المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
505. افْتِخَارُ الزُّبَيْرِ بِقَرَابَتِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرابت پر فخر
حدیث نمبر: 5655
أخبرَناه أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى وأبو الحُسين (1) بن يعقوب، قالا: حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الثَّقَفي، حَدَّثَنَا قُتيبة بن سعيد، حَدَّثَنَا سفيانُ، عن مُجالدٍ، عن الشَّعْبي، قال: قُسِم ميراثُ الزُّبير على أربعينَ ألفَ ألفٍ (2) .
شعبی کہتے ہیں: سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی میراث چالیس لاکھ درہم تقسیم ہوئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5655]
حدیث نمبر: 5656
حَدَّثَنَا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حَدَّثَنَا أحمد بن يحيى الحُلْواني، حَدَّثَنَا عَتيق بن يعقوب الزُّبَيري، حدثني أبي (1) يعقوبُ، عن (2) الزُّبَير بن خُبَيب بن ثابت بن عبد الله بن الزُّبَير، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، قال: قال عبد الله بن الزُّبَير لأبيه: يا أبتِ حَدَّثني عن رسول الله ﷺ، حتَّى أُحدَّثَ عنكَ، فَإِنَّ كلَّ أبناءِ الصحابة يُحدِّث عن أبيه، فقال: يا بُنيّ، ما من أحدٍ صَحِبَ رسولَ الله ﷺ بصُحبةٍ إِلَّا وقد صحِبتُه بمثلِها أو أفضلَ منها، ولقد علمتَ بأنَّ أمَّك أسماء ابنة أبي بكر كانت تحتي، وأنَّ خالتَك عائشةُ بنتُ أبي بكر، ولقد علمتَ أنَّ أُمّي صَفيّةُ بنتُ عبد المُطَّلب، وأنَّ أخوالي حمزةُ بن عبد المُطلبِ وأبو طالب وعبّاسٌ، وأنَّ رسولَ الله ﷺ ابن خالي، ولقد علمتَ أنَّ عَمَّتي خديجةَ بنتَ خُويلد كانت تحتَه، وأنَّ ابنتَها فاطمةُ ابنةُ رسولِ الله ﷺ، و لقد علمتَ أن خديجةَ أمُّ أمِّها حبيبةُ بنت أسَدِ بن عبد العُزّى، ولقد علمتَ أنَّ أم رسولِ الله ﷺ آمنةُ بنتُ وَهْب بن عبد مَنافِ ابن زُهْرة، ولقد صحبتُه بأحسن صُحبةٍ، والحمدُ الله، ولقد سمعتُه يقول:"مَن قال عليَّ ما لم أقُلْ، فليَتَبَوّأْ مَقْعدَه من النارِ" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5557 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5557 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے کہا: اے میرے ابا جان! آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کر دیجئے تاکہ میں بھی آپ کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کیا کروں، کیونکہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے صاحبزادے اپنے والد کے حوالے سے حدیثیں بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرح میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں وقت گزارا ہے بلکہ میں نے بہت افضل وقت گزارا ہے۔ میں یہ جانتا ہوں کہ تیری والدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما میرے نکاح میں تھیں۔ اور تیری خالہ عائشہ بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما ہیں۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ میری والدہ سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا ہیں۔ اور میرے ماموں سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب، ابوطالب اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہم ہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماموں زاد بھائی ہیں۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ میری پھوپھی سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں تھیں۔ اور انہی کی بیٹی سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھیں۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی نانی حبیبہ بنت اسد بن عبدالعزیٰ تھیں۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ سیدنا آمنہ بنت وہب بن عبد مناف بن زہرہ ہیں۔ اللہ کے فضل سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت اچھی صحبت اختیار کی ہے لیکن اس سب کے ساتھ ساتھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی جانتا ہوں ” جس نے مجھ سے منسوب کر کے کوئی ایسی بات کہی جو حقیقت میں، میں نے نہیں کہی، وہ اپنا ٹھکانا جہنم بنا لے “۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5656]