المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
647. فُتُوحَاتُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی فتوحات کا بیان
حدیث نمبر: 6005
حدثنا أبو بكر محمد بن داود بن سُليمان الزاهد، حدثنا عبد الله بن محمد بن قحْطَبة بن مرزوق الصِّلْحي بفَمِ الصِّلْح، حدثنا محمد بن نافع الكَرابِيسي البصري، حدثنا أبو عَتّاب سَهْل بن حمّاد، حدثنا أبو كعب صاحب الحَرير، عن عبد العزيز بن أبي بَكْرة، قال: كنا جلوسًا عند باب الصَّغير الذي في المسجد، يعني باب عَيْلان: أبو بَكْرة وأخوه نافع وشِبْل بن مَعْبَد، فجاء المغيرةُ بن شُعبة يمشي في ظِلال المسجد، والمسجدُ يومئذٍ من قَصَب، فانتهى إلى أبي بَكْرة فسلّم عليه، فقال له أبو بكرة: أيها الأمير، ما أخرجَك من دار الإمارة؟ قال: أتحدَّثُ إليكم، فقال له أبو بكرة: ليس لك ذاك، الأميرُ يجلسُ في داره، فيَبعَث إلى من يشاء، فيتحدّثُ معهم، قال: يا أبا بكرة، لا بأس بما أصنعُ، فدخل من باب الأصغر، حتى تقدَّم إلى باب أمّ جَميل امرأةٍ من قَيْس قال: وبين دَار أبي عبد الله (1) وبين دار المرأة طريقٌ، فدخل عليها، قال أبو بَكْرةَ: ليس لي على هذا صبرٌ، فبعث إلى غُلام له، فقال له: ارتَقِ غرفتي، فانظر من الكَوَّة، فانطلق فنظر، فلم يَلبَثْ أن رجع، فقال: وجدتُهما في لِحافٍ، فقال للقوم: قُوموا معي، فقاموا، فبدأ أبو بكرةَ، فنظر فاستَرجَعَ، ثم قال لأخِيه: انظُرْ، فنظَر، قال: ما رأيتَ؟ قال: الزِّنى مَحْضًا، ثم قال: يا شِبْلُ انظُرْ، فنظر، قال: ما رأيتَ؟ قال: رأيتُ الزِّنى مَحْضًا، قال: أُشْهِدُ الله عليكم؟ قالوا: نعم، قال: فانصرفَ إلى أهلِه، وكَتَب إلى عمر بن الخطاب بما رأى، فأتاهُ أمرٌ فَظِيعٌ، صاحبُ رسول الله ﷺ، فلم يَلبَثْ أن بعث أبا موسى الأشعري أميرًا على البصرة، فأرسل أبو موسى إلى المُغيرة: أن أقِمْ ثلاثةَ أيام أنت فيها أميرُ نفسِك، فإذا كان يومُ الرابع، فارتحِلْ أنت وأبو بَكْرة وشُهودُه، فيا طُوبَى لك إن كان مَكذوبًا عليك، ووَيلٌ لك إن كان مَصدوقًا عليك. فارتَحَلَ القومُ أبو بَكْرة وشُهودُه والمُغيرةُ بن شُعبة، حتى قَدِموا المدينةَ على أمير المؤمنين فقال هاتِ ما عندَك يا أبا بَكْرة، قال: أشهَدُ أني رأيتُ الزنى مَحْضًا، ثم قَدَّموا أبا عبد الله أخاهُ، فَشَهِدَ: إني رأيت الزنى محضًا، ثم قَدَّموا شِبْلَ بنَ مَعِبَد البَجَلي، فسأله، قال: أشهدُ أني قد رأيتُ الزنى مَحْضًا، ثم قدَّموا زيادًا، فقال: ما رأيتَ؟ فقال: رأيتُهما في لِحافٍ، وسمعتُ نَفَسًا عاليًا، ولا أدري ما وراءَ ذلك، فكبَّر عمرُ، وفَرِحَ إذ نَجَا المُغيرةُ، وضربَ القومَ إلَّا زيادًا (1) . قال: كان أميرُ المؤمنين عمر بن الخطاب ولَّى عُتبةَ بن غَزْوان البصرةَ، فَقَدِمَها سنةَ ستَّ عشرةَ، وكانت وفاتُه في سنة تسعَ عشرةَ، وكان عُتبة يكره ذلك، ويدعُو الله أن يُخلِّصه منها، فسَقَط عن راحِلَته في الطريق، فمات ﵀، ثم كان من أمرِ المُغيرةِ ما كان (2) .
عبدالعزیز بن ابی بکرہ فرماتے ہیں: ہم لوگ مسجد میں باب غیلان کے قریب بیٹھے ہوئے تھے، ابوبکرہ، ان کے بھائی نافع، اور شبل بن معبد بھی وہاں موجود تھے، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ مسجد کے سائے میں چلتے ہوئے آئے، ان دنوں مسجد کی چھت گھاس پھوس کی تھی، وہ ابوبکرہ کے پاس پہنچے، ان کو سلام کیا، ابوبکرہ نے جواب دینے بعد پوچھا: اے امیرالمومنین! آپ دارالامارۃ سے باہر کیوں آئے؟ انہوں نے کہا: میں تم لوگوں سے کچھ بات چیت کرنا چاہتا تھا۔ ابوبکرہ نے کہا: ایسا کرنا آپ کی شان کے لائق نہیں ہے، بلکہ ہونا یوں چاہیے کہ امیرالمومنین اپنے دارالامارۃ میں موجود رہیں اور جس کو چاہیں، اس کو اپنے پاس بلائیں اور اپنے دارالامارۃ میں اس سے بات چیت کریں۔ مغیرہ بن شعبہ نے کہا: میں جو کر رہا ہوں اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ کہتے ہوئے وہ چھوٹے دروازے سے داخل ہو گئے، اور قبیلہ قیس سے تعلق رکھنے والی خاتون ام جمیل کے دروازے پر پہنچ گئے، ابوعبداللہ اور اس خاتون کے مکان کے درمیان ایک چھوٹی گلی تھی۔ مغیرہ بن شعبہ اس خاتون کے گھر چلے گئے، ابوبکرہ کہنے لگے: مجھ سے اس بات پر صبر نہیں ہو رہا۔ انہوں نے اپنے لڑکے کو بھیجا اور کہا کہ میرے گھر کی کھڑکی میں چڑھ جاؤ اور روشن دان سے دیکھو، وہ لڑکا گیا اور دیکھ کر بہت جلد واپس آ گیا اور آ کر کہنے لگا: میں نے دونوں کو ایک لحاف میں دیکھا ہے، ابوبکرہ نے دوسرے لوگوں سے کہا کہ تم بھی میرے ساتھ چلو، یہ سب لوگ دیکھنے چلے گئے، سب سے پہلے ابوبکرہ نے دیکھا، دیکھ کر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا، پھر اپنے بھائی سے کہا: تم بھی دیکھو، انہوں نے دیکھا تو ابوبکرہ نے پوچھا: تم نے کیا دیکھا؟ انہوں نے کہا میں تو زنا دیکھ رہا ہوں، انہوں نے پھر کہا: شاید تمہیں کوئی شک ہو رہا ہے، دوبارہ دیکھو، انہوں نے دوبارہ دیکھا، ابوبکرہ نے پھر پوچھا: کیا دیکھا؟ انہوں نے کہا: میں زنا دیکھ رہا ہوں۔ ابوبکرہ نے کہا: میں تم سب کو اس پر گواہ بناتا ہوں، انہوں نے کہا: جی ہاں ہم گواہ بنتے ہیں۔ اس کے بعد ابوبکرہ اپنے گھر واپس آ گئے اور پورے واقعہ کے بارے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف ایک خط لکھا۔ صحابی رسول سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس پر بہت پریشان ہوئے اور آپ نے بہت جلد سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو بصرہ کا گورنر بنا کر بھیج دیا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ کی جانب پیغام بھیجا کہ تم تین دن تک معطل رہو گے اور چوتھے دن تم، ابوبکرہ اور تمام گواہ یہاں سے امیرالمومنین کے پاس چلے جاؤ، کتنا ہی اچھا ہو کہ ان لوگوں کی باتیں تمہارے بارے میں سب جھوٹ ثابت ہوں، اور کتنا ہی برا ہو گا اگر آپ پر لگا ہوا الزام سچا ثابت ہو، وہ لوگ، ابوبکرہ اور تمام گواہ اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ وہاں سے چل پڑے اور مدینہ منورہ میں امیرالمومنین کے پاس آ پہنچے، امیرالمومنین رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوبکرہ! تمہارے پاس جو معلومات ہیں وہ بیان کرو، ابوبکرہ نے کہا: میں نے شادی شدہ لوگوں کو زنا میں مبتلا دیکھا، پھر انہوں نے ان کے بھائی ابوعبداللہ کو پیش کیا، انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے شادی شدہ کو زنا کرتے ہوئے دیکھا ہے، پھر انہوں نے شبل بن معبد کو پیش کیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے بھی پوچھا تو انہوں نے بھی اسی طرح گواہی دی، پھر انہوں نے زیاد کو پیش کیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: تم نے کیا دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے ان دونوں کو ایک ہی لحاف میں دیکھا ہے اور ان کو اونچے اونچے سانس لیتے ہوئے سنا ہے، لیکن لحاف کے اندر کیا ہو رہا تھا مجھے اس کا پتا نہیں ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہا اور خوش ہو گئے کیونکہ سیدنا مغیرہ پر الزام ثابت نہیں ہو سکا تھا اور قوم نے زیاد کو ہی برا بھلا کہا۔ امیرالمومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن غزوان کو بصرہ کا گورنر بنایا تھا۔ 16 ہجری کو انہوں نے یہ ذمہ داری سنبھالی لیکن اگلے ہی سال 17 ہجری کو ان کی وفات ہو گئی۔ سیدنا عتبہ گورنری کو برا سمجھتے تھے اور اس سے چھٹکارے کی دعا مانگا کرتے تھے، وہ ایک دفعہ کہیں جاتے ہوئے راستے میں سواری سے گر گئے اور فوت ہو گئے، اس کے بعد سیدنا مغیرہ کا واقعہ پیش آیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6005]
حدیث نمبر: 6006
حدثنا أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا محمد بن يحيى بن سليمان، حدثنا أحمد بن محمد بن بن أيوب، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن محمد بن إسحاق، قال: فُتِحَت مصرُ سنةَ عشرين، وفيها كان فتحُ الفُرات عَنْوةً، وقيل: افتَتَحها المغيرةُ بن شُعبة، وكان استخلفه عُتْبةُ بن غَزْوانَ وتَوجَّه إلى عُمر، وأمَّر عمرُ المغيرةَ بن شُعبة على البصرة، وكتب إليه بعَهْده، فكان من أمْرِه وأمْرِ أم جَميل القَيسِيّة ما كان.
محمد بن اسحاق کہتے ہیں: مصر سن 29 ہجری کو فتح ہوا، اسی سال فرات جہاد کے ساتھ فتح ہوا۔ بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے اس کو فتح کیا تھا، عتبہ بن غزوان نے ان کو وہاں اپنا نائب بنایا تھا، وہ بعد میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو بصرہ کا گورنر بنایا۔ اس کے بعد ان کے ساتھ خط و کتابت بھی ہوتی رہی، اس کے بعد ان کا اور ام جمیل کا معاملہ پیش آیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6006]
حدیث نمبر: 6007
فحدثني الزُّبير بن عبد الله (1) البغدادي، حدثنا محمد بن حمّاد، حدثنا محمد بن أبي السَّرِيّ، حدثنا هشام بن الكَلْبي، حدثني عبد الرحمن بن سعيد الكِنْدي، قال: شَهِدْنا جِنازةَ المُغيرة بن شعبة، فلما دُلَّي فِي حُفرتِه إِذا رَاكِبٌ وَقَفَ علينا، فقال: مَن هذا المَرمُوس؟ فقلنا: أميرُ الكوفة المغيرةُ بن شُعبة، فوالله ما نَهْنَه أن قال: أَرَسْمَ دِيارٍ للمغيرةِ (2) تَعرِفُ … عليه زَوَاني الجِنِّ وَالإِنسِ تَعزِفُ فإن كُنتَ قد لاقَيتَ هامانَ بعدَنا … وفِرعونَ فَاعلَمْ أَنَّ ذَا العَرْشِ يُنصِفُ قال: فأقبَلَ عليه الثَّقفيُّون يشتُمُونه، فوالله ما أدري أيَّ طريق أخَذَ. وكانت ولايةُ المغيرة بن شُعبة الكوفةَ سبعَ سِنينَ (1) .
عبدالرحمن بن سعید الکندی فرماتے ہیں: ہم سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شریک تھے، جب ان کو لحد میں اتارا جانے لگا تو ایک آدمی پکار کر بولا: یہ کفن میں لپٹا ہوا شخص کون ہے؟ ہم نے کہا: کوفہ کے امیر سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس نے فوراً یہ اشعار کہے۔ * کیا شہر مغیرہ بن شعبہ کے نام سے پہچانا جاتا ہے، اس کو تو انسان اور جنات سب جانتے ہیں۔ * اگر تو نے ہمارے بعد ہامان اور فرعون کو زندہ رکھا تو جان لے کہ عرش کا مالک انصاف ضرور کرے گا۔ راوی کہتے ہیں: لوگ اس کو برا بھلا کہنے لگے، خدا کی قسم مجھے نہیں معلوم کہ وہ کس گلی میں بھاگ گیا۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سات سال کوفہ کے گورنر رہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6007]
حدیث نمبر: 6008
حدثنا أبو محمد المُزَني، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، أخبرني عبد الحميد، حدثنا شَريك، عن زياد بن عِلَاقةَ سمعتُ جَريرًا يقول في جِنازة المغيرة بن شُعبة: استَغفِروا لأميرِكم؛ فإنه كان يُحبّ العافِيَة (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5895 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5895 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
زیاد بن علاقہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ کے جنازے میں جریر نے کہا: اپنے امیر کے لئے بخشش کی دعا کرو، کیوں کہ وہ عافیت کو بہت پسند کیا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6008]