المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
714. ذكر مناقب حكيم بن حزام القرشي - رضى الله عنه -
سیدنا حکیم بن حزام قرشی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 6153
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حَدَّثَنَا أبو حاتم الرازي. وحدثنا مُكرَمُ بن أحمد القاضي، حَدَّثَنَا أبو إسماعيل السُّلَمي؛ قالا: حَدَّثَنَا أبو تَوْبةَ الرَّبيعُ بن نافع الحَلَبي، حَدَّثَنَا معاوية بن سَلَّام، عن زيد بن سَلَّام أخبره، أنه سمع أبا سَلَّام، حدثني أبو أسماءَ الرَّحَبي، أَنَّ ثَوْبَانَ مولى رسول الله ﷺ حدَّثه قال: كنتُ واقفًا بين يَدَيْ رسولِ الله ﷺ، فجاءه حَبْرٌ من أحبار اليهود، فقال: السلامُ عليك يا محمد، فدَفَعتُه دَفعةً كاد يُصرَعُ منها، فقال: لِمَ تَدفعُني؟ فقلت: ألا تقولُ: يا رسول الله، فقال اليهودي: أمَا إِنَّا ندعوهُ باسمِه الذي سمَّاه به أهلُه، فقال رسول الله ﷺ:"إنَّ اسمي الذي سمَّاني به أهلي: محمَّدٌ"، قال اليهودي: جئتُ أسألُكَ، فقال رسول الله ﷺ:"أينفعُك إن حدَّثتُك؟" قال: أَسمَعُ بأُذُني، فنَكَتَ رسولُ الله ﷺ بعُودٍ، معه فقال:"سَلْ"، فقال اليهودي: أين يكونُ الناس يومَ تُبدَّلُ الأَرضُ غيرَ الأرض والسماواتُ؟ قال رسول الله ﷺ:"في الظُّلمة دونَ الجِسْر"، قال: فمَن أولُ الناس إجازةً؟ قال:"فقراءُ المهاجرين"، قال: فما تُحفَتُهم حين يدخلون الجنة؟ قال:"زيادةُ كَبِدِ النُّون"، قال: فما غداؤُهم في إِثْرِهِ؟ قال:"يُنحَر لَهم ثورُ الجنة الذي كان يَأكُل من أطرافِها"، قال: وشرابُهم عليه؟ قال:"نهرٌ فيها (1) يُسمَّى سلسبيلًا"، قال: صدقتَ. وجئتُ أسألُك عن شيءٍ لا يعلُمه أحدٌ من أهل الأرض إلَّا نبيٌّ أو رجلٌ أو رجلان، قال:"يَنفَعُكَ إِن حدَّثتُك؟" قال: أَسمَعُ بأُذُني، قال: جئتُ أسألُك عن الولد، قال:"ماءُ الرجل أبيَضُ، وماءُ المرأة أصفَرُ، فإذا اجتمعا فعَلَا مَنِيُّ الرجل مَنِيَّ المرأةِ أَذْكَرَ بإذن الله، وإذا عَلَا مَنِيُّ المرأة مَنِيَّ الرجل آنثَا (2) بإذن الله"، قال اليهودي: صدقتَ، وإنك لنبيٌّ، ثم انصرف، فقال رسول الله ﷺ:"لقد سأَلَني هذا عن الذي سألني عنه، ولا عِلْمَ لي بشيءٍ منه حتَّى أتانيَ اللهُ به" (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. ذكرُ مناقب حَكِيم بن حِزَام القرشي ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6039 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. ذكرُ مناقب حَكِيم بن حِزَام القرشي ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6039 - على شرط البخاري ومسلم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا تھا ایک یہودی عالم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا ” السلام علیک یا محمد “۔ میں نے اس کو اچانک زور دار دھکا دیا، اس نے پوچھا: تم نے مجھے دھکا کیوں دیا؟ میں نے کہا: تم ” یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں کہہ سکتے؟ یہودی نے کہا: ہم تو ان کو اسی نام سے پکاریں گے جو نام ان کے گھر والوں نے رکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے گھر والوں نے میرا نام ” محمد “ رکھا ہے۔ یہودی نے کہا: میں آپ سے کچھ پوچھنے کے لئے آیا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اگر میں تمہیں کچھ بتاؤں تو تمہیں اس کا کوئی فائدہ ہو گا؟ اس نے کہا: میں اپنے کانوں سے آپ کی بات سنوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکڑی کے ساتھ اس کو چوبھ ماری اور فرمایا: پوچھو! یہودی نے کہا: جس دن زمین آسمان ریزہ ریزہ ہو جائیں گے تو اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اندھیرے میں ہوں گے لیکن ابھی حشر قائم نہیں ہوا ہو گا۔ اس نے پوچھا: سب سے پہلے کس کو اجازت ملے گی؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فقراء مہاجرین کو۔ اس نے پوچھا: جس دن وہ جنت میں داخل ہوں گے تو ان کو سب سے پہلے کیا تحفہ دیا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: مچھلی۔ اس نے کہا: اس کے بعد ان کو کھانے کو کیا دیا جائے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے لئے جنتی بیل ذبح کیا جائے گا جس کے سری پائے وغیرہ دنیا میں کھایا کرتا تھا۔ اس نے پوچھا: ان کو پینے کیلئے کیا دیا جائے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک نہر ہے جس کا نام ” سلسبیل “ ہے۔ اس یہودی نے کہا: آپ نے سچ فرمایا: اور میں آپ سے ایک ایسی بات پوچھنے کے لئے آیا ہوں جو نبی کے علاوہ صرف ایک دو آدمی ہی جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں تمہیں اس کا جواب دے دوں تو کیا تمہیں اس کا کوئی فائدہ ہو گا؟ اس نے کہا: میں اپنے کانوں سے اس کو سنوں گا۔ اس نے کہا: میں بیٹے کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں (کہ ایک ہی میاں بیوی سے کبھی بیٹا پیدا ہوتا ہے اور کبھی بیٹی، اس کی وجہ کیا ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرد کا مادہ سفید رنگ کا ہوتا ہے اور عورت کا مادہ زرد رنگ کا ہوتا ہے تو جب یہ دونوں مادے جمع ہوتے ہیں تو اگر مرد کی منی عورت کی منی پر غالب آ جائے تو اللہ کے حکم سے لڑکا پیدا ہوتا ہے اور اگر عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آ جائے تو اللہ کے حکم سے لڑکی پیدا ہوتی ہے۔ یہودی نے کہا: آپ نے بالکل سچ فرمایا: بے شک آپ واقعی نبی ہیں، پھر وہ شخص چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص نے جتنی بھی باتیں پوچھی ہیں، ان سب کے جواب مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتائے جاتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6153]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6153 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) لفظة "فيها" من (ص) و (م)، ولم ترد في (ز) و (ب)، وهي ثابتة في رواية مسلم.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "فيها" نسخہ (ص) اور (م) میں ہے جبکہ (ز) اور (ب) میں نہیں، تاہم یہ صحیح مسلم کی روایت میں ثابت ہے۔
(2) كذا في (ز)، وفي (ص) و (م) و (ب): أنثى بالألف المقصورة، أما "أذكَرَ" فوقعت كذا بالإفراد في جميع النسخ الخطية التي بين أيدينا، لكن في مصادر التخريج جاءت الكلمتان متناسقتين، فوقع في بعضها: "أذكر" و "آنث" بالإفراد، وفي بعضها "أذكرا" و "آنثا" بالتثنية، والله تعالى أعلم.
📌 اہم نکتہ: نسخہ (ز) میں اسی طرح ہے جبکہ دیگر نسخوں میں "أنثیٰ" الف مقصورہ کے ساتھ ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ہمارے پاس موجود تمام قلمی نسخوں میں "أذكَرَ" واحد کے صیغے کے ساتھ ہے، مگر تخریج کے مصادر میں یہ دونوں الفاظ ہم آہنگ ہیں؛ یعنی یا تو دونوں واحد ہیں یا دونوں تثنیہ (أذكرا و آنثا) کے صیغے کے ساتھ ہیں۔ واللہ اعلم۔
(1) إسناده صحيح. أبو سلام: هو ممطور الأسود الحبشي، وهو والد معاوية وزيد ابني سلام المذكورين في السند، وأبو أسماء الرحبي: هو عمرو بن مرثد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ 📌 اہم نکتہ: ابو سلام سے مراد ممطور الاسود الحبشی ہیں جو سند میں مذکور معاویہ اور زید کے والد ہیں، اور ابو اسماء الرحبی سے مراد عمرو بن مرثد ہیں۔
وأخرجه مسلم (315) (34) عن الحسن بن علي الحلواني، عن أبي توبة الربيع بن نافع، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم (315/ 34) نے الحسن بن علی الحلواني کے طریق سے ابو توبہ الربیع بن نافع سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه مسلم (315)، والنسائي (9025)، وابن حبان (7422) من طرق عن معاوية بن سلام، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم، نسائی اور ابن حبان نے معاویہ بن سلام کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔
قوله: "فنكتَ" أي: خط بالعود في الأرض، وأثر به فيها، وهذا يفعله المفكِّر.
📝 نوٹ / توضیح: "نکت" کے معنی ہیں زمین پر لکڑی سے لکیریں کھینچنا یا اس پر نشان بنانا؛ عام طور پر گہری سوچ میں ڈوبا ہوا شخص ایسا کرتا ہے۔
وقوله: إجازة، بمعنى الجواز والعبور
📝 نوٹ / توضیح: "إجازۃ" کے معنی ہیں اجازت دینا یا پار کروانا (عبور)۔
والتحفة، بإسكان الحاء وفتحها: ما يهدى إلى الرجل ويخص به ويلاطف.
📝 نوٹ / توضیح: "تحفہ" (حاء کے سکون یا فتحہ کے ساتھ) اس ہدیے کو کہتے ہیں جو کسی شخص کو خاص طور پر عزت دینے یا خوش کرنے کے لیے دیا جائے۔
والنون: الحوت.
📝 نوٹ / توضیح: "النون" کے معنی ہیں "مچھلی"۔