🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
487. لصوت أبى طلحة فى الجيش خير من ألف رجل
لشکر میں سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی آواز ایک ہزار آدمیوں سے بہتر تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5600
أخبرني أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ بالكُوفة، حَدَّثَنَا مُطَيَّن، حَدَّثَنَا محمد بن العلاء أبو كُريب، حَدَّثَنَا قَبِيصةُ، حَدَّثَنَا سفيان، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابر أو أنس، قال: قال رسول الله ﷺ:"لَصَوتُ أبي طَلْحَةَ في الجَيش خَيرٌ من ألفِ رَجُلٍ" (2) . لم نكتبه إلّا (3) بهذا الإسناد، ورواتُه عن آخرِهم ثقاتٌ، وإنما يُعرَفُ هذا المتنُ من حديث علي بن زيد بن جُدْعان عن أنس:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5503 - رواته ثقات على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لشکر میں (صرف اکیلے) ابوطلحہ کی آواز ہزار آدمیوں سے بہتر ہے۔ ٭٭ شیخین نے اس حدیث کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا جبکہ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، یہ متن علی بن زید بن جدعان کی سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث کا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5600]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5600 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وأبو بكر بن أبي دارم الكوفي متابع، وعبد الله بن محمد بن عَقِيل يُحسَّن له في المتابعات والشواهد، وقد توبع أيضًا. مُطيَّن: هو محمد بن عبد الله بن سليمان الحضرمي، وقَبِيصة: هو ابن عُقبة السُّوائي، وسفيان: هو ابن سعيد الثوري.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "صحیح" حدیث ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: اس میں ابو بکر بن ابی دارم کی متابعت موجود ہے، اور عبد اللہ بن محمد بن عقیل کی حدیث متابعات میں "حسن" ہوتی ہے۔ 📌 اہم نکتہ: مطین سے مراد "محمد بن عبد اللہ الحضرمی"، قبیصہ سے مراد "قبیصہ بن عقبہ" اور سفیان سے مراد "سفیان ثوری" ہیں۔
وأخرجه ابن سعد 3/ 468 - ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 19/ 410 - والسَّريُّ بن يحيى في "حديث سفيان الثوري" (25)، والحارث بن أبي أسامة كما في "بغية الباحث" للهيثمي (1022) عن قبيصة بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد (3/ 468)، ابن عساکر (19/ 410)، السری بن یحییٰ اور حارث بن ابی اسامہ نے قبیصہ کے اسی اسناد سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن سعد 3/ 468 عن أبي أحمد محمد بن عبد الله الأسدي وأبو الشيخ في "أمثال الحديث" (197) من طريق أبي حذيفة موسى بن مسعود النَّهْدي، كلاهما عن سفيان الثوري، به. غير أنه في رواية أبي حذيفة قال: عن أنس، ولم يشُكّ.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے ابو احمد الاسدی سے اور ابو الشیخ نے "أمثال الحدیث" (197) میں ابو حذیفہ کے طریق سے روایت کیا ہے، دونوں سفیان ثوری سے نقل کرتے ہیں۔ ابو حذیفہ کی روایت میں "عن انس" بغیر شک کے مذکور ہے۔
وأخرجه أحمد 20/ (13105) من طريق ثابت البُناني، عن أنس رفعه بلفظ: "الصوت أبي طلحة في الجيش أشد على المشركين من فئة"، وإسناده صحيح. والفئة: الجماعة من الناس.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کا اسناد "صحیح" ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (20/ 13105) نے ثابت البنانی عن انس کے طریق سے ان الفاظ میں روایت کیا: "لشکر میں ابو طلحہ کی آواز مشرکین پر ایک جماعت (فئہ) سے بھی زیادہ بھاری ہے"۔
وانظر ما بعده.
📝 نوٹ / توضیح: اس کے بعد والی روایت ملاحظہ فرمائیں۔
(3) لفظة (إلّا) سقطت من (ز) و (ب)، وهي في (ص) و (م)، ولا بد منها ليصح سياق الكلام.
🔍 فنی نکتہ / علّت: لفظ "إلا" نسخہ (ز) اور (ب) سے گر گیا تھا، جبکہ یہ نسخہ (ص) اور (م) میں موجود ہے، اور کلام کے درست سیاق کے لیے اس کا ہونا لازمی ہے۔