🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

681. حُسْنُ قِرَاءَةِ أَبِي مُوسَى
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی خوش الحانی اور حسنِ قراءت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6078
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حَدَّثَنَا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة، حَدَّثَنَا بَدَلُ بن المحبَّر، حَدَّثَنَا شُعبة، عن عمرو بن مُرَّة، سمع أبا وائل يقول: شهدتُ أبا موسى الأشعريَّ وعمّارَ بن ياسر وأبا مسعودٍ البَدْريَّ، فسمعتُ أبا موسى وأبا مسعودٍ يقولان لعمّار: ما رأينا منك في الإسلام أمرًا أكرَهَ إلينا من تَسارُعِك في هذا الأمر، قال عمار: وأنا ما رأيتُ منكما منذ أسلمتما ما هو (1) أكرَهُ إليَّ من إبطائكما عنه. ثم خرجوا إلى المسجد جميعًا (2) .
سیدنا ابووائل فرماتے ہیں: میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ، اور سیدنا ابومسعود بدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا۔ میں نے سنا، سیدنا ابوموسیٰ اور سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہما سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے تھے، تم نے اس معاملہ میں جو جلد بازی کی ہے، ہم نے تمہاری شخصیت میں اس سے زیادہ ناپسندیدہ بات کوئی نہیں دیکھی۔ جواباً سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اور جب سے تم مسلمان ہوئے ہو میں نے تم دونوں میں اس معاملہ میں سستی سے زیادہ ناپسندیدہ بات کوئی نہیں دیکھی۔ اس کے بعد وہ تمام اصحاب مسجد کی جانب روانہ ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6078]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6079
حَدَّثَنَا أبو النَّضْر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدارمي، حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بن هشام الكوفي، حَدَّثَنَا خالد بن نافع الأشعري، عن سعيد بن أبي بُرْدة، عن أبي بُرْدة، عن أبي موسى قال: مرَّ النَّبِيُّ ﷺ بأبي موسى ذاتَ ليلةٍ ومعه عائشةُ، وأبو موسى يقرأ، فقاما فاستمعا لقراءتِه، ثم مَضَيا، فلما أصبَحَ أبو موسى وأتَى النَّبِيَّ ﷺ، قال النَّبِيُّ ﷺ:"مَرَرتُ بكَ يا أبا موسى البارحةَ وأنت تقرأُ، فاستَمَعْنا لِقراءتِكَ"، فقال أبو موسى: يا نبيَّ الله، لو علمتُ بمكانِكَ لحَبَّرتُ لك تحبيرًا (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5966 - صحيح
سیدنا ابوبردہ بن ابی موسیٰ فرماتے ہیں: ایک رات کا واقعہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ قرآن کریم کی تلاوت میں مصروف تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المومنین رضی اللہ عنہا ٹھہر کر ان کی تلاوت سننے لگ گئے، اور کچھ دیر بعد چلے گئے۔ جب صبح ہوئی اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اے ابوموسیٰ! گزشتہ رات میں تمہارے قریب سے گزرا تھا تم اس وقت تلاوت کر رہے تھے، ہم نے بہت غور سے تمہاری تلاوت سنی، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مجھے پتا چل جاتا کہ آپ میری تلاوت کو سن رہے ہیں تو میں اس سے بھی زیادہ خوبصورت لہجے میں تلاوت کرتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6079]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں