🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

713. سُؤَالَاتُ الْيَهُودِيِّ وَجَوَابُ النَّبِيِّ
یہودی کے سوالات اور نبی کریم ﷺ کے جوابات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6153
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حَدَّثَنَا أبو حاتم الرازي. وحدثنا مُكرَمُ بن أحمد القاضي، حَدَّثَنَا أبو إسماعيل السُّلَمي؛ قالا: حَدَّثَنَا أبو تَوْبةَ الرَّبيعُ بن نافع الحَلَبي، حَدَّثَنَا معاوية بن سَلَّام، عن زيد بن سَلَّام أخبره، أنه سمع أبا سَلَّام، حدثني أبو أسماءَ الرَّحَبي، أَنَّ ثَوْبَانَ مولى رسول الله ﷺ حدَّثه قال: كنتُ واقفًا بين يَدَيْ رسولِ الله ﷺ، فجاءه حَبْرٌ من أحبار اليهود، فقال: السلامُ عليك يا محمد، فدَفَعتُه دَفعةً كاد يُصرَعُ منها، فقال: لِمَ تَدفعُني؟ فقلت: ألا تقولُ: يا رسول الله، فقال اليهودي: أمَا إِنَّا ندعوهُ باسمِه الذي سمَّاه به أهلُه، فقال رسول الله ﷺ:"إنَّ اسمي الذي سمَّاني به أهلي: محمَّدٌ"، قال اليهودي: جئتُ أسألُكَ، فقال رسول الله ﷺ:"أينفعُك إن حدَّثتُك؟" قال: أَسمَعُ بأُذُني، فنَكَتَ رسولُ الله ﷺ بعُودٍ، معه فقال:"سَلْ"، فقال اليهودي: أين يكونُ الناس يومَ تُبدَّلُ الأَرضُ غيرَ الأرض والسماواتُ؟ قال رسول الله ﷺ:"في الظُّلمة دونَ الجِسْر"، قال: فمَن أولُ الناس إجازةً؟ قال:"فقراءُ المهاجرين"، قال: فما تُحفَتُهم حين يدخلون الجنة؟ قال:"زيادةُ كَبِدِ النُّون"، قال: فما غداؤُهم في إِثْرِهِ؟ قال:"يُنحَر لَهم ثورُ الجنة الذي كان يَأكُل من أطرافِها"، قال: وشرابُهم عليه؟ قال:"نهرٌ فيها (1) يُسمَّى سلسبيلًا"، قال: صدقتَ. وجئتُ أسألُك عن شيءٍ لا يعلُمه أحدٌ من أهل الأرض إلَّا نبيٌّ أو رجلٌ أو رجلان، قال:"يَنفَعُكَ إِن حدَّثتُك؟" قال: أَسمَعُ بأُذُني، قال: جئتُ أسألُك عن الولد، قال:"ماءُ الرجل أبيَضُ، وماءُ المرأة أصفَرُ، فإذا اجتمعا فعَلَا مَنِيُّ الرجل مَنِيَّ المرأةِ أَذْكَرَ بإذن الله، وإذا عَلَا مَنِيُّ المرأة مَنِيَّ الرجل آنثَا (2) بإذن الله"، قال اليهودي: صدقتَ، وإنك لنبيٌّ، ثم انصرف، فقال رسول الله ﷺ:"لقد سأَلَني هذا عن الذي سألني عنه، ولا عِلْمَ لي بشيءٍ منه حتَّى أتانيَ اللهُ به" (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. ذكرُ مناقب حَكِيم بن حِزَام القرشي ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6039 - على شرط البخاري ومسلم
ابو اسماء رحبی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مولیٰ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا تھا کہ یہودیوں کے علماء میں سے ایک عالم آیا اور اس نے کہا: اے محمد! آپ پر سلامتی ہو، میں نے اسے اتنی زور سے دھکا دیا کہ وہ گرنے کے قریب ہو گیا، اس نے پوچھا: تم نے مجھے دھکا کیوں دیا؟ میں نے کہا: تم نے یا رسول اللہ کیوں نہیں کہا؟ یہودی نے کہا: ہم تو انہیں اسی نام سے پکارتے ہیں جو ان کے گھر والوں نے رکھا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً میرا وہ نام جو میرے گھر والوں نے رکھا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہی ہے۔ یہودی نے کہا: میں آپ سے کچھ پوچھنے آیا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں تمہیں بتا دوں تو کیا وہ تمہیں نفع دے گا؟ اس نے کہا: میں (جواب) اپنے کانوں سے سنوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک لکڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کریدنے لگے اور فرمایا: پوچھو، یہودی نے کہا: جس دن ﴿يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ﴾ [سورة إبراهيم: 48] زمین دوسری زمین سے اور آسمان بدل دیے جائیں گے تو اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ پل (صراط) سے پہلے اندھیرے میں ہوں گے، اس نے پوچھا: سب سے پہلے اس سے کون گزرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فقراء مہاجرین، اس نے پوچھا: جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو ان کی پہلی ضیافت کس چیز سے ہوگی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مچھلی کے جگر کے ٹکڑے سے، اس نے پوچھا: اس کے فوراً بعد ان کا کھانا کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے لیے جنت کا وہ بیل ذبح کیا جائے گا جو اس کے کناروں پر چرتا رہا ہے، اس نے پوچھا: اس پر ان کا پینا کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت کی ایک نہر سے جس کا نام سلسبیل ہے، اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا، پھر اس نے کہا: میں آپ سے ایک ایسی بات پوچھنے آیا ہوں جسے روئے زمین پر کوئی نہیں جانتا سوائے کسی نبی کے یا ایک یا دو آدمیوں کے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں بتا دوں تو کیا تمہیں نفع ہوگا؟ اس نے کہا: میں اسے غور سے سنوں گا، اس نے کہا: میں آپ سے بچے (کی تخلیق) کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرد کا پانی (مادہ منویہ) سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد ہوتا ہے، پس جب یہ دونوں جمع ہوتے ہیں اور مرد کا مادہ عورت کے مادے پر غالب آ جائے تو اللہ کے حکم سے لڑکا پیدا ہوتا ہے، اور جب عورت کا مادہ مرد کے مادے پر غالب آ جائے تو اللہ کے حکم سے لڑکی پیدا ہوتی ہے، یہودی نے کہا: آپ نے سچ فرمایا اور آپ بلاشبہ اللہ کے نبی ہیں، پھر وہ پیٹھ پھیر کر چلا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص نے مجھ سے جن باتوں کے بارے میں سوال کیا، مجھے ان کا کچھ علم نہیں تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے وہ علم مجھے عطا فرما دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6153]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو سلام: هو ممطور الأسود الحبشي، وهو والد معاوية وزيد ابني سلام المذكورين في السند، وأبو أسماء الرحبي: هو عمرو بن مرثد.» [ترقيم الرساله 6153] [ترقيم الشركة 6094] [ترقيم العلميه 6039]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں