المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
651. ذِكْرُ مَنَاقِبِ رُكَانَةَ بْنِ عَبْدِ يَزِيدَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ -
سیدنا رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 6014
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ ويحيى بن محمد العَنْبريُّ، قالا: حدثنا محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا أُميّة بن بِسْطامَ، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا حَجّاج الصَّوّاف، حدثني أبو إياسٍ معاويةُ (1) بن قُرّة، عن أبيه، قال: لما كان يومُ القادسيّة بُعِثَ بالمغيرة بن شعبة إلى صاحبِ فارسَ، فقال: ابعَثُوا معي عَشَرةً، فبعَثُوا، فَشَدّ عليه ثيابَه، ثم أخذ معه حَجَفَةً، ثم انطلَقَ حتى أتَوْه، فقال: ألقُوا لي تُرْسًا، فجلس عليه، فقال العِلْجُ: إنكم - مَعاشِرَ العرب - قد عَرفْتُ الذي حَمَلَكم على المَجيء إلينا، أنتم قومٌ لا تَجِدُون في بلادكم من الطعام ما تَشبَعون منه، فخُذُوا نُعطِيكُم من الطعام حاجَتَكم، فإنّا قومٌ مَجُوسٌ، وإنَّا نَكرَه قَتْلَكم، إنكم تُنجِّسون علينا أرضَنا، فقال المغيرةُ: والله ما ذاكَ جاء بنا، ولكنا كنا قومًا نَعبُد الحِجارةَ والأوثانَ، فإذا رأينا حَجَرًا أحسنَ من حَجَر القَيناهُ وأخذْنا غيرَه، ولا نَعرِفُ ربًّا، حتى بعثَ اللهُ إلينا رسولًا من أنفُسِنا، فدعانا إلى الإسلام فاتَّبَعْناه، ولم نَجِئْ للطعام، إنّا أُمِرنا بقتالِ عَدُوِّنا ممَّن تَرَك الإسلامَ، ولم نَجِئْ للطعام، ولكنا جئنا لنقتُلَ مُقاتِلتَكم، ونَسبِيَ ذَرَاريَّكم، وأما ما ذَكَرتَ من الطعام، فإنّا لَعَمْري ما نَجِدُ من الطعام ما نَشبَعُ منه، وربما لم نَجِدْ رِيًّا من الماء أحيانًا، فجئنا إلى أرضكم هذه فوجدنا فيها طعامًا كثيرًا وماءً كثيرًا، فوالله لا نَبرَحُها حتى تكون لنا أو لكم، فقال العِلْجُ بالفارسية: صَدَقَ، قال: وأنت تُفقأُ عَينُك غدًا، فَفُقِئَت عَينُه من الغدِ؛ أصابَتْه نُشّابةٌ (1) . غريب صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب رُكَانةَ بن عبد يزيدَ ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5901 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5901 - صحيح
ایاس بن معاویہ بن قرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جنگ قادسیہ کے موقع پر سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو فارس کے والی کی جانب بھیجا، انہوں نے کہا: انہوں نے میرے ساتھ 10 آدمی روانہ کئے، انہوں نے تمام رخت سفر باندھ لیا، پھر انہوں نے اپنی ڈھال پکڑی اور چل دئیے، جب یہ لوگ فارس کے والی کے دربار میں پہنچے تو سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میری ڈھال نیچے رکھو، پھر وہ اس کے اوپر بیٹھ گئے، فارس کے فرمانروا نے کہا:” علج “ بے شک تم عرب کے رہنے والے ہو، میں اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ تم لوگ یہاں کس لیے آئے ہو، (وہ وجہ یہ ہے کہ) اپنے علاقے میں پیٹ بھرنے کو کھانا نہیں ملتا، کوئی بات نہیں، ہم تمہاری یہ ضرویات پوری کریں گے۔ ہم مجوسی قوم ہیں، ہم تمہیں قتل کرنا مناسب نہیں سمجھتے، تم تو مجبور ہو کر ہمارے شہر میں آئے ہو، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خدا کی قسم! ہم اس وجہ سے تمہارے پاس نہیں آئے ہیں۔ بلکہ (اصل وجہ یہ ہے کہ) ہم وہ لوگ ہیں جو پتھروں اور بتوں کی پوجا کیا کرتے تھے، جب ہمیں کوئی دوسرا پتھر زیادہ اچھا لگتا تو ہم پہلا پتھر پھینک دیتے اور دوسرے کی پوجا شروع کر دیتے تھے، رب کی ہمیں کوئی پہچان نہ تھی، اللہ تعالیٰ نے ہمیں میں سے ایک رسول ہماری جانب بھیجا، اس نے ہمیں اسلام کی دعوت دی، ہم نے ان کی پیروی کی۔ ہم تم سے بھیک مانگنے نہیں آئے ہیں۔ بلکہ ہم تو یہ پیغام لے کر آئے ہیں کہ جو ہمارا دشمن ہماری اسلام کی دعوت کو قبول نہ کرے ہم اس کے ساتھ قتال کریں۔ ہم بھیک مانگنے نہیں آئے ہیں بلکہ اس لئے آئے ہیں کہ تمہارے فوجیوں کے ساتھ جہاد کریں، تمہاری اولادوں کو قیدی بنائیں۔ اور تم نے یہ جو بات کی ہے کہ ہم بھیک مانگنے آئے ہیں تو سن! خدا کی قسم، ہمیں اتنا کھانا میسر نہیں ہے کہ ہم اس سے سیر ہو جائیں۔ بلکہ کئی مرتبہ تو ہم پانی کے ایک گھونٹ کے لئے بھی ترس جاتے ہیں۔ ہم تمہاری سرزمین پر آئے ہم نے یہاں طعام بھی بہت اور پانی بہت پایا، خدا کی قسم ہم یہ سب کچھ اپنا کئے بغیر یہاں سے نہیں لوٹیں گے۔ اس نے فارسی زبان میں کہا۔ علج۔ اس کا معنی ہے ” صدق “ تو نے سچ کہا۔ اور تیری آنکھ ضائع ہو جائے۔ تو اگلے دن ان کی آنکھ میں ایک تیر لگا جس کی وجہ سے وہ ضائع ہو گئی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6014]