🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

680. التَّحَرُّزُ عَنِ الْبَوْلِ
پیشاب سے خوب بچنے (احتیاط کرنے) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6077
فحدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بَكّار بن قُتَيبة القاضي، حَدَّثَنَا أبو داود، حَدَّثَنَا شُعبة، عن أبي التَّيَّاح قال: سمعتُ رجلًا أسودَ كان مع ابن عبّاس بالبصرةِ حدَّث بأحاديثَ عن أبي موسى الأشعري عن النَّبِيِّ ﷺ، فكَتَبَ إليه ابن عبّاس يسأله عنها، فكتب إليه الأشعريُّ: إنك رجلٌ من أهل زمانك، وإنِّي لم أُحدَّثْ عن النَّبِيّ ﷺ منها بشيءٍ، إلَّا أَنِّي كنتُ مع النَّبِيّ ﷺ فأرادَ أن يَبُول، فقام إلى دَمِثِ (2) حائطٍ هناك، وقال:"إنَّ بني إسرائيل كان إذا أصابَ أحدَهم البولُ قَرَضَه بالمِقْراض، فإذا أرادَ أحدُكم أن يبولَ فلَيْرتَدْ لِبَولِه" (3) .
هذا حديثٌ صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5964 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بصرہ میں ان کے پاس ایک سیاہ فام شخص نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ احادیث بیان کیں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں خط لکھ کر اس بارے میں پوچھا، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب میں لکھا: ”بے شک تم اپنے زمانے کے (علمی اعتبار سے) بہترین شخص ہو، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان باتوں کے متعلق کچھ بیان نہیں کیا سوائے اس کے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کرنے کا ارادہ فرمایا تو ایک دیوار کے نیچے نرم مٹی والی جگہ پر تشریف لے گئے اور فرمایا: ”بنی اسرائیل کا یہ حال تھا کہ جب ان میں سے کسی کو پیشاب لگ جاتا تو وہ اسے قینچی سے کاٹ دیتے تھے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی پیشاب کرنے کا ارادہ کرے تو وہ پیشاب کے لیے (نرم) جگہ تلاش کر لیا کرے۔““
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6077]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: "فإذا أراد أحدكم أن يبول فليرتَدْ لبوله"، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الأسود الذي روى عنه أبو التياح.» [ترقيم الرساله 6077] [ترقيم الشركة 6019] [ترقيم العلميه 5964]

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله: "فإذا أراد أحدكم أن يبول فليرتَدْ لبوله"
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6078
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حَدَّثَنَا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة، حَدَّثَنَا بَدَلُ بن المحبَّر، حَدَّثَنَا شُعبة، عن عمرو بن مُرَّة، سمع أبا وائل يقول: شهدتُ أبا موسى الأشعريَّ وعمّارَ بن ياسر وأبا مسعودٍ البَدْريَّ، فسمعتُ أبا موسى وأبا مسعودٍ يقولان لعمّار: ما رأينا منك في الإسلام أمرًا أكرَهَ إلينا من تَسارُعِك في هذا الأمر، قال عمار: وأنا ما رأيتُ منكما منذ أسلمتما ما هو (1) أكرَهُ إليَّ من إبطائكما عنه. ثم خرجوا إلى المسجد جميعًا (2) .
ابووائل سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری، عمار بن یاسر اور ابومسعود بدری رضی اللہ عنہم کے پاس موجود تھا، میں نے ابوموسیٰ اور ابومسعود کو عمار سے یہ کہتے ہوئے سنا: ”ہم نے تمہارے اسلام لانے کے بعد تمہارے کسی معاملے کو اس (فتنے کے) معاملے میں تمہاری تیزی سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں پایا“، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”اور میں نے بھی تم دونوں کے اسلام لانے کے بعد سے تمہاری اس سستی اور تاخیر سے بڑھ کر کسی چیز کو ناپسند نہیں کیا“، پھر وہ سب مل کر مسجد کی طرف نکل گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6078]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو يحيى بن أبي مسرَّة: هو عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مسرة، وأبو وائل: هو شقيق. بن سلمة.» [ترقيم الرساله 6078] [ترقيم الشركة 6020]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں