المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
585. كَانَ سَلَمَةُ آخِرَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ وَفَاةً
سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سب سے آخر میں وفات پانے والے تھے
حدیث نمبر: 5873
أخبرنا الحُسين بن علي التَّميمي، حدثنا أحمد بن محمد بن الحُسين، حدثنا عمرو بن زُرَارة، حدثنا زياد بن عبد الله، عن محمد بن إسحاق، عن صالح بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف، عن محمود بن لَبِيد، عن سَلَمة بن سَلَامة بن وَقْش، قال: كان لنا جارٌ من يهودَ في بني عبد الأشْهَل، قال: فخرج علينا يومًا من بيته حتى وَقَفَ على بني عبد الأشْهَل، قال سلمة وأنا يومئذٍ حَدَثٌ، عليَّ بُردةٌ لي، مُضطجِعٌ فيها بفِنَاء أهلي، فذَكَر القِيامةَ والبَعثَ والحِسابَ والمِيزانَ والجنةَ والنارَ. قال: فقال ذلك في أهل يَثرِبَ والقومُ أصحابُ أوثانٍ لا يَرون بَعثًا كائنًا بعد الموت، فقالوا له: ويحك، أتُرى هذا كائنًا يا فلانُ أنَّ الناس يُبعَثون بعد موتِهم إلى جنةٍ ونار، ويُجزَون فيها بأعمالِهم؟! قال: نعم، والذي يُحلَف به، قالوا: يا فلانُ، ويَحَك، وما آيةُ ذلك؟ قال: نبيٌّ مَبعُوث من نحو هذه البلادِ؛ وأشار بيدِه إلى مكةَ، قالوا: ومتى تُراه؟ قال: فنظر إليَّ وأنا أصغَرُهم سِنًّا، فقال: إن يَستنفِدْ هذا الغلامُ عُمرَه يُدرِكْه. قال سلمةُ: فواللهِ ما ذهبَ الليلُ والنهارُ حتى بَعَثَ اللهُ ﵎ رسولَ الله ﷺ وهو حيٌّ بين أظهُرنا، فآمَنّا به وكَفَر بَغْيًا وحَسَدًا، فقلنا له: وَيحَك يا فلانُ، ألستَ الذي قُلتَ لنا فيه ما قُلتَ؟! قال: بلى، ولكنه ليس به (2) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5764 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5764 - على شرط مسلم
سیدنا سلمہ بن سلامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بنی عبدالاشہل میں ایک یہودی ہمارا پڑوسی ہوتا تھا، ایک دن وہ اپنے گھر سے نکلا اور بنی عبدالاشہل کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا، سیدنا سلمہ فرماتے ہیں، میں ان دنوں نوجوان تھا، میں چادر اوڑھ کر اپنے صحن میں لیٹا ہوا تھا، اس نے قیامت، قیامت کے بعد اٹھنے، حساب کتاب، میزان، جنت اور دوزخ کا ذکر کیا، وہ یہ تمام باتیں اہل یثرب کے ساتھ کر رہا تھا جبکہ وہ قوم بتوں کے پجاری تھے، وہ مرنے کے بعد اٹھائے جانے پر یقین ہی نہیں رکھتے تھے۔ لوگ اس کی باتیں سن کر کہنے لگے: تو اے فلاں شخص تو ہلاک ہو جائے کیا لوگ مرنے کے بعد جنت یا دوزخ کی طرف بھیجے جائیں گے اور وہاں پر ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا؟ اس نے کہا: جی ہاں، مجھے اس ذات کی قسم! جس کے نام کی قسمیں کھائی جاتی ہیں۔ لوگوں نے کہا: تو ہلاک ہو جائے، اس کی کوئی نشانی بتاؤ، اس نے کہا: اس فلاں علاقے میں ایک نبی مبعوث ہو گا، یہ کہتے ہوئے اس نے مکہ کی جانب اشارہ کیا۔ لوگوں نے پوچھا، ہم اس کو کب دیکھیں گے؟ (سیدنا سلمہ بن سلامہ رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: اس نے میری جانب دیکھا میں ان تمام لوگوں میں سب سے چھوٹا تھا، اس نے میری جانب دیکھ کر کہا: اگر یہ لڑکا اپنی پوری زندگی جیے تو یہ ان کی زیارت کر سکتا ہے، سیدنا سلمہ فرماتے ہیں: ابھی ایک دن اور رات نہیں گزرے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما دیا۔ آج اللہ تعالیٰ کے وہ رسول ہم میں زندہ و جاوید موجود ہیں، ہم تو آپ علیہ السلام پر ایمان لے آئے ہیں لیکن وہ خود بغض اور حسد کی وجہ سے کفر میں مبتلا ہو گیا۔ ہم نے اس کو کہا: اے فلاں! تو ہلاک ہو جائے، کیا تو وہی نہیں ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہمیں ہدایات کی تھیں؟ اس نے کہا: ہاں! میں نے ہدایات تو کی تھیں، لیکن یہ وہ رسول نہیں ہے، جس کے بارے میں، میں نے تمہیں بتایا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5873]
حدیث نمبر: 5874
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبَهاني، حدثنا محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث، حدثني زيد بن جَبِيرة بن محمود بن أبي جَبيرةَ الأنصاري من بني عبد الأشْهَل، عن أبيه جَبيرة بن محمود، عن سَلَمة بن سَلَامة بن وَقْش، صاحب رسول الله ﷺ: [أنهما دخلا على وَليمةٍ، وسَلَمةُ] (1) على وضوء، فأكَلُوا ثم خرجوا فتوضَّأ سلمةُ، فقال له جَبيرةُ: ألم تكن على وضوء؟ قال: بلى، ولكن رأيتُ رسولَ الله ﷺ، وخَرَجْنا من دَعوة دُعِينا لها، ورسولُ الله ﷺ على وُضوء، فأكل ثم توضّأ، فقلتُ له: ألم تكن على وضوءٍ يا رسول الله؟ قال:"بلى، ولكنِ الأمرُ يَحدُث، وهذا ممّا قد حَدَثَ" (2) . قال الليث بن سعد: فحدثَني زيد بن جبيرة، عن أبيه جَبيرة بن محمود (3) بن أبي جَبيرة (4) : [أن] سَلَمة كان آخرَ أصحابِ النبي ﷺ وفاةً، إلَّا أن يكون أنسُ بنُ مالك، فإنه بقي بعدَه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5765 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5765 - على شرط مسلم
جبیرہ بن محمود فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے صحابی سیدنا سلمہ بن سلامہ رضی اللہ عنہ باوضو حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، وہاں انہوں نے کھانا کھایا، پھر جب وہاں سے نکلے تو سیدنا سلمہ نے دوبارہ وضو کیا، سیدنا جبیرہ نے ان سے کہا: کیا تمہارا وضو پہلے سے نہیں تھا؟ لیکن اصل وجہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، ہم ایک دعوت میں گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باوضو وہاں پر گئے تھے، جب کھانا وغیرہ کھا کر فارغ ہوئے تو آپ علیہ السلام نے دوبارہ وضو کیا۔ میں عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ کا وضو نہیں تھا؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ہاں وضو تو تھا، لیکن کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو وضو کو توڑ دیتی ہیں اور یہ معاملہ بھی انہیں میں سے ہے۔ جبیرہ بن محمود فرماتے ہیں ان کے دادا سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ میں سب سے آخر میں ہوئی۔ ہاں البتہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ان کے بعد زندہ رہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5874]