المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
647. فتوحات المغيرة بن شعبة
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی فتوحات کا بیان
حدیث نمبر: 6007
فحدثني الزُّبير بن عبد الله (1) البغدادي، حدثنا محمد بن حمّاد، حدثنا محمد بن أبي السَّرِيّ، حدثنا هشام بن الكَلْبي، حدثني عبد الرحمن بن سعيد الكِنْدي، قال: شَهِدْنا جِنازةَ المُغيرة بن شعبة، فلما دُلَّي فِي حُفرتِه إِذا رَاكِبٌ وَقَفَ علينا، فقال: مَن هذا المَرمُوس؟ فقلنا: أميرُ الكوفة المغيرةُ بن شُعبة، فوالله ما نَهْنَه أن قال: أَرَسْمَ دِيارٍ للمغيرةِ (2) تَعرِفُ … عليه زَوَاني الجِنِّ وَالإِنسِ تَعزِفُ فإن كُنتَ قد لاقَيتَ هامانَ بعدَنا … وفِرعونَ فَاعلَمْ أَنَّ ذَا العَرْشِ يُنصِفُ قال: فأقبَلَ عليه الثَّقفيُّون يشتُمُونه، فوالله ما أدري أيَّ طريق أخَذَ. وكانت ولايةُ المغيرة بن شُعبة الكوفةَ سبعَ سِنينَ (1) .
عبدالرحمن بن سعید الکندی فرماتے ہیں: ہم سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شریک تھے، جب ان کو لحد میں اتارا جانے لگا تو ایک آدمی پکار کر بولا: یہ کفن میں لپٹا ہوا شخص کون ہے؟ ہم نے کہا: کوفہ کے امیر سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس نے فوراً یہ اشعار کہے۔ * کیا شہر مغیرہ بن شعبہ کے نام سے پہچانا جاتا ہے، اس کو تو انسان اور جنات سب جانتے ہیں۔ * اگر تو نے ہمارے بعد ہامان اور فرعون کو زندہ رکھا تو جان لے کہ عرش کا مالک انصاف ضرور کرے گا۔ راوی کہتے ہیں: لوگ اس کو برا بھلا کہنے لگے، خدا کی قسم مجھے نہیں معلوم کہ وہ کس گلی میں بھاگ گیا۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سات سال کوفہ کے گورنر رہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6007]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6007 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) هكذا وقعت تسمية هذا الشيخ هنا: الزبير بن عبد الله، بتكبير اسم أبيه عبد الله، وكذلك جاء اسمه في إسناد خبر ذكره البيهقي في "شعب الإيمان" (10428) عن الحاكم، وخبر آخر ذكره الخطيب في "تاريخ بغداد" 8/ 362 عن رجل عن أبي عبد الله الحاكم أيضًا، وجاء كذلك مُسمًّى في خبر ذكره المزي في "تهذيب الكمال" 11/ 365، والذهبيّ في "سير أعلام النبلاء" 13/ 212 بتكبير اسم عبد الله، مع أنَّ الخطيب البغدادي لما ترجم لهذا الشيخ في "تاريخ بغداد" 9/ 495 سمَّى أباه عُبيد الله، مصغرًا، ونقل عن الحاكم أنه سماه بذلك، أي مصغرًا، وكذلك ترجم أبو نعيم في "تاريخ أصبهان" 1/ 323، والذهبي في "تاريخ الإسلام" 8/ 322 لهذا الشيخ فسمّيا أباه عُبيد الله، مصغرًا، فالله تعالى أعلم.
📝 نوٹ / توضیح: اس شیخ کا نام یہاں "زبیر بن عبداللہ" (باپ کا نام مکبر) آیا ہے، اور اسی طرح بیہقی کی "شعب الإيمان" (10428) میں حاکم کی روایت میں، اور خطیب کی "تاریخ بغداد" (8/ 362) میں حاکم سے مروی ایک خبر میں بھی یہی نام ہے۔ مزی نے "تہذیب الکمال" (11/ 365) اور ذہبی نے "سیر اعلام النبلاء" (13/ 212) میں بھی یہی نام (مکبر) ذکر کیا ہے۔ حالانکہ خطیب نے "تاریخ بغداد" (9/ 495) میں اس شیخ کا تعارف کراتے ہوئے باپ کا نام "عبیداللہ" (مصغر) لکھا ہے اور حاکم سے بھی یہی نقل کیا ہے۔ ابو نعیم نے "تاریخ اصبہان" (1/ 323) اور ذہبی نے "تاریخ الاسلام" (8/ 322) میں بھی ان کا تعارف "عبیداللہ" (مصغر) کے نام سے کرایا ہے۔ واللہ اعلم۔
(2) في (ز) و (ب): بالمغيرة.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں "بالمغیرہ" ہے۔
(1) إسناده تالف هشام بن الكلبي - وهو هشام بن محمد بن السائب - رافضي متروك، وشيخه لا يُعرف.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "تالف" (بالکل بیکار) ہے۔ ہشام بن الکلبی (ہشام بن محمد بن السائب) "رافضی" اور "متروک" ہیں، اور ان کا شیخ غیر معروف ہے۔
وأخرجه البَلاذُري في "أنساب الأشراف" 13/ 350 عن عباس بن هشام الكلبي، عن أبيه، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بلاذری نے "أنساب الأشراف" (13/ 350) میں عباس بن ہشام الکلبی سے اور انہوں نے اپنے والد سے اسی طرح روایت کیا ہے۔