المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
680. التَّحَرُّزُ عَنِ الْبَوْلِ
پیشاب سے خوب بچنے (احتیاط کرنے) کا بیان
حدیث نمبر: 6076
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عفّان العامِريّ، حَدَّثَنَا حسن (4) بن عطية، حَدَّثَنَا يحيى بن سَلَمة بن كُهَيل، عن أبيه، عن محمد بن علي، عن ابن عبّاس قال: قال أبو موسى الأشعري: إنَّ عليًا أولُ من أسلَمَ مع رسول الله ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. والغَرَضُ في إخراجه براءةُ ساحةِ أبي موسى من نَقْصٍ عليٍّ، ثم روايةُ ابن عبّاس عنه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. والغَرَضُ في إخراجه براءةُ ساحةِ أبي موسى من نَقْصٍ عليٍّ، ثم روايةُ ابن عبّاس عنه.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کو درج کرنے کا مقصد یہ ثابت کرنا تھا کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کبھی بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں کمی نہیں کی۔ اور یہ بھی کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے حدیث روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6076]
حدیث نمبر: 6077
فحدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بَكّار بن قُتَيبة القاضي، حَدَّثَنَا أبو داود، حَدَّثَنَا شُعبة، عن أبي التَّيَّاح قال: سمعتُ رجلًا أسودَ كان مع ابن عبّاس بالبصرةِ حدَّث بأحاديثَ عن أبي موسى الأشعري عن النَّبِيِّ ﷺ، فكَتَبَ إليه ابن عبّاس يسأله عنها، فكتب إليه الأشعريُّ: إنك رجلٌ من أهل زمانك، وإنِّي لم أُحدَّثْ عن النَّبِيّ ﷺ منها بشيءٍ، إلَّا أَنِّي كنتُ مع النَّبِيّ ﷺ فأرادَ أن يَبُول، فقام إلى دَمِثِ (2) حائطٍ هناك، وقال:"إنَّ بني إسرائيل كان إذا أصابَ أحدَهم البولُ قَرَضَه بالمِقْراض، فإذا أرادَ أحدُكم أن يبولَ فلَيْرتَدْ لِبَولِه" (3) .
هذا حديثٌ صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5964 - صحيح
هذا حديثٌ صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5964 - صحيح
ابوالتیاح فرماتے ہیں: بصرہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ہمراہ ایک سیاہ فام شخص ہوتا تھا، وہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کیا کرتا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی جانب ایک خط لکھا جس میں اس شخص کے بارے میں ان سے وضاحت طلب کی (کہ یہ شخص آپ کے حوالے سے بہت احادیث بیان کرتا ہے آپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے جوابی مکتوب میں لکھا: بے شک آپ اپنے زمانے کے لوگوں کو بہتر جانتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے صرف یہی ایک حدیث (اس کو) بیان کی ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کرنے کا ارادہ فرمایا تو آپ وہاں قریب ایک دیوار کے ساتھ نرم ریتلی زمین پر گئے، (اور وہاں پیشاب کیا اور بعد میں) فرمایا: بنی اسرائیل کے کسی فرد کے جسم پر نجاست لگ جاتی تو ان کو اپنا جسم قینچیوں کے ساتھ کاٹنا پڑتا، اس لئے جب تم پیشاب کرنا چاہو تو پیشاب کے لئے (کوئی نرم زمین والی جگہ) تلاش کرو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6077]