المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
509. ذِكْرُ مَقْتَلِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان
حدیث نمبر: 5664
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا العباس بن الفضل الأَسفاطي، أخبرنا أبو نُعيم ضِرار بن صُرَدٍ، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن محمد الدَّرَاوَرْدي، حَدَّثَنَا محمد ابن عبد الله بن مُسلِم الزُّهْري، عن عمِّه، عن عُرْوة بن الزُّبَير، عن عبد الله بن الزُّبَير، عن الزُّبَير بن العوام، قال: استَعْدَى عليَّ رجلٌ من الأنصار رسولَ الله ﷺ في شِرَاج الحَرّة، فقال:"يا زُبيرُ، اسقِ ثم أرسِلِ الماءَ إلى جارِكَ"، فقال الأنصاريُّ: يا رسول الله، وأن كان ابنَ عمَّتِك، فتلَوّن وَجْهُ رسولِ الله ﷺ، وقال:"يا زُبيرُ، اسقِ ثم احبِسِ الماءَ حتَّى يَبلُغَ الجَدْرَ، ثم أرسِلْ إلى جارك"، فاستوعَبَ رسولُ الله ﷺ للزُّبير الفُتْيا (1) . فقال الزُّبير: إني لأحسَبُ هذه الآيةَ نزلَت في خُصومَتي: ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ﴾ الآية [النساء: 65] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. فإني لا أعلَمُ أحدًا أقام هذا الإسنادَ عن الزُّهْري يَذكُر عبد الله بنَ الزُّبَير، غيرَ ابن أخيه (1) ، وهو عنه ضَيِّق. ذكرُ مَقتَل الزُّبَيرِ بن العَوّام
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. فإني لا أعلَمُ أحدًا أقام هذا الإسنادَ عن الزُّهْري يَذكُر عبد الله بنَ الزُّبَير، غيرَ ابن أخيه (1) ، وهو عنه ضَيِّق. ذكرُ مَقتَل الزُّبَيرِ بن العَوّام
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک انصاری نے مقام حرہ کے پانی کے معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں میری شکایت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے زبیر! اپنی کھیتی کو سیراب کرنے کے بعد اپنے پڑوسی کی جانب پانی چھوڑ دیا کرو، اس انصاری نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کا پھوپھی زاد بھائی ہے نا، اس لئے آپ نے اس کے حق میں فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر ناراضگی کے آثار نمایاں ہوئے، پھر آپ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے زبیر! اپنی کھیتی کو سیراب کرو اور پانی کو روک کر رکھو یہاں تک کہ وہ پانی (کھالے کی) دیواروں کے برابر ہو جائے۔ اس کے بعد اپنے پڑوسی کی طرف چھوڑو۔ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا پورا حق عطا فرمایا۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرا خیال ہے کہ یہ آیت میرے اسی جھگڑے کے بارے میں نازل ہوئی تھی فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ (النساء: 65) ” تو اے محبوب! تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرما دو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں “ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5664]
حدیث نمبر: 5665
أخبرني عبد الله بن محمد بن زياد العدل، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق، حَدَّثَنَا أبو الأشعث أحمد بن المِقدام، حَدَّثَنَا عَثّام بن علي، حَدَّثَنَا هشام بن عُرْوة، عن أبيه، قال: لما كان يومُ الجَمَل دعا الزُّبَيرُ ابنَه عبد الله، فأوصى إليه، فقال: يا بنيّ، إنَّ هذا يومٌ لَيُقتَلَنَّ فيه ظالمٌ ومظلومٌ، واللهِ لئن قُتِلتُ لأُقتَلنَّ مظلُومًا، والله ما فَعلتُ ولا فَعلتُ، انظُرْ يا بُنيّ دَيني، فإني لا أدَعُ شيئًا أهمُّ إليَّ منه، وهو ألفُ ألفٍ ومئتا ألفٍ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5566 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5566 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ جنگ جمل کے دن سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبداللہ کو بلایا اور ان کو یہ وصیت کی: اے میرے پیارے بیٹے! آج وہ دن ہے جس میں ظالم قتل کئے جائیں گے یا مظلوم قتل کئے جائیں گے، خدا کی قسم! اگر مجھے قتل کیا گیا تو مظلوماً قتل کیا جاؤں گا۔ خدا کی قسم میں نے کچھ نہیں کیا، کچھ نہیں کیا۔ اے میرے بیٹے میرے قرضوں کا خیال کرنا کیونکہ وہ 12 لاکھ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5665]
حدیث نمبر: 5666
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، قال أخبرني يونُس، عن ابن شِهاب، قال: ولّى الزُّبيرُ يومَ الجَمَل مُنهَزِمًا، فأدركَه ابن جُرمُوزٍ رجلٌ من بني تَمِيم، فقَتَلَه (1) .
ابن شہاب کہتے ہیں: جنگ جمل میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ شکست خوردہ واپس لوٹے، راستے میں بنی تمیم کے ایک شخص ابن جرموز نے ان کو دیکھ لیا، اس نے آپ کو شہید کر دیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5666]