🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

528. ذِكْرُ مَنَاقِبِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَإِنَّمَا هُوَ حُذَيْفَةُ بْنُ حُسَيْلٍ، وَحُذَيْفَةُ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ .
سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان — اور ان کا اصل نام حذیفہ بن حُسیل ہے، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاص صحابی تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5720M
قال ابن عُمر: وهو قُدامة بن مَظْعُون بن حبيب بن جُمَح بن عمرو بن هُصَيص بن كعب بن لُؤي، أسلمَ قبل دخولِ رسولِ الله ﷺ دارَ الأرقم، وقبل أن يدعوَ فيها، وهو أخو عثمان بن مَظعُون، وهاجَرَ قُدامةُ إلى أرض الحَبَشة الهِجرةَ الثانيةَ، وكانت تحتَه صفيةُ بنتُ الخَطّاب، أختُ عمر بن الخطّاب، وشهد قُدامةُ بدرًا وأحدًا والخَندقَ والمَشاهِدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ (3) . ذكرُ مناقب حُذيفة بن اليَمَان ﵁ - وإنما هو حُذَيفة بن حُسَيل، وحُدَيفةُ صاحبُ سرِّ رسولِ الله ﷺ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ قدامہ بن مظعون بن حبیب جمی ہیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دارِ ارقم میں داخل ہونے اور وہاں (علانیہ) دعوت شروع کرنے سے پہلے ہی اسلام قبول کر لیا تھا، وہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں، سیدنا قدامہ رضی اللہ عنہ نے حبشہ کی طرف دوسری ہجرت کی تھی، ان کے نکاح میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بہن صفیہ بنت خطاب تھیں، اور سیدنا قدامہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ بدر، احد، خندق اور تمام معرکوں میں شریک رہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5720M]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5720M] [ترقيم الشركة 5666]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5721
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عَفّان العامِري، حدثنا عبد الله بن نُمير، حدثنا الأعمَشُ، عن أبي إسحاقَ، عن مُصعبِ بن سعْد، قال: أخذَ حذيفةَ وأباه المُشرِكون قبلَ بدرٍ، فأرادوا أن يقتُلُوهما، فأخَذُوا عليهما عهدَ اللهِ ومِيثاقَه أن لا يُعِينان عليهم، فحَلَفا لهم، فأرسَلُوهُما، فأَتَيا النبيَّ ﷺ فأخبَراهُ، فقالا: إنا قد حَلَفْنا لهم، فإن شئتَ قاتَلْنا معك، فقال:"نَفِي (1) ونستعينُ الله عليهم" (2) .
مصعب بن سعد سے روایت ہے کہ بدر کے معرکے سے پہلے مشرکین نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ان کے والد کو پکڑ لیا اور وہ انہیں قتل کرنا چاہتے تھے، پھر انہوں نے ان سے اللہ کا پختہ عہد و میثاق لیا کہ وہ ان کے خلاف (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی) مدد نہیں کریں گے، چنانچہ ان دونوں نے ان کے لیے حلف اٹھا لیا اور انہوں نے انہیں رہا کر دیا، پھر وہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ سنا کر عرض کیا: ہم نے ان سے حلف اٹھایا ہے، اگر آپ چاہیں تو ہم آپ کے ساتھ مل کر (اس عہد کے باوجود) قتال کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم (عہد) پورا کریں گے «نَفِي» اور ان کے خلاف اللہ سے مدد چاہیں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5721]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، لكنه مرسل، فإنَّ مصعب بن سعد - وهو ابن أبي وقاص - تابعي. وقد اختُلف فيه على أبي إسحاق. وهو عمرو بن عبد الله السَّبيعي - في تسمية شيخه في الحديث، فقد رواه الأعمش عن أبي إسحاق فذكر مصعب بن سعد كما في رواية المصنف هذه.» [ترقيم الرساله 5721] [ترقيم الشركة 5667]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں