🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

591. ذِكْرُ وَفَاةِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَغُسْلِهِ وَدَفْنِهِ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی وفات، غسل اور تدفین کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5890
فحدَّثَناه أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا محمد بن عبد الله بن رُسْتَهْ، حدثنا سليمان بن داود، حدثني محمد بن عمر، حدثني إسماعيل بن مُصعب، عن إبراهيم بن يحيى، عن (1) خارجة بن زيد قال: توفي أبي زيدُ بن ثابت قبل أن تَصفَرَّ الشمسُ، وكان من رأيي دفنُه قبل أن أُصبِحَ، فجاءتِ الأنصارُ، فقالت: لا يُدفَنُ إِلَّا نهارًا لِيَجتمِعَ له الناسُ، فسمع مروانُ الأصواتَ، فأقبل يَمشي حتى دخل عليَّ، فقال: عَزيمةً مني أن لا يُدفَنَ حتى يُصبِح، فلما أصبحنا غسّلناه ثلاثًا: الأولى بالماء، والثانية بالماء والسِّدْر، والثالثة بالماء والكافُور، وكَفَّنّاه في ثلاثة أثواب أحدها بُرْدٌ كان كَسَاهُ إياهُ معاويةُ، وصلَّينا عليه بعد طُلوع الشمس، صلَّى عليه مروانُ بن الحَكَم، وأرسل مروانُ بجَزُورٍ فنُحِرَت وأَطعَمَ الناسَ، وغَلَبَنا النساءُ فبَكَينَ ثلاثًا (2) .
خارجہ بن زید سے روایت ہے کہ میرے والد سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا انتقال سورج زرد ہونے (غروب) سے پہلے ہوا، میری رائے تھی کہ انہیں رات ہونے سے پہلے دفن کر دیا جائے لیکن انصار کہنے لگے: انہیں دن کے وقت ہی دفن کیا جائے تاکہ زیادہ لوگ جمع ہو سکیں، مروان بن حکم نے جب آوازیں سنیں تو وہ میرے پاس آئے اور کہا: میرا تاکیدی حکم ہے کہ انہیں صبح تک دفن نہ کیا جائے، جب صبح ہوئی تو ہم نے انہیں تین بار غسل دیا: پہلی بار سادہ پانی سے، دوسری بار پانی اور بیری کے پتوں سے اور تیسری بار پانی اور کافور سے، ہم نے انہیں تین کپڑوں میں کفنایا جن میں سے ایک وہ چادر تھی جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بطور لباس پہنائی تھی، سورج طلوع ہونے کے بعد مروان بن حکم نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور ایک اونٹ ذبح کروا کر لوگوں کو کھانا کھلایا، اور خواتین کے جذبات ہم پر غالب آگئے اور وہ تین دن تک روتی رہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5890]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، إسماعيل بن مصعب - وهو ابن إسماعيل بن زيد بن ثابت - مجهول الحال، وقد روى محمد بن عمر الواقدي منه قصة بكاء النساء ثلاثًا على زيد بن ثابت من وجه آخر كما سيأتي وسليمان بن داود - وهو الشاذكوني - متابع.» [ترقيم الرساله 5890] [ترقيم الشركة 5832]

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں