المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
506. اسْتِمَاعُ ابْنِ الزُّبَيْرِ فِي مَجْلِسِ الصَّحَابَةِ إِنْشَادَ حَسَّانَ
صحابہ کے مجمع میں سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا حسان بن ثابت کا کلام سننا
حدیث نمبر: 5658
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حَدَّثَنَا أبو عبد الله الزُّبَير بن بكَّار الزُّبيري، حَدَّثَنَا أبو غَزِيّة محمد بن موسى، حدثني عبد الله بن مصعب، عن هشام بن عُرْوة، عن فاطمة بنت المُنذر، عن جدّتها أسماء بنت أبي بكر، قالت: مرَّ الزُّبَيرُ بن العَوّام بمجلسٍ من أصحابِ رسول الله ﷺ وحسانُ يُنشِدُهم من شِعْرِه، وهم غيرُ نِشاطٍ ممّا يَسْمَعُون منه، فجلسَ معهم الزُّبيرُ، فقال: ما لي أراكُم غيرَ آذِنِينَ مما تَسمعُون من شِعْر ابن الفُرَيعة، فلقد كان يَعرِضُ به لرسولِ اللهُ، فيُحسِنُ استِماعَه، ويُجزِل عليه ثَوابَه، ولا يَشغَلُه عنه شيءٌ (1) ، فقال حسّانُ: أقامَ على عهدِ النَّبيِّ وهَدْيِهِ … حَوارِيُّهُ والقولُ بالفعل يُعدَلُ أقامَ على مِنهاجِهِ وطَريقِهِ … يُوالي وليَّ الحَيُّ والحَقُّ أعدَلُ هو الفارسُ المشهورُ والبطَلُ الذي … يَصُولُ إذا ما كان يومٌ مُحجَّلُ إذا كَشَفَتْ عن ساقِها الحربُ حَشَّها (1) … بأبيضَ سَبّاقٍ إلى الموتِ يَرفُلُ (2) وإنَّ امرَأً كانت صفيّةُ أمَّهُ … ومن أسَدٍ في بيتِها لَمُرفَّلُ له من رسولِ الله قُربَى قَرِيبةٌ … ومن نُصرةِ الإسلامِ مَجدٌ مُؤثَّلُ فكم كُربةٍ ذَبَّ الزُّبَيرُ بسيفِه … عن المصطفى والله يُعطِي فيُجزِلُ فما مِثلُه فيهمْ ولا كانَ قَبلَهُ … وليس يكونُ الدَّهرَ ما دامَ يَذبُلُ ثَناؤُكَ خيرٌ مِن فِعالِ مَعاشِرٍ … وفِعلُكَ يا ابنَ الهاشِميّةِ أفضَلُ (3)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5559 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5559 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک مجلس کے پاس سے گزرے جہاں سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ انہیں اپنا کلام سنا رہے تھے، لیکن وہ ان کے اشعار سننے میں کچھ زیادہ ذوق و شوق کا اظہار نہیں کر رہے تھے، چنانچہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمایا: ”کیا بات ہے کہ میں تمہیں ابن فریعہ (حسان) کے اشعار کی طرف متوجہ نہیں دیکھ رہا؟ حالانکہ وہ یہ اشعار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بہت توجہ سے سنتے، ان پر بھرپور جزا عطا فرماتے اور کوئی چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے کلام سے غافل نہیں کرتی تھی“۔ یہ سن کر سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے (سیدنا زبیر کی شان میں) یہ اشعار کہے: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری ان کے عہد اور ہدایت پر قائم رہے اور قول عمل کے مطابق ہی ہوتا ہے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم اور راستے پر ثابت قدم رہے، وہ حق کے مددگار ہیں اور حق ہی سب سے زیادہ عدل والا ہے۔ وہ مشہور شہسوار اور ایسے بہادر ہیں جو معرکہ کارزار میں دشمن پر جھپٹتے ہیں۔ جب جنگ اپنی پوری ہولناکی کے ساتھ برپا ہوتی ہے تو وہ اپنی چمکدار تلوار کے ساتھ موت کی طرف سبقت لے جاتے ہوئے اس کی آگ کو مزید بھڑکاتے ہیں۔ وہ شخص جس کی ماں صفیہ (رضی اللہ عنہا) ہوں اور اس کا گھرانہ قبیلہ اسد سے ہو، وہ یقیناً بلند مرتبہ و منزلت والا ہے۔ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریبی قرابت حاصل ہے اور اسلام کی نصرت کی وجہ سے انہیں قدیم و عظیم بزرگی ملی ہوئی ہے۔ کتنی ہی تکلیفوں کو زبیر نے اپنی تلوار کے ذریعے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور کیا اور اللہ تعالی اس پر بہترین جزا عطا فرمانے والا ہے۔ ان (صحابہ) میں ان جیسا کوئی نہیں، نہ ان سے پہلے تھا اور نہ ہی رہتی دنیا تک کوئی ان کی مثل ہوگا جب تک یذبل کا پہاڑ قائم ہے۔ (اے زبیر!) آپ کی تعریف دوسرے لوگوں کے کاموں سے بہتر ہے، لیکن اے ہاشمیہ خاتون کے بیٹے! آپ کے کارنامے آپ کی تعریف سے بھی زیادہ افضل ہیں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5658]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف بمرّة من أجل أبي غَزِيَّة محمد بن موسى» [ترقيم الرساله 5658] [ترقيم الشركة 5605] [ترقيم العلميه 5559]
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف