المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
592. أَفْرَضُ النَّاسِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَإِنَّهُ تَعَلَّمَ السُّرْيَانِيَّةَ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ فرائض کے عالم تھے اور انہوں نے سریانی زبان سیکھی
حدیث نمبر: 5890
فحدَّثَناه أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا محمد بن عبد الله بن رُسْتَهْ، حدثنا سليمان بن داود، حدثني محمد بن عمر، حدثني إسماعيل بن مُصعب، عن إبراهيم بن يحيى، عن (1) خارجة بن زيد قال: توفي أبي زيدُ بن ثابت قبل أن تَصفَرَّ الشمسُ، وكان من رأيي دفنُه قبل أن أُصبِحَ، فجاءتِ الأنصارُ، فقالت: لا يُدفَنُ إِلَّا نهارًا لِيَجتمِعَ له الناسُ، فسمع مروانُ الأصواتَ، فأقبل يَمشي حتى دخل عليَّ، فقال: عَزيمةً مني أن لا يُدفَنَ حتى يُصبِح، فلما أصبحنا غسّلناه ثلاثًا: الأولى بالماء، والثانية بالماء والسِّدْر، والثالثة بالماء والكافُور، وكَفَّنّاه في ثلاثة أثواب أحدها بُرْدٌ كان كَسَاهُ إياهُ معاويةُ، وصلَّينا عليه بعد طُلوع الشمس، صلَّى عليه مروانُ بن الحَكَم، وأرسل مروانُ بجَزُورٍ فنُحِرَت وأَطعَمَ الناسَ، وغَلَبَنا النساءُ فبَكَينَ ثلاثًا (2) .
ابراہیم بن یحیی خارجہ بن زید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتی ہیں، سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی وفات غروب آفتاب سے کچھ دیر پہلے ہوئی تھی اور میری یہ رائے تھی کہ ان کو صبح ہونے سے پہلے پہلے دفن کر دیا جائے۔ لیکن کچھ انصاری لوگ آ گئے اور کہنے لگے کہ ان کی تدفین دن کے وقت ہونی چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ جنازہ میں شریک ہو سکیں۔ اس سلسلہ میں آوازیں بلند ہوئیں تو مروان نے ان آوازوں کو سن لیا اور وہ میرے پاس آ گیا اور کہنے لگا: میرا حکم ہے کہ صبح ہونے سے پہلے ان کی تدفین نہ کی جائے۔ جب صبح ہوئی تو ہم نے تین مرتبہ ان کو غسل دیا، ایک دفعہ پانی کے ساتھ، دوسری مرتبہ پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ اور تیسری مرتبہ کافور کے ساتھ۔ ہم نے ان کو تین کپڑوں میں کفن دیا، ان میں ایک کپڑا وہ بھی تھا جو سیدنا معاویہ نے ان کو دیا تھا۔ سورج طلوع ہونے کے بعد ان کی نماز جنازہ پڑھائی گئی اور مروان نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ مروان نے ان کے لئے کئی اونٹ بھیجے، وہ ذبح کر کے لوگوں کو کھلائے گئے، تین دن تک عورتیں ان پر روتی رہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5890]
حدیث نمبر: 5891
حدثنا الإمام أبو الوليد وأبو بكر بن قُريش قالا: حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا جَرير، عن الأعمَش، عن ثابت بن عُبيد، عن زيد بن ثابت قال: قال رسول الله ﷺ:"أتُحسِنُ السُّرْيانيّة؟" فقلت: لا، قال:"فتَعلَّمْها، فإنه يأتينا كتبٌ"، فتعلمتُها في سبعةَ عشرَ يومًا. قال الأعمشُ: كانت تأتيه كتبٌ لا يشتهي أن يَطّلعَ عليها إِلَّا مَن يَثِقُ به (1) . صحيحٌ إن كان ثابت بن عُبيد سمعَه من زيد بن ثابت (2) ، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5781 - صحيح إن كان ثابت سمعه من زيد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5781 - صحيح إن كان ثابت سمعه من زيد
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تم اچھے طریقے سے سریانی زبان جانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ زبان سیکھ لو، کیونکہ اس زبان میں ہمارے پاس خطوط آتے ہیں، (سیدنا زید) فرماتے ہیں: میں نے صرف 17 دن میں سریانی زبان سیکھ لی۔ ٭٭ اعمش کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عموماً خطوط آتے تھے اور آپ کی خواہش ہوتی کہ اس کی اطلاع قابل اعتماد لوگوں کے علاوہ کسی کو نہ ہو۔ ٭٭ اگر ثابت بن عبید کا سماع زید بن ثابت ہو جائے تو یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5891]
حدیث نمبر: 5892
أخبرني محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن إسحاق الثَّقَفي، حدثنا عُبيد الله بن سعيد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن أبي جعفر الخَطْمي، حدثني خالي عبدُ الرحمن، عن جَدّي عُقبة (3) بن الفاكِه، قال: قلتُ لزيد بن ثابت: يا أبا خارِجَة (4) .
عتبہ بن فاکہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ” ابوخارجہ “ کہہ کر پکارا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5892]
حدیث نمبر: 5893
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي القاضي، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا رَوح بن عُبادة، حدثنا أبو عامر الخَزّاز، عن علي بن زيد، عن سعيد بن المُسيّب، قال: شهدتُ جِنازةَ زيد بن ثابت، فلما دُفِن في قبره، وذَكَرَ الحديثَ (1) .
سیدنا سعید بن مسیب فرماتے ہیں: میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شریک ہوا تھا۔ جب ان کو ان کی قبر میں دفن کیا گیا۔ (اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث بیان کی) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5893]
حدیث نمبر: 5894
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العدل، حدثنا أبو المُثنَّى ومحمد بن أيوب، قالا: حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الوهاب الثَّقَفي، حدثنا خالدٌ الحَذّاء، عن أبي قِلابة، عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله ﷺ:"أرحَمُ أُمَّتي بأُمَّتي أبو بكر، وأشدُّهم في أمرِ الله عمرُ، وأصدَقُهم حَياءً عثمانُ، وأقرؤُهم لكتاب الله أُبيُّ بن كعب، وأَفَرَضُهم زيدُ ابن ثابت، وأعلَمُهم بالحلال والحرام مُعاذٌ، ألا وإنَّ (1) لكلِّ أُمّة أَمينًا، أَلا وإنَّ أمِينَ هذه الأمّةِ أبو عُبيدة بن الجَرّاح" (2) . هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتِّفقا بإسناده هذا على ذكر أبي عُبيدة فقط، وقد ذكرتُ عِلّتَه في كتاب"التلخيص" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5784 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5784 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں، میری امت پر سب سے زیادہ رحم کرنے والے ” ابوبکر “ ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخت گیر ” عمر “ ہے۔ اور سب سے زیادہ سچ بولنے والے اور سب سے زیادہ حیاء والے ” عثمان “۔ سب سے زیادہ قرآن کریم کی قراءتوں کو جاننے والے ” ابی بن کعب “ ہیں۔ وراثت کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے ” زید بن ثابت “ ہیں۔ اور سب سے زیادہ حلال و حرام کے بارے میں جاننے والے ” معاذ “ ہیں۔ خبردار! ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ” ابوعبیدہ بن جراح۔“ ٭٭ یہ اسناد امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے، لیکن شخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ اس اسناد کے ہمراہ شخین رحمۃ اللہ علیہما نے فقط ابوعبیدہ بن جراح کا ذکر کیا ہے۔ میں نے اس کی علت کتاب التلخیص میں ذکر کر دی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5894]