المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
649. جُرْأَةُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ عِنْدَ الْمُلُوكِ
بادشاہوں کے سامنے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی جرأت
حدیث نمبر: 6013
حدثنا أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا الحسن بن علي بن شَبِيب المَعْمَري، حدثنا عبد الله بن حماد بن نُمير، حدثنا حُصَين بن نُمير، حدثني حُصَين بن عبد الرحمن، عن أبي وائل، قال: شَهِدتُ القادسيّةَ، فانطلَق المُغيرةُ بن شعبة، فلما دَنا من سَرِير رُستُم وَثَبَ فجلس معه على سَرِيرِه، فنَخَروا، فقال لهم المغيرةُ بن شعبة: مَا الذي تَفَزَعُون من هذا؟ أنا الآن أقومُ فأرجعُ إلى ما كنتُ عليه، ويَرجِعُ صاحبُكم إلى ما كان عليه، قالوا: أخبِرنا ما جاء بكم؟ فقال المغيرة: كنا ضُلّالًا، فبعث الله فينا نبيًّا فهدانا إلى دِينِه، ورَزَقَنا، فكان فيما رَزَقَنا حَبّةٌ تكون في بلادكم هذه، فلما أكلْنا منها وأطعَمْنا أهلَنا، قالوا: لا صَبْرَ لنا حتى تُنزِلُونا هذه البلادَ، قالوا: إذًا نَقتُلَكم، قال: إن قَتَلتُمونا دخلْنا الجَنَّةَ، وإن قتلناكم دخلتُم النارَ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5900 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5900 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
ابووائل سے روایت ہے کہ میں معرکہ قادسیہ میں موجود تھا، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ (رستم کی طرف) روانہ ہوئے، جب وہ رستم کے تخت کے قریب پہنچے تو جست لگا کر اس کے ساتھ تخت پر بیٹھ گئے، اس پر درباریوں نے حقارت سے غراہٹ کی آوازیں نکالیں، تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”تم اس بات سے کیوں گھبرا رہے ہو؟ میں ابھی اٹھ کر اپنی جگہ واپس چلا جاتا ہوں اور تمہارا یہ صاحب اپنی جگہ واپس آ جائے گا“، انہوں نے کہا: ہمیں بتاؤ کہ تم یہاں کیوں آئے ہو؟ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم گمراہ تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہم میں ایک نبی مبعوث فرمایا جس نے ہمیں اپنے دین کی طرف ہدایت دی اور ہمیں رزق عطا فرمایا، اس رزق میں ایک ایسا غلہ بھی شامل تھا جو تمہارے ان علاقوں میں پایا جاتا ہے، جب ہم نے اسے کھایا اور اپنے گھر والوں کو کھلایا تو انہوں نے کہا کہ ہمیں اس وقت تک چین نہیں آئے گا جب تک تم ہمیں ان علاقوں میں آباد نہیں کر دیتے“، انہوں نے کہا: تب تو ہم تمہیں قتل کر دیں گے، تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر تم نے ہمیں قتل کر دیا تو ہم جنت میں داخل ہو جائیں گے اور اگر ہم نے تمہیں قتل کر دیا تو تم آگ (جہنم) میں جاؤ گے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6013]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد ليِّن لجهالة حال عبد الله بن حماد بن نمير، وقد توبع أبو وائل: هو شقيق بن سلمة.» [ترقيم الرساله 6013] [ترقيم الشركة 5954] [ترقيم العلميه 5900]
الحكم على الحديث: خبر صحيح