المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
650. صداقة المغيرة بن شعبة بين الأعداء
دشمنوں کے درمیان بھی سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی دوستی
حدیث نمبر: 6013
حدثنا أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا الحسن بن علي بن شَبِيب المَعْمَري، حدثنا عبد الله بن حماد بن نُمير، حدثنا حُصَين بن نُمير، حدثني حُصَين بن عبد الرحمن، عن أبي وائل، قال: شَهِدتُ القادسيّةَ، فانطلَق المُغيرةُ بن شعبة، فلما دَنا من سَرِير رُستُم وَثَبَ فجلس معه على سَرِيرِه، فنَخَروا، فقال لهم المغيرةُ بن شعبة: مَا الذي تَفَزَعُون من هذا؟ أنا الآن أقومُ فأرجعُ إلى ما كنتُ عليه، ويَرجِعُ صاحبُكم إلى ما كان عليه، قالوا: أخبِرنا ما جاء بكم؟ فقال المغيرة: كنا ضُلّالًا، فبعث الله فينا نبيًّا فهدانا إلى دِينِه، ورَزَقَنا، فكان فيما رَزَقَنا حَبّةٌ تكون في بلادكم هذه، فلما أكلْنا منها وأطعَمْنا أهلَنا، قالوا: لا صَبْرَ لنا حتى تُنزِلُونا هذه البلادَ، قالوا: إذًا نَقتُلَكم، قال: إن قَتَلتُمونا دخلْنا الجَنَّةَ، وإن قتلناكم دخلتُم النارَ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5900 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5900 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
ابووائل بیان کرتے ہیں کہ ہم جنگ قادسیہ میں شریک ہوئے، اس میں سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ابن رستم کے پاس پہنچے، تو وہ تخت شاہی پر بیٹھا ہوا تھا، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک جست لگائی اور ابن رستم کے برابر تخت پر براجمان ہو گئے، لوگ یہ صورت حال دیکھ کر بہت خوف زدہ ہو گئے، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کس آدمی سے ڈر رہے ہو، یہ دیکھو، یہ میں ہوں، ہاں ہاں، میں ابھی کچھ ہی دیر میں یہاں سے اٹھ جاؤں گا اور اپنے مقام پر پہنچ جاؤں گا اور تمہارا ساتھی اپنے مقام پر۔ لوگوں نے دریافت کیا کہ تم کس مقصد کی خاطر یہاں آئے ہو؟ آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ہم لوگ گمراہی کی دلدل میں پھنسے ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف اپنا رسول بھیجا، اس نے ہمیں اللہ تعالیٰ کے دین کی تبلیغ فرمائی، اللہ پاک نے ہمیں رزق سے نوازا، اس کے عطا کردہ رزق میں سے وہ دانہ گندم بھی ہے جو تمہارے علاقے میں ہوتا ہے، جب ہم نے وہ دانہ کھایا اور اپنے گھر والوں کو کھلایا تو ہمارے گھر والوں نے کہا: ہمیں کھانے کے لئے یہی دانہ چاہیے، اس کے بغیر ہم صبر نہیں کر سکتے، آپ ہمیں اس علاقے میں لے جائیں جہاں پر یہ دانہ پایا جاتا ہے، لوگ کہنے لگے: اگر ہم تمہیں قتل کر دیں؟ ان لوگوں نے کہا: اگر تم ہمیں قتل کر دو گے تو ہم جنت میں جائیں گے اور اگر ہم تمہیں قتل کر دیں گے تو تم دوزخ میں جاؤ گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6013]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6013 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) خبر صحيح، وهذا إسناد ليِّن لجهالة حال عبد الله بن حماد بن نمير، وقد توبع أبو وائل: هو شقيق بن سلمة.
⚖️ درجۂ حدیث: خبر صحیح ہے، اور یہ سند عبداللہ بن حماد بن نمیر کی جہالت کی وجہ سے کمزور (لین) ہے، لیکن ان کی متابعت کی گئی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو وائل سے مراد شقیق بن سلمہ ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" 20/ (970) عن الحسن بن علي المَعْمري، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "المعجم الكبير" (20/ 970) میں حسن بن علی المعمری سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 12/ 562، والطبري في "تاريخه" 3/ 496 من طريق أبي عوانة الوضاح اليشكري، عن حُصين بن عبد الرحمن، به وإسناده صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (12/ 562) اور طبری نے "تاریخ" (3/ 496) میں ابو عوانہ الوضاح الیشکری کے طریق سے حصین بن عبدالرحمن سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه الطبري كذلك 3/ 525 من طريق عبيدة بن مُعتِّب الضبي، عن شقيق بن سلمة أبي وائل. وإسناده ضعيف.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے (3/ 525) میں عبیدہ بن معتب الضبی کے طریق سے شقیق بن سلمہ (ابو وائل) سے بھی روایت کیا ہے، اور اس کی سند ضعیف ہے۔
وأخرجه بنحوه دون قصة السرير البخاري (3159) من طريق جبير بن حَيّة بالقصة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے تخت کے قصے کے بغیر بخاری (3159) نے جبیر بن حیہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
(1) جاء في نسخنا الخطية: حدثني إياس بن معاوية، فأصبحت رواية الخبر لأبيه معاوية بن قرة، فصار الخبر مرسلًا، وإنما الخبر لقرة بن إياس المزني الصحابي متصلًا، والتصويب من "المعجم الكبير" للطبراني 20/ (861) حيث رواه عن جماعة عن أُميّة بن بِسْطام. وكذلك رواه خليفة بن خياط عن يزيد بن ذريع.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں "حدثني إياس بن معاوية" آیا ہے، جس سے یہ روایت ان کے والد معاویہ بن قرہ کی بن گئی اور خبر "مرسل" ہو گئی۔ حالانکہ یہ خبر قرہ بن ایاس المزنی صحابی سے "متصل" ہے۔ اس کی تصحیح طبرانی کی "المعجم الكبير" (20/ 861) سے کی گئی ہے جہاں انہوں نے امیہ بن بسطام سے روایت کرنے والی جماعت سے روایت کیا ہے۔ اسی طرح خلیفہ بن خیاط نے بھی یزید بن زریع سے روایت کیا ہے۔