🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

489. وَمَا تَغَيَّرَ أَبُو طَلْحَةَ قَبْلَ الدَّفْنِ إِلَى سَبْعَةِ أَيَّامٍ فِي الْبَحْرِ
سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا جسم سمندر میں سات دن رہنے کے باوجود دفن سے پہلے متغیر نہ ہوا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5604
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حَدَّثَنَا بَهْزُ بن أسَدَ، حَدَّثَنَا حماد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس: أنَّ أبا طلحة قال: لا أَتأمَّرُ على اثنين، ولا أَذُمُّهُما (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5507 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں دو آدمیوں پر امیر نہیں بنایا جاؤں گا اور نہ دو کو میں ذمی بناؤں گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے ہی اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5604]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5605
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشَاذَ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن أبي طالب، حَدَّثَنَا الحسن بن عيسى، حَدَّثَنَا ابن المبارَك، أخبرنا حماد بن سَلَمة، عن عليّ بن زيد وثابتٍ، عن أنس بن مالك: أنَّ أبا طلحةَ قرأ هذه الآية: ﴿انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ [التوبة: 41] فقال: استَنْفَرَنا اللهُ - أو أَمَرَنا اللهُ واستَنْفَرَنا - شُيوخًا وشبابًا، جَهِّزُوني، فقال بَنُوهُ: يَرحمُك اللهُ، إنك قد غَزوتَ على عَهْدِ النَّبِيِّ ﷺ وأبي بكر وعُمر، ونحن نَغْزو عنك الآنَ، فَغَزَا البَحْرَ، فمات، فطَلَبُوا جزيرةً يَدفِنُونه، فلم يَقْدِرُوا عليه إلَّا بعدَ سبعةِ أيامٍ وما تَغَيَّرَ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. والذي عندنا أنَّ أقاويلَ الأئمةِ التي قدَّمنا ذِكْرها أنه صلَّى عليه عُثمانُ بنُ عفان ﵁ لا يَدفَعُ أحدُ القولَين الآخَر، فلعلّه رُدَّ إلى المدينة ميتًا حتَّى صلَّى عليه عثمان (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5508 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی انْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِقَالاً کوچ کرو ہلکی جان سے چاہے بھاری دل سے پھر کہا: اللہ تعالیٰ نے ہمیں کوچ کرنے کو کہا ہے اور ہمیں حکم دیا ہے خواہ کوئی بوڑھا ہو یا جوان۔ اس لئے میری تیاری کروا دو، ان کے صاحبزادوں نے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے! آپ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں غزوات میں شرکت کرتے رہے ہیں، اب آپ کی جانب سے ہم جنگ میں شرکت کر لیتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے سمندری جہاد میں شرکت کی اور اسی میں وفات پا گئے، ان کی تدفین کے لئے سمندر کے اندر ان کے ساتھی کوئی جزیرہ ڈھونڈتے رہے، جزیرہ تک پہنچنے میں ان کو سات دن لگ گئے، لیکن سات دن میں بھی ان کا جسم بالکل تروتازہ تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے ہی اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5605]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5606
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذ، حَدَّثَنَا محمد بن غالب، حَدَّثَنَا فَهد بن عَوْف، حَدَّثَنَا حماد بن سَلَمة عن ثابت عن أنس: أنَّ النَّبِيّ ﷺ آخَى بين أبي طَلْحة وبين أبي عُبيدة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو طلحہ اور سیدنا ابو عبیدہ (رضی اللہ عنہما) کے درمیان بھائی چارہ (مواخات) قائم فرمایا تھا"۔ امام حاکم فرماتے ہیں: یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، مگر شیخین (بخاری و مسلم) نے اسے تخریج نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5606]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں