🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

586. مَنْقَبَةٌ شَرِيفَةٌ لِسَلَمَةَ بْنِ سَلَامَةَ
سیدنا سلمہ بن سلامہ رضی اللہ عنہ کی ایک عظیم فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5876
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، حدثني يزيدُ بن رُوْمان، وعاصم بن عُمر بن قَتَادة، عن عُروة بن الزُّبَير. وأخبرنا أبو جعفر البغدادي - واللفظُ له - حدثنا أبو عُلَاثة، حدثنا أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، عن أبي الأسود، عن عُرْوة، قال: لَقِيَ رسولُ الله ﷺ رجلًا من أهل البادية، وهو متوجِّه إلى بدرٍ، لقيَه بالرَّوحاء، فسأله القومُ عن خَبَر الناسِ، فلم يَجِدُوا عنده خبرًا، فقالوا له: سَلِّم على رسولِ الله ﷺ، فقال: فِيكُم رسولُ الله؟ قالوا: نعم، قال الأعرابيُّ: فإن كنتَ رسولَ الله، فأخبِرني ما في بَطْن ناقَتي هذه؟ فقال له سَلَمةُ بن سَلَامة بن وَقْش - وكان غلامًا حَدَثًا -: لا تسألْ رسولَ الله، أنا أُخبِرُك: نَزَوتَ عليها، ففي بَطنِها سَخْلَةٌ منك، فقال رسول الله ﷺ:"فَحَشْتَ على الرَّجُل يا سَلَمةُ" ثم أعرض رسولُ الله ﷺ عن الرجل، فلم يُكلِّمْه كلمةً حتى فَفَلُوا، واستقبلَهم المُسلمون بالرَّوحاء يُهنِّئونهم، فقال سَلَمةُ بن سَلَامة: يا رسول الله، ما الذي يُهنِّئونك؟ والله إنْ رأَينا [إلا] (1) عجائز صُلْعًا، كالبُدْن المُعقَّلة فنَحَرْناها، فقال رسولُ الله ﷺ:"إنَّ لكلِّ قومٍ فِراسَةً، وإِنما يَعرِفُها الأشرافُ" (2) . صحيح الإسناد، وإن كان مرسَلًا. وفيه مَنقَبةٌ شريفةٌ لسَلَمة بن سَلَامة. ذكرُ مناقب عاصم بن عَديٍّ الأنصاري ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5767 - صحيح مرسل
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کی طرف جاتے ہوئے مقامِ روحاء میں ایک دیہاتی سے ملے، لوگوں نے اس سے دشمن کی خبر پوچھی تو اس کے پاس کوئی اطلاع نہ تھی، صحابہ نے اس سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرو، اس نے حیرت سے پوچھا: کیا تمہارے درمیان اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) موجود ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، اس دیہاتی نے کہا: اگر آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں تو مجھے بتائیے کہ میری اس اونٹنی کے پیٹ میں کیا ہے؟ تو سیدنا سلمہ بن سلامہ بن وقش رضی اللہ عنہ نے، جو کہ ابھی کم عمر نوجوان تھے، جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ پوچھو، میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تم نے اس پر شہوت سے جست لگائی تھی اس لیے اس کے پیٹ میں تمہارا ہی بچہ ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سلمہ! تم نے اس آدمی کے سامنے نازیبا بات کہی ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے رخ موڑ لیا اور اس سے کوئی کلام نہ فرمایا یہاں تک کہ جب صحابہ (بدر سے) واپس لوٹے تو مقامِ روحاء پر مسلمانوں نے ان کا استقبال کیا اور انہیں مبارکباد دینے لگے، سیدنا سلمہ بن سلامہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ لوگ کس بات کی مبارکباد دے رہے ہیں؟ اللہ کی قسم! ہم نے وہاں (دشمن کے لشکر میں) صرف گنجے بوڑھوں کو ہی پایا جو بندھے ہوئے اونٹوں کی مانند تھے اور ہم نے انہیں قتل کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ ہر قوم کی اپنی ایک فراست (بصیرت) ہوتی ہے، اور اسے صرف اشراف (معزز لوگ) ہی جانتے ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اگرچہ مرسل ہے، اور اس میں سیدنا سلمہ بن سلامہ رضی اللہ عنہ کی ایک فضیلت کا ذکر موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5876]
تخریج الحدیث: «ضعيف لإرساله. ابن إسحاق: هو محمد بن إسحاق بن يسار صاحب السيرة، وأبو عُلَاثة: هو محمد بن عمرو بن خالد الحَرّاني ثم المصري، وابن لَهِيعة: هو عبد الله، وأبو الأسود: هو محمد بن عبد الرحمن بن نوفل المعروف بيتيم عُروة بن الزبير.» [ترقيم الرساله 5876] [ترقيم الشركة 5819] [ترقيم العلميه 5767]

الحكم على الحديث: ضعيف لإرساله. ابن إسحاق: هو محمد بن إسحاق بن يسار صاحب السيرة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں