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5600]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وأبو بكر بن أبي دارم الكوفي متابع، وعبد الله بن محمد بن عَقِيل يُحسَّن له في المتابعات والشواهد، وقد توبع أيضًا. مُطيَّن: هو محمد بن عبد الله بن سليمان الحضرمي، وقَبِيصة: هو ابن عُقبة السُّوائي، وسفيان: هو ابن سعيد الثوري.» [ترقيم الرساله 5600] [ترقيم الشركة 5549] [ترقيم العلميه 5503]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5601
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا بِشْر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُميدي. وحدثنا عليٌّ، حَدَّثَنَا محمد بن أيوب، أخبرنا علي بن عبد الله المَدِيني وإبراهيم بن بشّار؛ قالوا: حَدَّثَنَا سفيان، عن ابن جُدْعان، عن أنس، قال: قال رسول الله ﷺ:"صوتُ أبي طَلْحةَ فِي الجَيشِ خَيرٌ من فِئَةٍ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5504 - على شرط مسلم
ابن جدعان سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لشکر میں ابو طلحہ کی آواز ایک پوری جماعت سے بہتر ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5601]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح كسابقه، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي بن زيد بن جُدعان، لكنه متابع كما سبق. الحُميدي: هو عبد الله بن الزبير بن عيسى الأسدي، وسفيان: هو ابن عُيينة.» [ترقيم الرساله 5601] [ترقيم الشركة 5550] [ترقيم العلميه 5504]

الحكم على الحديث:
حديث صحيح كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5602
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا العباس بن محمد الدُّورِي، حَدَّثَنَا عفّان، حَدَّثَنَا حماد بن سَلَمة، حدثني إسحاق بن عبد الله بن أبي طَلْحة، عن أنس: أنَّ النَّبِيّ ﷺ قال يوم أُحُدٍ:"مَن قَتَل كافرًا فلَهُ سَلَبُه"، فقَتَل أبو طلحةَ يومئذٍ عِشْرين رجلًا (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5505 - على شرط مسلم
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے دن فرمایا: ”جو کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سامان اسی کا ہوگا۔“ چنانچہ اس دن ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیس (20) آدمیوں کو قتل کیا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5602]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح لكن بذكر يوم حُنين بدلٌ يوم أُحُد.» [ترقيم الرساله 5602] [ترقيم الشركة 5551] [ترقيم العلميه 5505]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں