المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
693. مَرْثِيَّةُ زِيَادِ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ
سیدنا زیاد بن عبید انصاری کی مرثیہ خوانی
حدیث نمبر: 6111
فحدَّثني أبو الحسين محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله البَيْروتي، حَدَّثَنَا إبراهيم بن يعقوب الجُوزجاني، قال: مات زياد بن عُبيد أخو فَضالةَ بن عبيدُ بالكوفة، ودُفن بالثَّوِيّ، وكان يُكْنَى أبا المغيرة، فرَثَاه حارثةُ بن بَدْر (3) فقال: صلَّى الإلهُ على قبرٍ وطَهَّرهُ … عند الثَّوِيَّةِ يَسفِي فوقَه المُورُ زَفَّت إليه قريشٌ نَعشَ سيِّدِها … فالجُودُ والحزمُ فيه اليومَ مقبورُ أبا المُغيرةِ والدنيا مُفجَّعَةٌ … وإِنَّ مَن غرَّه الدُّنيا لَمغرورُ قد كان عندَكَ للمعروفِ معروفٌ … وكان عندكَ للنَّكراءِ تَنكيرُ وكنتَ تُغشَى وتُعطي المالَ من سَعَةٍ … إن كان بابُكَ أَضحَى وَهُوَ محجورُ والناسُ بعدَكَ قد خَفَّتْ حُلُومُهُمُ … كأَنَّها نَسَجَتْ فيها العصافيرُ (4) ذكرُ مناقب عبد الرحمن بن أبي بكر الصَّدِّيق ﵄
ابوالحسین محمد بن یعقوب الحافظ سے روایت ہے کہ سیدنا فضالہ بن عبید کے بھائی سیدنا زیاد بن عبید رضی اللہ عنہ کی وفات کوفہ میں ہوئی اور وہ ”ثوی“ کے مقام پر مدفون ہوئے، ان کی کنیت ابو مغیرہ تھی، پس حارثہ بن بدر نے ان کے تعزیتی اشعار پڑھتے ہوئے کہا: ”اللہ تعالیٰ اس قبر پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے اور اسے پاکیزگی عطا کرے جو مقامِ ثویہ پر واقع ہے جس پر مٹی اڑانے والی ہوائیں خاک ڈالتی ہیں۔ قریش نے اپنے سردار کے جنازے کو تیزی سے اس کی طرف بڑھایا، پس آج جود و سخا اور پختہ عزم اس قبر میں دفن کر دیے گئے ہیں۔ اے ابو مغیرہ! دنیا آپ کی جدائی پر غمزدہ ہے، اور یقیناً وہ شخص بہت بڑے دھوکے میں ہے جسے اس دنیا نے فریب دے رکھا ہے۔ آپ کے پاس نیکی کے بدلے نیکی کا بدلہ تھا اور منکرات کے لیے ناپسندیدگی و انکار تھا۔ لوگ آپ کے پاس کثرت سے آتے تھے اور آپ وسعت کے ساتھ مال عطا کرتے تھے، کاش کہ آپ کا وہ دروازہ جو اب (موت کے باعث) بند ہو چکا ہے وہ صبح کے وقت (سائلین کے لیے) کھلا ہوتا۔ آپ کے بعد لوگوں کی عقلیں اتنی ہلکی ہو چکی ہیں گویا ان کے دماغوں میں چڑیوں نے گھونسلے بن لیے ہوں۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6111]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6111] [ترقيم الشركة 6053]