🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

587. ذِكْرُ مَنَاقِبِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
سیدنا عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5876
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، حدثني يزيدُ بن رُوْمان، وعاصم بن عُمر بن قَتَادة، عن عُروة بن الزُّبَير. وأخبرنا أبو جعفر البغدادي - واللفظُ له - حدثنا أبو عُلَاثة، حدثنا أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، عن أبي الأسود، عن عُرْوة، قال: لَقِيَ رسولُ الله ﷺ رجلًا من أهل البادية، وهو متوجِّه إلى بدرٍ، لقيَه بالرَّوحاء، فسأله القومُ عن خَبَر الناسِ، فلم يَجِدُوا عنده خبرًا، فقالوا له: سَلِّم على رسولِ الله ﷺ، فقال: فِيكُم رسولُ الله؟ قالوا: نعم، قال الأعرابيُّ: فإن كنتَ رسولَ الله، فأخبِرني ما في بَطْن ناقَتي هذه؟ فقال له سَلَمةُ بن سَلَامة بن وَقْش - وكان غلامًا حَدَثًا -: لا تسألْ رسولَ الله، أنا أُخبِرُك: نَزَوتَ عليها، ففي بَطنِها سَخْلَةٌ منك، فقال رسول الله ﷺ:"فَحَشْتَ على الرَّجُل يا سَلَمةُ" ثم أعرض رسولُ الله ﷺ عن الرجل، فلم يُكلِّمْه كلمةً حتى فَفَلُوا، واستقبلَهم المُسلمون بالرَّوحاء يُهنِّئونهم، فقال سَلَمةُ بن سَلَامة: يا رسول الله، ما الذي يُهنِّئونك؟ والله إنْ رأَينا [إلا] (1) عجائز صُلْعًا، كالبُدْن المُعقَّلة فنَحَرْناها، فقال رسولُ الله ﷺ:"إنَّ لكلِّ قومٍ فِراسَةً، وإِنما يَعرِفُها الأشرافُ" (2) . صحيح الإسناد، وإن كان مرسَلًا. وفيه مَنقَبةٌ شريفةٌ لسَلَمة بن سَلَامة. ذكرُ مناقب عاصم بن عَديٍّ الأنصاري ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5767 - صحيح مرسل
عروہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ بدر کے لئے سفر میں تھے، اس سفر کے دوران مقام روحاء میں آپ علیہ السلام کی ملاقات ایک دیہاتی کے ساتھ ہوئی، صحابہ کرام نے اس سے اہل مکہ کے حالات پوچھے، لیکن اس کو کچھ خبر نہ تھی، صحابہ کرام نے اس کو مشورہ دیا کہ تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں سلام عرض کر لو، اس نے پوچھا: کیا تمہارے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: جی ہاں۔ اس نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) کہا: اگر آپ نبی ہیں تو بتائیے کہ میری اونٹنی کے پیٹ میں کیا (نر ہے یا مادہ) ہے؟ سیدنا سلمہ بن سلامہ رضی اللہ عنہ نوجوان صحابی تھے انہوں نے اس دیہاتی سے کہا: تو (میرے نبی کا امتحان لینا چاہتا ہے؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مت پوچھ، (ادھر آ) اس بات کا جواب میں تجھے دیتا ہوں۔ اس کو تو نے گابھن کیا اور اس کے پیٹ میں تیرا بچہ ہے۔ (یہ بات سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سلمہ! تو نے اس آدمی کے ساتھ فحش کلامی کی ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی سے منہ پھیر لیا اور اس سے کوئی بات چیت نہ کی۔ قافلہ وہاں سے روانہ ہوا تو مقام روحاء میں مسلمانوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا اور ان کو مبارک باد پیش کی۔ سیدنا سلمہ بن سلامہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ لوگ کس بات کی مبارک بادیاں دے رہے ہیں؟ خدا کی قسم ہم نے تو صرف ان کے بوڑھے لاچار و کمزور لوگوں کو قتل کیا ہے جیسا کہ باندھے ہوئے اونٹوں کو نحر کیا ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر قوم میں سمجھداری پائی جاتی ہے، اور اس کو صرف اس کے قوم کے شرفاء ہی جانتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث اگرچہ مرسل ہے لیکن صحیح الاسناد ہے، اس حدیث میں سیدنا سلمہ بن سلامہ رضی اللہ عنہ کے فضائل موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5876]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5877
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا محمد بن عمرو بن خالد الحَرّاني، حدثنا أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، حدثنا أبو الأسود، عن عُروة، قال: خَرَج عاصم بن عَدِيّ بن الجَدّ بن عَجْلان يومَ بدر، فردَّه رسولُ الله ﷺ، وضَرَبَ له بسَهْمِه مع أصحابِ بدر (1) .
سیدنا عروہ کہتے ہیں: سیدنا عاصم بن عدی بن جد بن عجلان جنگ بدر کے لئے روانہ ہوئے تھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو واپس دیا تھا البتہ بدری صحابہ کے برابر ان کا حصہ رکھا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5877]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5878
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، قال: وخرج عاصمُ بن عَدِيّ بن الجَدّ بن عَجْلان بن ضُبيعة، وهو من بَلِيٍّ، حَليفٌ لبني عُبيد بن زيد بن مالك بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالك بن الأَوْس إلى بدر، فردَّه رسولُ الله ﷺ، وضَرَبَ له بِسَهْمِه (1) .
ابن اسحاق کہتے ہیں: عاصم بن عدی بن جد بن عجلان بن حارثہ بن ضبیعہ کا تعلق قبیلہ بکیّ سے ہے۔ یہ بنی عبد بن زید بن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس کے حلیف ہیں۔ یہ جنگ بدر کے لئے روانہ ہوئے تھے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو واپس بھیج دیا تھا جبکہ ان کے لئے بدر کا حصہ رکھا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5878]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں