🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

590. نَهَى النَّبِيُّ أَنْ يُرَوَّعَ الْمُؤْمِنُ وَأَنْ يُؤْخَذَ مَتَاعُهُ لَاعِبًا وَجَدًّا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مومن کو ڈرانے اور اس کا سامان مذاق یا سنجیدگی میں لینے سے منع فرمایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5887
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، حدثنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا محمد بن عبد الله بن نُمير، قال: ومات أبو سعيد زيدُ بن ثابت بن الضحّاك سنةَ خمس وأربعين.
محمد بن عبداللہ بن نمیر فرماتے ہیں: ابوسعید زید بن ثابت ضحاک 45 ہجری کو فوت ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5887]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5888
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحَسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عُمر، حدثني إبراهيم بن محمد بن عبد الرحمن بن سَعْد بن زُرارة، عن يحيى بن عبد الله بن عبد الرحمن بن سعْد بن زُرَارة، قال: قال زيدُ بن ثابت: كانت وَقْعةُ بُعَاثٍ وأنا ابن ستِّ سنين، وكانت قبلَ هجرة رسول الله ﷺ بخمس سنين، فقَدِمَ رسولُ الله ﷺ المدينة وأنا ابن إحدى عشرةَ سنةً، وأُتي بي إلى رسول الله ﷺ، فقالوا: غُلامٌ من الخَزْرج قد قرأ ستَّ عشرةَ سُورةً، فلم أُجَزْ في بدرٍ ولا أُحُد، وأُجِزتُ في الخندق (1)
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب بعاث کا واقعہ رونما ہوا، اس وقت میری عمر 6 سال تھی، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پانچ برس پہلے کی ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، اس وقت میری عمر 11 سال تھی۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا گیا، لوگوں نے کہا: یہ خزرج سے تعلق رکھنے والا بچہ ہے، اس نے 16 سورتیں یاد کر رکھی ہیں۔ (سیدنا زید) کہتے ہیں: مجھے نہ تو جنگ بدر میں شریک ہونے کی اجازت ملی اور نہ ہی جنگ احد میں، البتہ جنگ خندق میں جانے کی اجازت مل گئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5888]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5888M1
قال ابن عُمر: وكان زيدُ بن ثابت يَكتُب الكِتابَين جميعًا: كتابَ العربية وكتابَ العِبْرانية، وأولُ مَشهدٍ شَهِدَه زيدُ بن ثابت مع رسول الله ﷺ الخَندقُ، وهو ابن خمس عشرة سنة، وكان فيمن يَنقُل الترابَ يومئذٍ مع المسلمين، فقال رسول الله ﷺ:"أما إنه نِعْمَ الغلامُ" وغلبتْه عَيناهُ يومئذٍ، فرقَدَ، فجاء عُمارةُ بن حَزْم، فأخذ سلاحَه وهو لا يَشعُر، فقال له رسولُ الله ﷺ:"يا أبا رُقَادٍ، نِمتَ حتى ذهب سِلاحُك" ثم قال رسولُ الله:"مَن له عِلمٌ بسِلاح هذا الغُلام؟"، فقال عُمارة بن حَزْم: أنا يا رسول الله أخذتُه فرَدَّه، فنهى رسولُ الله ﷺ أن يُروَّعَ المؤمنُ، وأن يُؤخذَ متاعُه لاعِبًا وجِدًّا. وكانت رايةُ بني مالك بن النَّجّار في تَبُوك مع عُمارة بن حَزْم فأدركَه رسولُ الله ﷺ فأخذَها منه، فدفعَها إلى زيد بن ثابت، فقال عُمارةُ: يا رسولَ الله، بَلَغَك عني شيءٌ؟ قال:"لا، ولكن القُرآنَ يُقدَّم، وكان زيدٌ أكثرَ أخْذًا منك للقُرآن" (1)
سیدنا ابن عمر فرماتے ہیں: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیک وقت دو زبانوں میں لکھا کرتے تھے، عربی اور عبرانی میں۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سب سے پہلے غزوہ خندق میں شرکت کی، اس وقت ان کی عمر 15 سال تھی۔ جنگ خندق کے موقع پر مٹی اٹھانے والوں میں یہ بھی شامل تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: یہ بچہ بہت اچھا ہے، اس دن ان پر نیند کا غلبہ ہو گیا تو وہ سو گئے، سیدنا عمارہ بن حزم آ کر ان کے ہتھیار لے گئے، لیکن ان کو کچھ پتا نہ چلا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابورقاد! تم سو گئے تھے اور تمہارے ہتھیار ہتھیا لئے گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بچے کے ہتھیاروں کا کسی کو پتا ہے؟ سیدنا عمارہ بن حزم رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا: کوئی مومن کسی مومن کو گھبراہٹ میں ڈالے اور یہ کہ اس کا مال و متاع ہنسی مذاق میں ہتھیا لے۔ سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ نے ان کا سامان سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا، غزوہ تبوک میں بنی مالک بن نجار کا علم سیدنا عمارہ بن حزم رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتا چلا تو آپ علیہ السلام نے علم ان سے لے کر سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا، سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میری کوئی شکایت آپ تک پہنچی ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا نہیں، ایسی بات نہیں ہے۔ بلکہ قرآن کو مقدم کیا جاتا ہے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ تم سے زیادہ اچھے طریقے سے قرآن کو محفوظ کرتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5888M1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5888M2
قال ابن عُمر: ومات زيد بن ثابت، وابنُه إسماعيلُ صغيرٌ لم يَسمَع منه شيئًا. واختُلِف في وقت وفاته، قال ابن عُمر: والذي عندنا أنه مات بالمدينة سنة خمس وأربعين، وهو ابن ستٍّ وخمسين سنةً، وصلَّى عليه مروانُ بن الحَكَم (2) .
ابن عمر کہتے ہیں: زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا جب انتقال ہوا تو اس وقت ان کے صاحبزادے سیدنا اسماعیل بہت چھوٹے تھے، انہوں نے ان سے کسی حدیث کا سماع نہیں کیا، اور ان کی وفات کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ ابن عمر کہتے ہیں: ہماری معلومات کے مطابق ان کی وفات 56 سال کی عمر میں سن 45 ہجری میں ہوئی۔ مروان بن حکم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5888M2]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں