🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
607. حباب بن المنذر كان من ذوي الر أى
سیدنا حباب بن منذر رضی اللہ عنہ رائے اور تدبیر والے صحابی تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5918
حدثني أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى المُزكِّي ﵁، حدثنا أبو العباس بن سعيد الحافظُ، حدثنا يعقوبُ بن يوسفَ بن زياد، حدثنا أبو حفصٍ الأَعشَى، أخبرني بَسّامٌ الصيرفي، عن أبي الطُّفيل الكِناني، أخبرني حُباب بن المُنذِر الأنصاري، قال: أشَرتُ على رسول الله ﷺ يومَ بدرٍ بخَصْلَتَين، فقَبِلَهما منّي، خرجتُ مع رسول الله له في غَزاة بدر، فعَسْكَر خلفَ الماءِ، فقلتُ: يا رسول الله، أبوَحْيٍ فعلتَ أو برأيٍ؟ قال:"برأيٍ يا حُبابُ" قلتُ: فإنَّ الرأي أن تجعلَ الماءَ خَلْفَكَ، فإن لجأَتَ لجأتَ إليه، فقَبِلَ ذلك منّي (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5801 - حديث منكر وسنده
سیدنا حباب بن منذر انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ بدر کے موقع پر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو مشورے دیے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو ہی شرف قبولیت عطا فرمایا، ان میں سے ایک یہ ہے کہ میں جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کے کنویں سے پیچھے ہی لشکر کا پڑاؤ ڈال دیا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں پر پڑاؤ ڈالنے کے بارے میں وحی نازل ہوئی ہے یا آپ نے خود اپنی رائے سے یہ فیصلہ کیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اپنی رائے سے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم کنویں سے اگلی جانب پڑاؤ ڈالیں تو بہتر رہے، کہ کچھ پسپائی اختیار کرنا پڑی تو پھر بھی کنواں ہمارے ہاتھ میں رہے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس مشورے کو قبول فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5918]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5918 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده واهٍ من أجل أبي حفص الأعشى - وهو عمرو بن خالد - فهو متروك الحديث، وقال ابن حبان: يروي الموضوعات عن الثقات، والراوي عنه يعقوب بن يوسف لا يُعرف. وقال الذهبي في "تلخيصه": حديث منكرٌ وسندُه. يعني وسنده منكر كذلك.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند ابو حفص الاعشی (عمرو بن خالد) کی وجہ سے "واہی" (نہایت کمزور) ہے، وہ "متروک الحدیث" ہیں اور ابن حبان نے کہا کہ وہ ثقہ راویوں سے من گھڑت روایات بیان کرتے ہیں۔ ان سے روایت کرنے والا یعقوب بن یوسف غیر معروف ہے۔ ذہبی نے "تلخیص" میں فرمایا: "حدیث منکر ہے اور اس کی سند بھی۔"
يغني عنه في شأن مشورة الحباب ما تقدم من المراسيل عند تخريج سابقه، ولا بأس بها.
📝 نوٹ / توضیح: حباب کے مشورے کے بارے میں وہ "مرسل" روایات کافی ہیں جو پچھلی حدیث کی تخریج میں گزر چکیں، اور ان میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہا)۔
أبو الطُّفيل الكناني: هو عامر بن واثلة، له رُؤية.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو الطفیل الکنانی سے مراد عامر بن واثلہ ہیں، انہیں شرفِ دیدار (رویت) حاصل ہے۔
وهذا الحديث والحديث الآتي برقم (5920) حديثٌ واحدٌ فرَّقهما المصنِّف.
📝 نوٹ / توضیح: یہ حدیث اور آگے نمبر (5920) پر آنے والی حدیث دراصل ایک ہی حدیث ہیں جنہیں مصنف نے الگ الگ کر دیا ہے۔