المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
487. لَصَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ فِي الْجَيْشِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ رَجُلٍ
لشکر میں سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی آواز ایک ہزار آدمیوں سے بہتر تھی
حدیث نمبر: 5598
حَدَّثَنَا أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، قال: قُرئ على عبد الملك بن محمد - وأنا أسمع - حَدَّثَنَا سعيد بن واصِل، حَدَّثَنَا شُعبة، عن يحيى بن صَبِيح، عن محمد بن سِيرين، عن أنس، أن النَّبِيّ ﷺ قال:"هذا خَالي، فمن شاءَ مِنكُم فليُخرِجْ خالَه" يعني: أبا طلحة زوجَ أم سُليم. قال: في الكَرَم قال هذا (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5502 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5502 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلیم کے شوہر سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: یہ میرے ماموں ہیں تم میں جو چاہے وہ اپنے ماموں کو (سخاوت کے حوالے سے) ان کے مقابلے میں لے آئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5598]
حدیث نمبر: 5599
سمعت أبا إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى يقول: سمعتُ أبا العباس الدَّغُولي يقول: سمعتُ صالح الحافظ جَزَرة يقول: قال لي فَضْلَكُ الرازيّ: إذا دخلتَ نَيسابُورَ يستقبِلُك شيخٌ حَسَنُ الوجهِ، حَسَنُ الثيابِ، حَسَنُ الرَّكُوبِ، حَسَنُ الكَلامِ، فاعلَمْ أنه محمد بن يحيى الذُّهْلي، فليكن أولَ ما تسألُه عنه حديثُ شعبة عن يحيى بن صَبيح، وذكر هذا الحديث قال: فقُضيَ أني أولَ ما دخلتُ نَيسابُورَ استقبلَني رجلٌ (2) بهذا الوَصْفِ، فسألتُ عنه، فقالوا: محمدُ بنُ يحيى، فسلَّمتُ عليه، فردَّ الجَوابَ، فتَبِعتُه إلى أن نَزَل، فقلتُ: يُخرِجُ الشيخُ إِليَّ كُتُبَه؟ فأخرَجَ أجزاءً، وقال: انتَظِرْنِي لِخُروجي لصلاةِ الظُّهر، فلما خَرَجَ أَذَّن وأقامَ وصَلَّى وجَلَسَ في مِحْرابِه، فقرأتُ عليه ما كتَبتُه، ثم قلتُ له: حديثٌ أفادَني فَضْلَكُ الرازيُّ عن الشيخُ، فقال: هاتِ، فقلتُ: حدّثكُم سعيدُ بن عامر، حَدَّثَنَا شعبةُ، وذكرتُ الحديثَ، فتبسَّم، ثم قال لي: يا فتى، من يَنتخِب مثلَ هذا الانتِخابِ الذي انتخَبْتَه، ويقرأُ مثلَ ما قرأتَ، يَعلمُ أنَّ سعيدَ بنَ عامر لا يُحدِّث بمثلِ هذا، فقلت: نعم، حدَّثكُم سعيدُ بنُ واصِلٍ؟ فقال: نعم، حدَّثَناهُ سعيدُ بنُ واصلٍ (1) .
حافظ صالح جزرہ کہتے ہیں: مجھے فضلک رازی نے کہا: جب تم نیشاپور پہنچو گے تو ایک خوبصورت چہرے والے بزرگ تمہارا استقبال کریں گے، جنہوں نے صاف ستھرے خوبصورت کپڑے پہنے ہوں گے، بہترین سواری پر سوار ہوں گے، گفتگو کا انداز بہت ہی عمدہ ہو گا۔ تو جان لینا کہ وہ محمد بن یحیی زہلی ہیں۔ ان سے سب سے پہلے شعبہ کی یحیی بن صبیح سے روایت کردہ یہ حدیث پوچھنا (اس کے بعد انہوں نے وہ حدیث ان کو بتائی) وہ فرماتے ہیں: جب میں نیشاپور میں پہنچا تو سب سے پہلے انہی اوصاف کے حامل ایک بزرگ کے ساتھ میری ملاقات ہوئی، دعا سلام اور ضروری تعارف کے بعد میں ان کے ساتھ چل دیا اور ان کے گھر پہنچ گئے، میں نے سوچا تھا کہ یہ اپنے تمام رجسٹر میرے حوالے کریں گے لیکن انہوں نے کچھ اجزاء نکال کر مجھے دیئے اور فرمایا: میرے ظہر کی نماز میں آنے کا انتظار کرو، پھر جب وہ ظہر کے لئے تشریف لائے، مؤذن نے اذان دی، اقامت ہوئی، وہ بزرگ نماز پڑھا کر محراب میں بیٹھ گئے، میں نے ان کی دی ہوئی کتاب سے جو کچھ نوٹ کیا تھا وہ ان کو پڑھ کر سنایا، پھر میں نے کہا: وہ حدیث کونسی ہے جو فضلک رازی نے شیخ سے روایت کی ہے؟ انہوں نے کہا: یہ رجسٹر مجھے دو، میں نے کہا: تمہیں وہ حدیث سعید بن عامر نے روایت کی ہے جبکہ ہمیں شعبہ نے روایت کی ہے۔ پھر اس کے بعد میں نے وہ حدیث ان کو سنائی۔ میری حدیث سن کر وہ مسکرائے اور فرمایا: اے نوجوان! جس طرح تو نے اس حدیث کا انتخاب کیا ہے، اور جس طرح تو نے حدیث کی قراءت کی ہے، جو شخص اس طرح انتخاب حدیث کرتا ہے اور اس طرح قراءت کرتا ہے وہ یہ بھی جانتا ہے کہ سعید بن عامر ایسی حدیث روایت نہیں کرتے۔ میں نے کہا: بالکل درست فرمایا آپ نے۔ تمہیں یہ حدیث سعید بن واصل نے بیان کی ہے نا؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں۔ یہ حدیث ہمیں سعید بن واصل نے بیان کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5599]
حدیث نمبر: 5600
أخبرني أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ بالكُوفة، حَدَّثَنَا مُطَيَّن، حَدَّثَنَا محمد بن العلاء أبو كُريب، حَدَّثَنَا قَبِيصةُ، حَدَّثَنَا سفيان، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابر أو أنس، قال: قال رسول الله ﷺ:"لَصَوتُ أبي طَلْحَةَ في الجَيش خَيرٌ من ألفِ رَجُلٍ" (2) . لم نكتبه إلّا (3) بهذا الإسناد، ورواتُه عن آخرِهم ثقاتٌ، وإنما يُعرَفُ هذا المتنُ من حديث علي بن زيد بن جُدْعان عن أنس:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5503 - رواته ثقات على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5503 - رواته ثقات على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لشکر میں (صرف اکیلے) ابوطلحہ کی آواز ہزار آدمیوں سے بہتر ہے۔ ٭٭ شیخین نے اس حدیث کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا جبکہ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، یہ متن علی بن زید بن جدعان کی سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث کا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5600]
حدیث نمبر: 5601
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا بِشْر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُميدي. وحدثنا عليٌّ، حَدَّثَنَا محمد بن أيوب، أخبرنا علي بن عبد الله المَدِيني وإبراهيم بن بشّار؛ قالوا: حَدَّثَنَا سفيان، عن ابن جُدْعان، عن أنس، قال: قال رسول الله ﷺ:"صوتُ أبي طَلْحةَ فِي الجَيشِ خَيرٌ من فِئَةٍ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5504 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5504 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لشکر میں (اکیلے) ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی آواز ہزار آدمیوں سے افضل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5601]