🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

607. حُبَابُ بْنُ الْمُنْذِرِ كَانَ مِنْ ذَوِي الرَّأْيِ
سیدنا حباب بن منذر رضی اللہ عنہ رائے اور تدبیر والے صحابی تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5917
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا أبو عُلَاثة، حدثنا أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، عن أبي الأسود، عن عُروة، فيمن شهد بدرًا مع رسول الله ﷺ من بني حَرَام بن كَعْب: الحُبَابُ بن المُنذِر بن الجَمُوح بن زيد بن حَرَام (2) .
عروہ کہتے ہیں: بنی حرام بن کعب کی جانب سے حباب بن منذر بن جموح بن زید بن حرام، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنگ بدر میں شریک ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5917]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5918
حدثني أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى المُزكِّي ﵁، حدثنا أبو العباس بن سعيد الحافظُ، حدثنا يعقوبُ بن يوسفَ بن زياد، حدثنا أبو حفصٍ الأَعشَى، أخبرني بَسّامٌ الصيرفي، عن أبي الطُّفيل الكِناني، أخبرني حُباب بن المُنذِر الأنصاري، قال: أشَرتُ على رسول الله ﷺ يومَ بدرٍ بخَصْلَتَين، فقَبِلَهما منّي، خرجتُ مع رسول الله له في غَزاة بدر، فعَسْكَر خلفَ الماءِ، فقلتُ: يا رسول الله، أبوَحْيٍ فعلتَ أو برأيٍ؟ قال:"برأيٍ يا حُبابُ" قلتُ: فإنَّ الرأي أن تجعلَ الماءَ خَلْفَكَ، فإن لجأَتَ لجأتَ إليه، فقَبِلَ ذلك منّي (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5801 - حديث منكر وسنده
سیدنا حباب بن منذر انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ بدر کے موقع پر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو مشورے دیے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو ہی شرف قبولیت عطا فرمایا، ان میں سے ایک یہ ہے کہ میں جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کے کنویں سے پیچھے ہی لشکر کا پڑاؤ ڈال دیا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں پر پڑاؤ ڈالنے کے بارے میں وحی نازل ہوئی ہے یا آپ نے خود اپنی رائے سے یہ فیصلہ کیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اپنی رائے سے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم کنویں سے اگلی جانب پڑاؤ ڈالیں تو بہتر رہے، کہ کچھ پسپائی اختیار کرنا پڑی تو پھر بھی کنواں ہمارے ہاتھ میں رہے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس مشورے کو قبول فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5918]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5919
فحدثني أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحَسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، حدثنا ابن أبي حَبيبة، عن داود بن الحُصين، عن عكرمة، عن ابن عبّاس، قال: نزل جبريلُ ﵇ على رسول الله ﷺ فقال: الرأيُ ما أشارَ إليه الحُبَاب، فقال رسول الله ﷺ:"يا حُبَابُ، أَشَرْتَ بالرأيِ" (1)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5802 - حديث منكر وسنده
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا جبریل امین علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے اور کہا: بہتر تدبیر وہی ہے جو آپ کو حباب نے مشورہ دیا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حباب! تو نے اچھا مشورہ دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5919]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5920
حدثني أبو إسحاق المُزكِّي، حدثنا أبو العباس بن سعيد الحافظ، حدثنا يعقوب بن يوسف بن زياد الضَّبيِّ، حدثنا أبو حفص الأعشى، حدثنا بَسّام الصَّيْرَفي، عن أبي الطُّفيل الكِنَاني عن حُباب بن المنذر، قال: ونزل جبريلُ ﵇ على محمد ﷺ فقال: أيُّ الأمرين أحبُّ إليك: تكونُ في دُنياك مع أصحابِك، أو تَرِدُ على ربِّك فيما وَعَدَك من جناتِ النَّعِيم؛ من الحُورِ العِين والنَّعيم المُقِيم، وما اسْتَهَتْ نفسُك، وما قَرّت به عَينُك؟ فاستشارَ أصحابَه، فقالوا: يا رسول الله، تكون معنا أحبُّ إلينا، وتُخبِرُنا بعَوْراتِ عَدوّنِا، وتَدعُو الله لينصُرَنا عليهم، وتُخبِرُنا من خَبرِ السماء، فقال رسول الله ﷺ:"ما لكَ لا تَتكلّمُ يا حُبَابُ؟" فقلت: يا رسول الله، اختَرْ حيثُ اختارَ لك ربُّك، فقَبِل ذلك مِنّي (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5803 - حديث منكر وسنده
حباب بن منذر فرماتے ہیں: سیدنا جبریل امین علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی: آپ ان دو امور میں سے کس کو زیادہ پسند کرتے ہیں * اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دنیا میں رہیں۔ * اپنے رب کی بارگاہ میں آ جائیں جہاں آپ کو وہ تمام نعمتیں میسر ہوں گی جن کا آپ سے وعدہ کیا گیا ہے، یعنی جنت اور اس کی نعمتیں، حورعین، ہمیشہ کی نعمتیں، اور ہر وہ چیز جس کو دل چاہے، اور وہ چیزیں جن سے تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں اپنے اصحاب سے مشورہ کیا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تو یہی زیادہ پسند ہے کہ آپ ہمارے درمیان رہیں، آپ دشمنوں کی خفیہ سازشوں کے بارے میں ہمیں بتا دیتے ہیں، فتح کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہمارے لئے دعا کرتے ہیں، اور آپ ہمیں آسمان کی خبریں دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدنا حباب رضی اللہ عنہ کی جانب دیکھ کر فرمایا) اے حباب! تمہیں کیا بات ہے، تم نے کوئی مشورہ نہیں دیا؟ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ وہی اختیار کریں جو آپ کے رب نے آپ کے لئے اختیار کیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے مشورے کو قبول کر لیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5920]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں