المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
590. نَهَى النَّبِيُّ أَنْ يُرَوَّعَ الْمُؤْمِنُ وَأَنْ يُؤْخَذَ مَتَاعُهُ لَاعِبًا وَجَدًّا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مومن کو ڈرانے اور اس کا سامان مذاق یا سنجیدگی میں لینے سے منع فرمایا
حدیث نمبر: 5888
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحَسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عُمر، حدثني إبراهيم بن محمد بن عبد الرحمن بن سَعْد بن زُرارة، عن يحيى بن عبد الله بن عبد الرحمن بن سعْد بن زُرَارة، قال: قال زيدُ بن ثابت: كانت وَقْعةُ بُعَاثٍ وأنا ابن ستِّ سنين، وكانت قبلَ هجرة رسول الله ﷺ بخمس سنين، فقَدِمَ رسولُ الله ﷺ المدينة وأنا ابن إحدى عشرةَ سنةً، وأُتي بي إلى رسول الله ﷺ، فقالوا: غُلامٌ من الخَزْرج قد قرأ ستَّ عشرةَ سُورةً، فلم أُجَزْ في بدرٍ ولا أُحُد، وأُجِزتُ في الخندق (1)
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جنگِ بعاث کے وقت میری عمر چھ برس تھی اور یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پانچ سال پہلے کا ہے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو میں گیارہ سال کا تھا، مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اور لوگوں نے عرض کی: یہ قبیلہ خزرج کا ایک لڑکا ہے جس نے قرآن کی سولہ سورتیں پڑھ لی ہیں، مجھے غزوہ بدر اور احد میں (عمر کم ہونے کی بنا پر) شرکت کی اجازت نہیں ملی، تاہم غزوہ خندق میں شرکت کی اجازت دے دی گئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5888]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، إبراهيم بن محمد بن عبد الرحمن بن سعْد بن زُرارة مجهول العين لم يرو عنه غير محمد بن عمر - وهو الواقدي - وفي رواية يحيى بن عبد الله بن عبد الرحمن بن سعد بن زُرارة عن زيد بن ثابت مظنة الإرسال.» [ترقيم الرساله 5888] [ترقيم الشركة 5830]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 5888M1
قال ابن عُمر: وكان زيدُ بن ثابت يَكتُب الكِتابَين جميعًا: كتابَ العربية وكتابَ العِبْرانية، وأولُ مَشهدٍ شَهِدَه زيدُ بن ثابت مع رسول الله ﷺ الخَندقُ، وهو ابن خمس عشرة سنة، وكان فيمن يَنقُل الترابَ يومئذٍ مع المسلمين، فقال رسول الله ﷺ:"أما إنه نِعْمَ الغلامُ" وغلبتْه عَيناهُ يومئذٍ، فرقَدَ، فجاء عُمارةُ بن حَزْم، فأخذ سلاحَه وهو لا يَشعُر، فقال له رسولُ الله ﷺ:"يا أبا رُقَادٍ، نِمتَ حتى ذهب سِلاحُك" ثم قال رسولُ الله:"مَن له عِلمٌ بسِلاح هذا الغُلام؟"، فقال عُمارة بن حَزْم: أنا يا رسول الله أخذتُه فرَدَّه، فنهى رسولُ الله ﷺ أن يُروَّعَ المؤمنُ، وأن يُؤخذَ متاعُه لاعِبًا وجِدًّا. وكانت رايةُ بني مالك بن النَّجّار في تَبُوك مع عُمارة بن حَزْم فأدركَه رسولُ الله ﷺ فأخذَها منه، فدفعَها إلى زيد بن ثابت، فقال عُمارةُ: يا رسولَ الله، بَلَغَك عني شيءٌ؟ قال:"لا، ولكن القُرآنَ يُقدَّم، وكان زيدٌ أكثرَ أخْذًا منك للقُرآن" (1)
ابن عمر سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ عربی اور عبرانی دونوں تحریریں لکھ لیا کرتے تھے، اور پہلا غزوہ جس میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی وہ غزوہ خندق تھا جبکہ ان کی عمر پندرہ سال تھی، وہ اس دن مسلمانوں کے ساتھ مٹی اٹھا رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کتنا ہی اچھا لڑکا ہے۔“ اس دن ان کی آنکھ لگ گئی اور وہ سو گئے تو عمارہ بن حزم آئے اور ان کا اسلحہ اٹھا لیا جبکہ انہیں خبر نہ ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے بہت سونے والے (ابو رقاد)! تم سوئے رہے یہاں تک کہ تمہارا اسلحہ چلا گیا“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس لڑکے کے اسلحہ کے بارے میں کسی کو علم ہے؟“ عمارہ بن حزم نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ میرے پاس ہے، پھر انہوں نے وہ واپس کر دیا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مومن کو ڈرانے اور مذاق یا سنجیدگی میں اس کا سامان لینے سے منع فرمایا۔ غزوہ تبوک میں بنو مالک بن نجار کا جھنڈا عمارہ بن حزم کے پاس تھا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے لے کر زید بن ثابت کو دے دیا، عمارہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ کو میری کوئی شکایت ملی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، لیکن قرآن کو مقدم رکھا جائے گا اور زید نے تم سے زیادہ قرآن حاصل کیا ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5888M1]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5888M1] [ترقيم الشركة 5830]
حدیث نمبر: 5888M2
قال ابن عُمر: ومات زيد بن ثابت، وابنُه إسماعيلُ صغيرٌ لم يَسمَع منه شيئًا. واختُلِف في وقت وفاته، قال ابن عُمر: والذي عندنا أنه مات بالمدينة سنة خمس وأربعين، وهو ابن ستٍّ وخمسين سنةً، وصلَّى عليه مروانُ بن الحَكَم (2) .
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا جب انتقال ہوا تو ان کے بیٹے اسماعیل چھوٹے تھے اور انہوں نے اپنے والد سے کچھ نہیں سنا۔ ان کی وفات کے وقت میں اختلاف ہے، ہمارے نزدیک وہ مدینہ منورہ میں سن 45 ہجری میں فوت ہوئے جبکہ ان کی عمر چھپن سال تھی اور مروان بن حکم نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5888M2]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5888M2] [ترقيم الشركة 5830]
حدیث نمبر: 5889
أخبرنا بصحّتِه الحسنُ بن محمد بن إسحاق، حدثنا محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدثنا علي بن المَدِيني، قال: زيدُ بن ثابت بن الضحّاك بن زَيد بن لَوْذان بن عَمرو بن عبدِ عَوف بن غَنْم بن مالك بن النجّار، مات سنة أربع أو خمس وأربعين (3) .
علی بن مدینی سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی وفات سن 44 یا 45 ہجری میں ہوئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5889]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5889] [ترقيم الشركة 5831]