🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

721. كَانَ رُوحُ الْقُدُسِ يُؤَيِّدُ حَسَّانَ
روح القدس (جبرئیل علیہ السلام) کا سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کی تائید فرمانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6177
أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حَدَّثَنَا الهيثم بن خالد، حَدَّثَنَا أبو نُعيم، حَدَّثَنَا عيسى بن عبد الرحمن، حدثني عَدِيُّ بن ثابت، عن البَرَاء بن عازب قال: قال رسول الله ﷺ لحسّان بن ثابت:"إِنَّ رُوحَ القُدُسِ معك ما هَاجَيتَهم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6062 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”بلاشبہ روح القدس (سیدنا جبرائیل علیہ السلام) تمہارے ساتھ ہیں جب تک تم (اشعار کے ذریعے) ان (مشرکین) کا مقابلہ کرتے رہو گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6177]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين، وعيسى بن عبد الرحمن: هو البجلي الكوفي.» [ترقيم الرساله 6177] [ترقيم الشركة 6117] [ترقيم العلميه 6062]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6178
أخبرني محمد بن إبراهيم بن الفضل المزكِّي، حَدَّثَنَا أحمد بن سَلَمة، حَدَّثَنَا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عَبْدة بن سليمان، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة قالت: استأذَنَ حسانُ بن ثابتٍ رسولَ الله ﷺ في هِجاء المشركين، فقال رسول الله ﷺ:"فكيف بنَسَبي فيهم؟" فقال حسان: لأَسُلَّنَّك منهم كما تُسَلُّ الشَّعرةُ من العَجين. قال هشام: قال أَبي: وذهبتُ أسبُّ حسانَ عند عائشة، فقالت: لا تسبَّ حسانَ، فإنه كان ينافحُ عن رسول الله ﷺ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه هكذا! إنما أخرجه مسلم (1) بطوله من حديث الليث عن خالد بن يزيد، وذكر فيه القصيدةَ بطولها: هَجَوتَ محمدًا وأجبتُ عنهُ … وعندَ اللهِ في ذاكَ الجزاءُ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6063 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی ہجو کرنے کی اجازت مانگی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (استفساراً) فرمایا: ”لیکن میرے نسب کا کیا ہوگا جو ان (قریش) میں موجود ہے؟“ حسان نے عرض کیا: ”میں آپ کو ان کے درمیان سے اس طرح (بسلامت) نکال لوں گا جیسے گندھے ہوئے آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے۔“ ہشام کہتے ہیں کہ میرے والد (عروہ) نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے حسان کو برا کہنا چاہا تو انہوں نے (منع کرتے ہوئے) فرمایا: ”حسان کو برا مت کہو کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا کرتے تھے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح (ان الفاظ میں) روایت نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے اسے طویل حدیث کے طور پر نقل کیا ہے جس میں مکمل قصیدہ بھی مذکور ہے: «هَجَوتَ مُحَمَّدًا فَأَجَبْتُ عَنْهُ، وَعِنْدَ اللهِ فِي ذَاكَ الْجَزَاءُ» ”تم نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ہجو کی اور میں نے اس کا جواب دیا، اور اللہ کے ہاں اس کا بہترین بدلہ موجود ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6178]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أحمد بن سلمة: هو النيسابوري الحافظ، وشيخه إسحاق: هو ابن راهويه.» [ترقيم الرساله 6178] [ترقيم الشركة 6118] [ترقيم العلميه 6063]

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں