🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

507. مَدْحُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِلزُّبَيْرِ
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی تعریف
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5658
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حَدَّثَنَا أبو عبد الله الزُّبَير بن بكَّار الزُّبيري، حَدَّثَنَا أبو غَزِيّة محمد بن موسى، حدثني عبد الله بن مصعب، عن هشام بن عُرْوة، عن فاطمة بنت المُنذر، عن جدّتها أسماء بنت أبي بكر، قالت: مرَّ الزُّبَيرُ بن العَوّام بمجلسٍ من أصحابِ رسول الله ﷺ وحسانُ يُنشِدُهم من شِعْرِه، وهم غيرُ نِشاطٍ ممّا يَسْمَعُون منه، فجلسَ معهم الزُّبيرُ، فقال: ما لي أراكُم غيرَ آذِنِينَ مما تَسمعُون من شِعْر ابن الفُرَيعة، فلقد كان يَعرِضُ به لرسولِ اللهُ، فيُحسِنُ استِماعَه، ويُجزِل عليه ثَوابَه، ولا يَشغَلُه عنه شيءٌ (1) ، فقال حسّانُ: أقامَ على عهدِ النَّبيِّ وهَدْيِهِ … حَوارِيُّهُ والقولُ بالفعل يُعدَلُ أقامَ على مِنهاجِهِ وطَريقِهِ … يُوالي وليَّ الحَيُّ والحَقُّ أعدَلُ هو الفارسُ المشهورُ والبطَلُ الذي … يَصُولُ إذا ما كان يومٌ مُحجَّلُ إذا كَشَفَتْ عن ساقِها الحربُ حَشَّها (1) … بأبيضَ سَبّاقٍ إلى الموتِ يَرفُلُ (2) وإنَّ امرَأً كانت صفيّةُ أمَّهُ … ومن أسَدٍ في بيتِها لَمُرفَّلُ له من رسولِ الله قُربَى قَرِيبةٌ … ومن نُصرةِ الإسلامِ مَجدٌ مُؤثَّلُ فكم كُربةٍ ذَبَّ الزُّبَيرُ بسيفِه … عن المصطفى والله يُعطِي فيُجزِلُ فما مِثلُه فيهمْ ولا كانَ قَبلَهُ … وليس يكونُ الدَّهرَ ما دامَ يَذبُلُ ثَناؤُكَ خيرٌ مِن فِعالِ مَعاشِرٍ … وفِعلُكَ يا ابنَ الهاشِميّةِ أفضَلُ (3)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5559 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک مجلس کے پاس سے گزرے۔ سیدنا حسان رضی اللہ عنہ ان میں بیٹھے اپنے شعر گنگنا رہے تھے۔ لیکن باقی لوگ سامنے بیزار بیٹھے ہوئے تھے۔ سیدنا زبیر بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا بات ہے؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ ابن فریعہ کے اشعار پر توجہ نہیں دے رہے ہو؟ یہ (حسان) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں سخن گوئی کیا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت توجہ اور دلچسپی کے ساتھ سنا کرتے تھے، ان کے لئے ثواب کی دعا کیا کرتے تھے، اور شعر سنتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی دوسری چیز کی جانب توجہ نہیں کرتے تھے۔ یہ بات سن کر سیدنا حسان نے کہا: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر قائم ہیں ان کے حمایتی ہیں اور ان کا قول اور فعل ایک جیسا ہے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے طریقے پر چل رہے ہیں، وہ حق کی طرفداری کرنے والے ہیں اور حق ہی زیادہ انصاف کرنے والا ہے۔ وہ مشہور شہسوار ہیں اور ایسا قائد ہے جو خوشی میں ہوتا ہے تو بہت تیزی سے حملہ کرتا ہے۔ وہ ایسا شخص ہے جس کی ماں صفیہ ہے اور اس کا تعلق قبیلہ اسد سے ہے، اس کے گھر میں آسودگی ہے۔ اس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت قریبی رشتہ داری ہے اور اسلام کی مدد کے حوالے سے ان کی بزرگی گندھی ہوئی ہے۔ زبیر نے اپنی تلوار کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنی ہی تکلیفوں کا دفاع کیا ہے اور اللہ تعالیٰ جس کو دیتا ہے، بہت نوازتا ہے۔ جب جنگ اپنے عروج پر ہوتی ہے تو یہ بڑے وقار سے چلتے ہوئے جنگ کو موت کی جانب گھسیٹ کر لے جاتے ہیں۔ اس کی مثل نہ کبھی کوئی تھا، نہ اب ہے اور نہ رہتی دنیا تک کوئی ہو سکتا ہے۔ تیری تعریف زمانے کے تمام افعال سے بہتر ہے اور اے ہاشمیہ کے بیٹے تیرا فعل سب سے افضل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5658]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5659
أخبرنا أحمد بن كامل القاضي، حَدَّثَنَا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حَدَّثَنَا زكريا بن عدي، حَدَّثَنَا علي بن مُسهِر، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن مروان، قال: أصابَ عُثمانَ رُعَافٌ سنةَ الرُّعَافِ، حتَّى أَوصى وتَخلَّف عن الحجِّ، فدخل علينا رجلٌ من قُرِيش، فقال: استَخْلِفْ، فقال: وقالوه؟ قال: نعم، قال: ومَن هو؟ فسَكَت، ثم دخلَ عليه آخَرُ، فقال: استَخلِفْ، فذكر نحوًا ممّا ذكَر الأولُ، فقال عثمانُ: الزَّبيرَ؟ قال: نعم، فقال عثمانُ: أما والذي نفسِي بيده إن كان لأخْيَرَهم ما علِمتُ وأحبَّهُم إلى رسول الله ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5560 - على شرط البخاري ومسلم
مروان کہتے ہیں: جس سال نکسیر کی وباء پھیلی اس سال سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی نکسیر آئی، اس کی وجہ سے آپ کی حالت غیر ہو گئی حتی کہ آپ نے وصیت بھی کر دی اور آپ اس سال حج پر بھی نہ جا سکتے تھے، ہمارے پاس ایک قریشی شخص آیا اور اس نے بتایا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس سال حج پر نہیں گئے، اس نے پوچھا: کیا لوگوں میں یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے پوچھا: کس نے بات کی ہے؟ اس بات پر وہ خاموش ہو گئے، پھر ایک اور آدمی ان کے پاس آیا، اس نے بھی پہلے آدمی کی طرح خبر دی، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: کیا زبیر نے یہ باتیں کی ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ اس پر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، میری معلومات کے مطابق یہ شخص سب سے افضل ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اسی سے پیار کرتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5659]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں