🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. باب فِي أَمْرُكِ بِيَدِكِ
باب: عورت سے یہ کہنا کہ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2204
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأَيُّوبَ:" هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ بِقَوْلِ الْحَسَنِ فِي أَمْرُكِ بِيَدِكِ؟" قَالَ:" لَا، إِلَّا شَيْئًا حَدَّثَنَاهُ قَتَادَةُ، عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى ابْنِ سَمُرَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ". قَالَ أَيُّوبُ: فَقَدِمَ عَلَيْنَا كَثِيرٌ فَسَأَلْتُهُ. فَقَالَ: مَا حَدَّثْتُ بِهَذَا قَطُّ. فَذَكَرْتُهُ لِقَتَادَةَ، فَقَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّهُ نَسِيَ.
حماد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے ایوب سے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ کسی اور نے بھی «أمرك بيدك» کے سلسلہ میں وہی بات کہی ہے جو حسن نے کہی تو انہوں نے کہا: نہیں، مگر وہی روایت ہے جسے ہم سے قتادہ نے بیان کیا، قتادہ نے کثیر مولی ابن سبرہ سے کثیر نے ابوسلمہ سے ابوسلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ ایوب کہتے ہیں: تو کثیر ہمارے پاس آئے تو میں نے ان سے دریافت کیا، وہ بولے: میں نے تو کبھی یہ حدیث بیان نہیں کی، پھر میں نے قتادہ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: ہاں کیوں نہیں انہوں نے اسے بیان کیا تھا لیکن وہ بھول گئے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2204]
حماد بن زید نے بیان کیا کہ میں نے ایوب سے پوچھا: کیا آپ کو کسی کا علم ہے جو «أَمْرُكِ بِيَدِكِ» تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے۔ کی تفصیل میں حسن (بصری) کی طرح کہتا ہو؟ (ان کا بیان اگلی روایت میں آ رہا ہے۔) ایوب نے کہا: نہیں، مگر وہی جو ہم کو قتادہ نے بہ سند کثیر مولیٰ ابن سمرہ سے، ابوسلمہ سے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مانند بیان کیا۔ ایوب نے کہا: پھر کثیر مولیٰ ابن سمرہ ہمارے پاس آئے تو میں نے ان سے (اس روایت کے متعلق) پوچھا، تو انہوں نے کہا: میں نے یہ کبھی بیان نہیں کیا۔ پھر میں نے ان کی یہ بات قتادہ سے کہی تو انہوں نے کہا کہ بیان تو کیا ہے مگر بھول گئے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2204]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطلاق 3 (1178)، سنن النسائی/الطلاق 11(3439)، (تحفة الأشراف: 14992) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی کثیر لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1178) نسائي (3439)
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 83

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2205
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ الْحَسَنِ، فِي أَمْرُكِ بِيَدِكِ، قَالَ:" ثَلَاثٌ".
حسن سے «أمرك بيدك» کے سلسلہ میں مروی ہے کہ اس سے تین طلاق واقع ہو گی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2205]
قتادہ، جناب حسن بصری رحمہ اللہ سے بیان کرتے ہیں کہ «أَمْرُكِ بِيَدِكِ» تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے یہ تین طلاقیں ہوتی ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2205]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 14992، 18537) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «أمرك بيدك» کے معنی ہیں: تمہارا معاملہ تمہارے ہاتھ میں ہے، یعنی تمہیں اختیار ہے، بعض کے نزدیک اس سے ایک طلاق واقع ہوتی ہے، اور حسن بصری سے مروی ہے کہ اس سے تین طلاق واقع ہو گی، لیکن ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ حدیث نمبر (۲۲۰۳) سے معلوم ہوا کہ کچھ واقع نہیں ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (2204)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 83

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں