المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
529. ذِكْرُ مَنَاقِبِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 5721
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عَفّان العامِري، حدثنا عبد الله بن نُمير، حدثنا الأعمَشُ، عن أبي إسحاقَ، عن مُصعبِ بن سعْد، قال: أخذَ حذيفةَ وأباه المُشرِكون قبلَ بدرٍ، فأرادوا أن يقتُلُوهما، فأخَذُوا عليهما عهدَ اللهِ ومِيثاقَه أن لا يُعِينان عليهم، فحَلَفا لهم، فأرسَلُوهُما، فأَتَيا النبيَّ ﷺ فأخبَراهُ، فقالا: إنا قد حَلَفْنا لهم، فإن شئتَ قاتَلْنا معك، فقال:"نَفِي (1) ونستعينُ الله عليهم" (2) .
مصعب بن سعد فرماتے ہیں: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ان کے والد کو مشرکوں نے جنگ بدر سے پہلے پکڑ لیا، اور ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا، لیکن انہوں نے ان سے اس بات پر حلف لیا کہ تم ان کے خلاف کسی کی مدد نہیں کرو گے، انہوں نے ان کو قسم دے دی۔ مشرکوں نے حلف لے کر ان دونوں کو چھوڑ دیا، یہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے اور اپنے حلف کی روئے داد سنا کر کہا: اب اگر آپ حکم دیں تو ہم آپ کے ہمراہ جنگ میں شریک ہونے کو تیار ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو ان کے عہد کی وجہ سے چھوڑ دو، ہم ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5721]
حدیث نمبر: 5722
أخبرنا الحَسنُ بن محمد الحَلِيمي، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عَبد الله، أخبرنا يونس، عن الزُّهري قال: قال عُروة: إنَّ حُذيفةَ بن اليَمَان كان أحدَ بني عَبْس، وكان حليفًا في الأنصار، قُتِل أبُوه مع رسولِ الله ﷺ يومَ أُحُد؛ أخطأَ المُسلِمون به يومَئِذٍ حَسِبُوه من المشركين، فطَفِقَ حذيفةُ يقول: أبي أبي، فلم يَفهَمُوه حتى قَتَلُوه، فأمرَ به رسولُ الله ﷺ فوُدِيَ (1) .
سیدنا عروہ فرماتے ہیں: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کا تعلق بنی عبس کے ساتھ تھا، اور یہ انصار کے حلیف تھے۔ ان کے والد محترم جنگ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں مسلمانوں کے ہاتھوں شہید ہو گئے تھے۔ اس دن مسلمانوں سے خطا ہو گئی۔ مسلمانوں نے ان کو مشرکین میں سے سمجھا، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ پکار پکار کر کہہ رہے تھے: یہ میرے والد ہیں، یہ میرے والد ہیں۔ لیکن کسی کو ان کی بات سمجھ ہی نہیں آئی اور ان کو شہید کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت دلوائی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5722]
حدیث نمبر: 5723
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحَسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عُمر، قال: حُذيفة بن حُسَيل بن جابر بن رَبيعة بن عَمرو بن جِرْوة، وجِرْوه هو اليمانُ الذي من ولدِه حذيفةُ، وإنما قيل له: اليَمانُ، لأنه أصابَ في قومِه دَمًا فهَرَب إلى المدينة، فحالف بني عبد الأشْهَل، فسمّاه قومُه اليَمَانَ لأنه حالف اليَمانِيَةَ، شهد حذيفةُ وأبوه حُسَيلٌ وأخوه صفوانُ أُحُدًا، فأما أبوه فقَتَله بعضُ المسلمين يومَئذٍ وهو يَحسَبُه من المشركين، فتصدَّق حذيفةُ بدِيَتهِ على المسلمين، وأما حذيفةُ فشَهِدَ مع رسولِ الله ﷺ مَشاهِدَه بعد بدر، وعاش إلى أول خلافة عليٍّ سنة ستٍّ وثلاثين، وزعم بعضُهم أنه مات بالمدائن سنة خَمس وثلاثين بعد مَقتَل عُثمانَ بأربَعينَ ليلةً (1) .
محمد بن عمر نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے ” حذیفہ بن حسیل بن جابر بن ربیعہ بن عمرو بن جروہ “ اور جروہ اسی یمان ہی کو کہتے ہیں جن کے ہاں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے، ان کو یمان اس لئے کہتے ہیں کہ ان سے اپنی قوم میں ایک قتل ہو گیا تھا، تو یہ مدینہ منورہ میں چلے آئے اور بنی عبدالاشہل کے ساتھ عہد کر لیا۔ تو ان کی قوم نے ان کا نام یمان رکھ دیا تھا، کیونکہ انہوں نے ایک یمانی آدمی کے ساتھ عہد کیا تھا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ان کے والد حسیل رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی صفوان رضی اللہ عنہ جنگ احد میں شریک ہوئے تھے، اس دن ان کے والد کو کسی مسلمان نے مشرک سمجھ کر شہید کر دیا تھا، (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بیٹے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو ان کے والد کی دیت یعنی خوب بہا بھی دلوایا تھا لیکن) سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ دیت مسلمانوں پر صدقہ کر دی تھی، اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جنگ بدر کے بعد تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شرکت کی ہے، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے اوائل (یعنی 36 ہجری) تک زندہ رہے، بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ وہ سن 35 ہجری میں مدائن میں تھے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے چالیس روز بعد ان کی وفات ہوئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5723]
حدیث نمبر: 5724
أخبرَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا محمد بن عبد الله بن نُمير، قال: مات حذيفة سنة ستٍّ وثلاثين، وقيل: إنه ماتَ بعد عُثمان بأربَعينَ يومًا (2) .
محمد بن عبداللہ بن نمیر فرماتے ہیں: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ 36 ہجری میں فوت ہوئے، اور بعض لوگوں کا موقف یہ ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے چالیس دن بعد ان کی وفات ہوئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5724]