🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

531. كَانَ حُذَيْفَةُ أَعْلَمَ النَّاسِ بِالْمُنَافِقِينَ
سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ لوگوں میں منافقوں کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5731
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا إبراهيم بن يوسف الصَّيْرفي، حدثنا علي بن عابِس، عن الأعمَش، عن عمرو بن مُرّة. وإسماعيلَ، عن قيسٍ قال: سُئل عليٌّ عن ابن مَسعُود، فقال: قرأ القرآنَ ثم وقَفَ عند شُبُهاتِه، فأحَلَّ حَلالَه، وحَرَّم حرامَه، وسُئل عن عمار، فقال: مُؤمنٌ نَسِيٌّ، وإذا ذُكِّر ذَكَر، وسُئل عن حُذيفةَ، فقال: كان أعلمَ الناسِ بالمُنافِقين، وذكرَ باقيَ الحديث (1) . ذكرُ مناقب خَبّاب بن الأرَتِّ، ويُكنى أبا عبد الله ﵁ - قد كَثُر الاختلافُ في نَسَبِه، فقيل: خَبّابٌ حليفُ بني زُهْرةَ.
قیس سے روایت ہے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: انہوں نے قرآن پڑھا، پھر اس کے شُبہات (باریک باتوں) پر غور و فکر کیا، اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام جانا، پھر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: وہ ایک ایسے مومن ہیں جو (حق بات) بھول جاتے ہیں مگر جب انہیں یاد دلایا جائے تو وہ یاد کر لیتے ہیں، اور جب سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو فرمایا: وہ منافقوں کے بارے میں تمام لوگوں سے زیادہ علم رکھنے والے تھے، اور راوی نے باقی حدیث ذکر کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5731]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف علي بن عابس، وهو الأسدي الكوفي - وقد تفرَّد علي بن عابس برواية هذا الخبر من طريق إسماعيل - وهو ابن أبي خالد - عن قيس - وهو ابن أبي حازم. وأما الطريق الأولى فقد توبع عليها، لكن بذكر أبي البَخْتري في إسناده بين عمرو بن ...» [ترقيم الرساله 5731] [ترقيم الشركة 5677]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف علي بن عابس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں